سڑک کو مستقل ٹھکانہ بناناہے یا سیڑھی

(Zainab Arshad, Mandibahauddin)

بچپن میں مجھے گڑیوں کے ساتھ کھیلنا بہت پسند تھا۔ایک دفعہ میں اپنی والدہ کے ساتھ بازار کے لیے نکلی ، راستے میں ہمیشہ کی طرح فٹ پاتھ پر اس درمیانی شکل و صورت کے نوجوان کو دیکھا اور ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کے سامنے ایک بڑا سا ٹوکرا تھا جس میں بیچنے کے کے لیے اس نے فروٹ رکھا تھا ویسے تو ریڑھیوں والے اپنا سامان بیچنے کے لیے آوازیں لگاتے ہیں، لیکن وہ خاموشی سے ٹوکرا لیے بیٹھا تھا۔اسی طرح بازار میں داخل ہوتے ہی میں نے امی سے بولا کہ مجھے گڑیا خرید کر دیں اور امی مجھےایک ریڑھی والے ایک شخص کے پاس لے گئی جو کہ اس طرح کی گڑیا اور دوسری چیزیں بیچ رہا تھا، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت امی کے پاس اتنے پیسے نہیں تھےکہ وہ مجھے گڑیا خرید کے دیں لیکن میں ضد کرنے لگی تو ریڑھی والے نوجوان نے مجھے گڑیا دیتے ہوئے کہا ،ارے گڑیا تمہیں یہ گڑیا پسند ہے تم رکھ لو پیسوں کی کوئی بات نہیں بس میرے لیے دعا کرنا۔اسی طرح اس بازار میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکے کی ایک فروٹ چاٹ کی ریڑھی تھی۔ وہ بہت مزے دار فروٹ چاٹ بناتا تھا میری امی ہمیشہ سے کہا کرتی تھی بیٹا تو اتنی اچھی چاٹ بناتے ہو کوئی اپنی دکان کیوں نہیں بنا لیتے وہ ہمیشہ آگے سے جواب دیتا ضرور بناؤں گا آپ دعا کریں۔ آج دس سال بعد بھی جب میں بازار جاتی ہوں، جہاں اب لوگ وقت اور حالات سب بدل گئے ہیں لیکن وہ ٹوکرے والااور اور دونوں ریڑھی والے وہی کھڑے ہوتے ہیں۔ بہت سے بڑے اور کامیاب لوگ ہیں آج ،جنھوں نے شاید ریڑھی اور ڈھاپے لگا کر اپنا کاروبار شروع کیاتھا ، لیکن وہ ریڑھی یا فٹ پاتھ پر ٹوکرا ان کی منزل نہیں تھی بلکہ یہ تو ان کی منزل کی عمارت پر چڑھنے کےلیے سیڑھی کاایک step تھا بعد میں انہوں نے اپنی سیڑھی کے stepsخود بناۓ اور اس کو اپنی منزل کی جانب چڑھتے گیۓاور آخرکار اپنی منزل پر پہنچ گے۔نوجوانوں بیشک اپنا کاروبار بنانا اچھی اور خودمختاری والی بات ہے، لیکن اس کاروبار کو اس کے عروج پر لے جانا بھی ایک فن ہے اور یہ فن حالات اور اپنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئےہمیں خود سیکھنا ہے ۔آپ اپنا کاروبار ایک ریڑھی سے شروع کریں یاسڑک کنارے کسی ٹوکرے سے شروع کریں، اتنی کوشش اور محنت کریں کہ اس کو اس کے عروج پر لے کر جائیں۔ دعا کرنا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ محنت اور کوشش کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ میں نے تو ان کے لئے دعا کی تھی لیکن انہوں نے اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے کوشش نہیں کی کیونکہ وہ آج بھی یہ ھی کہتے ہیں کہ دعا کریں۔ یہ آپ پرانحصار کرتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ فٹ پاتھ پر بیٹھناہے یا اس کو سیڑھی بنانا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zainab Arshad

Read More Articles by Zainab Arshad: 4 Articles with 1117 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Apr, 2020 Views: 137

Comments

آپ کی رائے