کرونا وائرس کی وباء ،،،، پریشان حال سفید پوش میڈیا ورکروں کا پرسان کون؟؟؟

(Saeed Mazari, )

’’ اے ابنِ آدم ! ایک تیری چاہت ہے ایک میری چاہت ہے، توہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔ پس اگر تو کردے گا وہ جو میری چاہت ہے تو میں عطا کردوں گا وہ جو تیری چاہت ہے اور اگر تو کرے گا وہ جو تیری چاہت ہے تو میں تجھے تھکا دوں گا اس میں جو تیری چاہت ہے ،پھر بھی ہو گا وہی جو میری چاہت ہے‘‘۔ ( مفہوم حدیث قدسی)

آج کے جدید دور میں کرونا وائرس کی دنیا بھر میں تباہ کاریوں نے اس حدیث قدسی پر مہر ثبت کر دی، ترقی یافتہ ممالک جو خود کو دنیا کا ناخدا سمجھ بیٹھے تھے اور اپنی جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کے زعم میں دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک اور لوگوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے تھے اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ایک انتہائی حقیر اور عام آنکھ سے دکھائی تک نہ دینے والے ایک وائرس سے پوری دنیا کی بساط لپیٹ کر دکھا دی۔

اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اس ایک وائرس سے سب کچھ بدل کر رکھ دیا، انسان کو انسان سے تو دور کر ہی دیا اﷲ نے انسانی ذہنوں میں اس معمولی سے وائرس کا ایسا خوف ڈال دیا کہ ہر فرد اپنے ہی سائے سے بھی ڈر رہا ہے۔ تادم تحریر دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اکیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب لوگ اپنی جانوں سے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ کم ہونے کی بجائے ہر آنیوالے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ دنیا کا روبار ٹھپ ہو گیا، بازار، مارکیٹیں، سڑکیں سب ویران ہو گئے ہر طرف خوف کے بادل اور گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا میں بڑے بڑے ادارے بند ہو رہے ہیں یا پھر انہوں نے اپنا سٹاف انتہائی محدود کردیا ہے۔ گزشتہ چار ماہ سے دنیا بھر کے سائنسدان ، ڈاکٹرز اس آفتِ خداوندی سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن تاحال اس مصیبت سے نکلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ اس وقت پوری دنیا اس خطرناک وباء سے بچنے کی جنگ لڑ رہا ہے اس جنگ میں دنیا کا ہر فرد اپنی اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق شریک ہے، تاہم ڈاکٹرز اور شعبہ صحافت سے منسلک لوگ کرونا وائرس سے بچاوٗ کی اس جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود ہیں۔ ڈاکٹر حضرات ہسپتالوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور اس وائرس کا توڑ ڈھونڈنے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں ڈاکٹروں کے اس کردار کی ناصرف تعریف کی جارہی ہے بلکہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو ہر طرح کی سہولیات باہم پہنچانے کا بھرپور اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ملکوں نے ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی اقدامات بھی کیے۔ ڈاکٹروں کیلئے خصوصی کٹس تیار کیے گئے ان کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ ساتھ مزید مرعات بھی دیئے جارہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ڈاکٹروں کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بے شمار سہولیات اور مرعات کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر حضرات کی ایک بڑی تعداد ہمیں اب بھی سہولیات کی کمی کا گلہ کرتے ہوئے اور احتجاج کرتے ہو ئے بھی دکھائی دیتا ہے۔ کچھ علاقوں اور شہروں کی حد تک ان ڈاکٹروں کے گلے شکوے اور مطالبات جائز بھی ہیں تاہم مجموعی طور پر ڈاکٹروں کو کرونا وائرس کی وباء سے بچاوٗ اور ان کی خدمات کے حوالے سے ان کو ملنے والی سہولیات کم ازکم موجودہ حالات میں کافی حد تک مناسب ہیں۔ ڈاکٹروں کے علاوہ دنیا کے دیگرممالک کی طرح پاکستانی حکومت نے بھی عام شہریوں کیلئے کم و بیش چھ ہفتوں سے جاری لاک ڈاوٗن کے دوران ریلیف پیکج کا ناصرف اعلان کیا بلکہ اربوں روپے کے فنڈز مستحق لوگوں کو دے بھی دیئے ۔ ملک کے غریب اور مستحق افراد کیلئے اس مشکل وقت میں معمولی ہی سہی لیکن بروقت ملنے والی یہ امداد کسی نعمت سے کم نہیں ابھی تو وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کے خواہان ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کا اس اہم مسئلے کے دوران بروقت ردعمل اور اب تک کے اقدامات واقعی قابل تعریف ہیں۔

