نیت کی فریکوئنسی اور اعمال کا وزن
(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
|
رسولِ اکرم ﷺ کی ایک مختصر مگر غیر معمولی حدیث ہے: "اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے) (صحیح بخاری) ہم نے اس جملے کو زیادہ تر اخلاقی نصیحت کے طور پر سنا ، مگر شاید اس پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا کہ نیت آخر اتنی بنیادی کیوں ہے۔ انسانی عمل مادی دنیا سے تعلق رکھتا ہے—وہ دکھائی دیتا ہے، ناپا جا سکتا ہے، اور قانون کی گرفت میں آتا ہے۔ مگر نیت نہ دکھائی دیتی ہے، نہ چھوئی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے حادی ورہبر نے نیت کواہم بتایا۔ جدید سائنس بتاتی ہے کہ انسان کا دماغ مسلسل برقی لہریں پیدا کرتا ہے۔ مختلف خیالات، مختلف ذہنی کیفیتیں، مختلف فریکوئنسیز پیدا کرتی ہیں۔ یوں نیت ایک خیال نہیں رہتی، بلکہ ایک توانائیاتی کیفیت بن جاتی ہے۔ نِکولا ٹیسلا (1856-1943) کا کہنا تھا کہ اگر کائنات کو سمجھنا ہے تو اسے توانائی، فریکوئنسی اور ارتعاش کی زبان میں سمجھنا ہو گا۔ جدید فزکس اسی سمت میں بڑھ رہی ہے کہ مادہ اپنی اصل میں توانائی ہے۔ جب خیال دماغ میں برقی سرگرمی پیدا کرتا ہے تو سوال یہ نہیں رہتا کہ نیت ہے یا نہیں، بلکہ یہ بنتا ہے کہ اس کی نوعیت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بڑا عمل بھی اگر کھوکھلی نیت کے ساتھ ہو تو بے وزن رہ جاتا ہے۔ قرآن اسی لیے بار بار دل کا ذکر کرتا ہے، کیونکہ دل محض گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ شعور اور ارادے کا مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ اعمال سے پہلے دلوں کو دیکھتا ہے۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے ہمارے اعمال لکھتے ہیں۔ ہم نے اس تصور کو ہمیشہ کاغذ اور قلم کے ساتھ جوڑ کر دیکھا۔ مگر قرآن ایک مختلف منظرنامہ پیش کرتا ہے "مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ" (سورۃ ق) اور ایک اور مقام پر فرمایا: "اِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ" (سورۃ الجاثیہ) یہاں "نستنسخ" محض لکھنے کا لفظ نہیں، بلکہ مکمل نقل محفوظ کرنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ گویا انسانی زندگی ایک مسلسل ریکارڈنگ ہے—آواز، حرکت اور نیت سب محفوظ ہو رہے ہیں۔ آج انسان خود ایسی دنیا میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر قدم کیمرے میں قید ہے، ہر لفظ ریکارڈ ہو سکتا ہے، اور اب تو دماغی لہروں کو بھی ڈیٹا میں بدلا جا رہا ہے۔ اگر انسان یہ سب کر سکتا ہے تو یہ تصور کوئی مشکل نہیں کہ کائنات کا خالق اس سے کہیں زیادہ مکمل نظام رکھتا ہو۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے اعمال کتنے بڑے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ان کے پیچھے نیت کی فریکوئنسی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں چھوٹا سا عمل بھی خالص نیت کے ساتھ پہاڑ بن جاتا ہے، اور بڑا کارنامہ ریا کی نذر ہو کر بے وقعت رہتا ہے۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم حدیثِ نیت کو صرف منبر کی نصیحت نہ سمجھیں، بلکہ اسے کائنات کے ایک اصول کے طور پر پڑھیں۔ ایک ایسا اصول جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کا ہر خیال، ہر ارادہ، اور ہر نیت—کہیں نہ کہیں محفوظ ہو رہی ہے، اور ایک دن اسی کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا۔ |
|