اس سارے معاملے میں یہ بات شدت سے مشاہدے میں آئی ہے کہ کروناوائرس کی اس خوفناک وبائی جنگ میں ڈاکٹروں کے بعد دوسرے نمبر پر فرنٹ لائن پر موجود پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا ورکروں کو کم ازکم پاکستان میں حکومت اور نجی اداروں کی طرف سے یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ میڈیا انڈسٹری کے چند ایک لوگوں کے علاوہ صحافتی اداروں کے بیشتر ورکروں کو ان حالات میں بھی بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں میڈیا ورکرز کو باوجود تمام وسائل کی دستیابی کے کرائسز کے وقت حکومت کی طرف سے بھرپور سپورٹ فراہم کیا جاتا ہے اور ان کو دستیاب سہولیات میں کئی گنا اضافہ کردیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے۔ پاکستان میں صحافتی ادارے پہلے ہی بے پناہ مسائل کا شکار ہیں اور مختلف ادوار کے حکومتوں کی ذاتی پسند اور ناپسند سمیت ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بے شمار بڑے اور درمیانے درجے کے ادارے بند ہو گئے اور جو باقی بچے کھچے صحافتی ادارے موجود ہیں حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور بلاجواز قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ کسی ادارے کے اشتہارات بند ہیں تو کسی کے سر پر آئے روز پیمرا نوٹسز اور جرمانوں تلوار لٹک رہی تھی۔ اب رہی سہی کسر کرونا وائرس کی وباٗ نے پوری کردی پاکستان کے کم و بیش سارے ہی صحافتی ادارے اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں چینلز مالی بحران اور موجودہ لاک ڈاوٗن کی وجہ سے پہلے سے تنگدستی کا شکار ورکروں کو لمبی چھٹیوں پر بھیجنے اور ملازمت سے فارغ کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی اخباروں اور چینلز نے اپنا سٹاف تیس سے چالیس فیصد پر لاکر کھڑا کردیا۔ اس بحرانی کیفیت میں متعدد ادارے ورکروں کو تین تین چار چار مہینوں سے تنخواہیں تک ادا نہیں کر سکے۔ صحافتی اداروں کے ورکرز جو پہلے ہی بہت زیادہ پریشان تھے اچانک کرونا کی آفت سر پر آجانے سے مزید مشکلات کا شکار ہو گئے۔ سفید پوشی کے بھرم میں یہ صحافتی ورکز بدترین حالات کے باوجود کسی کو اپنا دکھڑا بھی نہیں سنا سکتے اور ان کے اپنے ادارے چاہتے ہوئے بھی ان کی کوئی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ وفاقی حکومت اور صوبوں نے یوں تو مختلف مواقع پر میڈیا ورکروں کیلئے زبانی جمع خرچ کے طور پر بڑے بڑے اعلانات کر رکھے ہیں تاہم عملی طور پر وہ تمام اعلانات فقط اعلانات ہی رہے ، ماسوائے چند منظور نظر افراد کے تمام میڈیا ورکرز حکومت کی طرف سے کسی قسم کے ریلیف سے تا حال محروم ہیں ۔ صحافی اور میڈیا ورکروں کو حکومت کی جانب سے کرونا وباء سے بچنے کیلئے کسی قسم کے حفاظتی کِٹس فراہم کیے گئے ہیں اور نہ ہی انہیں کرونا وائرس سے متعلق جاری کردہ کسی ریلیف پروگرام میں شامل کیا گیا۔ صحافتی ورکرز اپنی اور اپنے گھر والوں کی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ناصرف اس کرونا وباء سے فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے لڑ رہے ہیں بلکہ عوام کوپل پل بدلتی ملکی و غیر ملکی صورتحال سے آگاہ بھی کررہے ہیں ۔ صحافتی اداروں کے ورکرز بھی تو اسی ملک کے باشندے ہیں اور موجودہ لاک ڈاوٗن کی صورتحال میں وہ اور ان کے اہلخانہ اور بچے بھی شدید متاثر ہورہے ہیں ۔ جو ورکرز اس بحران کے دوران اپنی نوکریاں گنوا چکے ہیں وہ کن حالات میں ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ میڈیا ورکرز میں فطری طور پر سفید پوشی کے بھرم کو قائم رکھنے کا عنصر ہوتا ہے اور ان کی اسی سفید پوشی کو دیکھتے ہوئے اکثر اوقات فلاحی ادارے اور مخیر حضرات بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ سفید پوش ورکر اکثر اوقات اپنے بچوں کو بھوکا سلانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ یہ حال تو ان میڈیا ورکروں کا ہے جو باقائدہ طور پر صحافتی اداروں کے تنخواہ دار ورکرز ہیں جبکہ دوردراز دیہی علاقوں اور چھوٹے علاقوں میں موجود او ایس آر( آوٗٹ سورس رپورٹرز) اور اعزازی نمائندگان کی حالت زار تو اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ ان کو تو ویسے بھی عام حالات میں کوئی پرائیوٹ اور سرکاری ادارہ خاطر میں نہیں لاتا اور نہ ہی میڈیا ورکر تسلیم کرنے کیلئے تیار ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ہونیوالے لاک ڈاوٗن کے باعث اگر پارٹ ٹائم کوئی چھوٹا موٹا کام کرکے اپنا گزربسر کرلیتا تھا اب ان کو یہ سہولت بھی میسر نہیں رہی۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مقامی انتظامیہ کا رویہ بھی علاقائی صحافیوں کے ساتھ صرف اپنے مطلب کی حد تک ہی درست رہتا ہے ورنہ ان پر اکثر سرکاری اور نجی دفاتر کے دروازے بند ہی ہوتے ہیں۔

کرونا وائرس کی وباء جس قدر ملک کے دیگر شہریوں اور شعبوں کیلئے تباہ کن اور باعث تشویش ہے اسی طرح میڈیا ورکرز بھی اس وباء کے اثرات سے محفوظ نہیں ۔ کئی میڈیا ورکروں میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور متعدد ایسے ہیں جن کے ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے کرونا کے مرض کو لیے اپنے فرائض کی ادائیگی کررہے ہیں تو ایسے میں ضروری ہے کہ جس طرح ڈاکٹروں اور دیگر شعبہ کے لوگوں کو ان مشکل حالات میں سہولیات اور دیگر مراعات دی جا رہی ہیں تو ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت تمام میڈیا ورکروں کو بھی ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں۔ تاکہ وہ بھی ان حالات کا احسن طریقے سے مقابلہ کر سکیں اور اپنے فرایض کی ادائیگی بہتر انداز میں کریں ۔ اس حوالے سے سرگرم فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کو بھی سفید پوش اور تنگدست میڈیا ورکروں کیلئے ان کی سفید پوشی اور عزت نفس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اقدامات کرنے چاہیں جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر خالی اعلانات کرنے کی بجائے میڈیا ورکرز کی فلاح کیلئے عملی اقدام کریں تاکہ میڈیا ورکرز اور ان کے اہلخانہ کو بھی لگے کہ وہ بھی اسی ملک کے باشندے ہیں اور حکومت کو ان کے مسائل کا بھی ادراک ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saeed Mazari

Read More Articles by Saeed Mazari: 3 Articles with 627 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2020 Views: 461

Comments

آپ کی رائے