توہین رسالت کے قانون پر آسیہ مسیح کا واویلا

(Qazi baha ur rahman, )

اس پورے کرۂ ارض پر اس وقت پونے آٹھ ارب سے زائد انسان آباد ہیں جن میں سے تقریباً ایک ارب پچیس کروڑخدا کے منکر ہیں اورکسی مذہب کے پیروکار نہیں ،جبکہ باقی ساڑھے چھ ارب انسان 4200سے زائد مذاہب میں منقسم ہیں۔دنیا کے تاریخ دان ان تمام مذاہب کی تاریخ سے مکمل طور پر واقف تو نہیں البتہ ایک غالب اندازہ یہی ہے کہ ہر مذہب کی بنیادانبیاء و رسل کی تبلیغ وتلقین پر تھی ، شروع میں کچھ نیک لوگ ان انبیاء ؑ کے مصاحب و متبع رہے، پھر یہ اقوام نسل در نسل راہ حق سے منحرف ہو کر نئے مذہب کی شکل اختیار کرتی چلی گئیں ۔ اسی طرح اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی کی پہچان رکھنے والی امتوں کے موجودہ اور سابقہ حالات ہمارے سامنے ہیں کہ ان دونوں کے بڑوں نے ماضی بعید میں اپنے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات اور صحائف میں اس حد تک ترامیم کر ڈالی ہیں کہ ان کے اپنے جدید تحقیق کاربھی حتمی طور پر اصل اور نقل میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔ پھر ظالموں نے اسی تحریف پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انبیاء کی تحقیر و تکذیب اورتکفیرو تمسخر کے مرتکب ہو کر اﷲ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے میں بنی اسرائیل کا کوئی ثانی نہیں۔

صیہونی قوم ابلیس کے وفا دار پیرو کار اور دجال کا ہراول دستہ ہیں ، کوئی بھی دورہو، دنیا بھر میں اہل حق کو تلاش کرکے ان سے جا ٹکرانا یہود کا صدیوں پرانا طرز عمل ہے ۔ اپنی اسی عادت سے مجبور آج بھی اسلام اور مسلمانوں کے بد ترین دشمن کے طور پر برسرپیکار ہیں ۔ جبکہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور اپنے ماننے والوں کو تمام انبیاء اور مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے۔ یہود و نصاریٰ جن انبیاء کی امت ہونے کے علمبردار ہیں ان کی حقانیت کا عقیدہ ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے ۔بلکہ انبیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے یہود یوں اور عیسائیوں کی زبان ادب و احترام کے الفاظ سے عاری ہوتی ہے جبکہ ہر نبی کے نام کے ساتھ حضرت اور علیہ السلام جیسے مؤدبانہ القابات دین ِ اسلام ہی کا امتیاز ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ہمارے ہاں انبیاء علیہم السلام کی توہین ناقابل معافی اور قابل دست اندازی جرم ہے جبکہ اغیار کی گندی تہذیب میں اس شرمناک عمل کو اظہار رائے کی آزادی کا نام دے کرجائز سمجھ لیا گیا ہے۔اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کہ ہماری اس مذہبی حریت اور غیرت کے خلاف ہر ممکن مذمت اور واویلا مغرب کے گستاخ معاشروں سے ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔

گلوبل ویلج کے بڑے بد معاشوں کو اس بات کی ازحد تکلیف ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے مجرم جیلوں میں بند کیوں ہیں۔وہ ہر وقت ان کی آزادی کے لیے فکر مند اور کوشاں رہتے ہیں جبکہ دین و مذہب سے بغاوت کرنے والے بھگوڑوں کو مغرب میں خصوصی مہمان کا درجہ دیا جاتا ہے۔ وہ وہاں آزادی کے ساتھ ملک و مذہب کے خلاف زبان درازی کرکے اپنے دجل و شیطنت کی بھڑاس نکالتے ہیں ۔ گذشتہ برس عبدالشکور نامی ایک مرزائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روبرو پاکستان میں اپنے غیر مسلم قرار دیے جانے کے قانون پر آئین پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا رہا ، اور اب حال ہی میں پاکستان سے بھاگ کرکینیڈا میں پناہ لینے والی گستاخ رسول آسیہ نورین مسیح توہین رسالت کے پاکستانی قانون پر زبان درازی کرتی نظر آرہی ہے ،شاید گستاخان رسول کے عالمی سپا نسرز شدید خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ، جسٹن ٹروڈو،بورس جانسن، ایمینو ئل میکرون، نیتن یاہو اور نریندر مودی جیسے شیطانوں سے سفار تی دباؤ ڈلوا کر آئین پاکستان کی اسلامی دفعات میں ترمیم کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے، الحمد ﷲ ان کو اندازہ نہیں پاکستان کے مسلمان میں اس قدر مذہبی جذبہ اور غیرت موجود ہے کہ دنیا کے سارے گستاخ الٹے بھی لٹک جائیں تو پاکستان کے قانون توہین رسالت کی دفعات کا ایک حرف بھی تبدیل نہیں کر سکتے۔

ہمارے آقا صلی اﷲ علیہ وسلم کے عروج و مراتب سے حسد و بغض کافروں میں ظاہر ہونے والی کوئی نئی بیماری نہیں بلکہ اس کی تاریخ ڈیڑھ ہزار سال قدیم ہے ۔یہ وہی جلن ہے جس کے بارے میں رب کائنات نے اپنے کلام پاک میں فرمایا مُوْتُو بِغَیْظِکُم، اور فرمایا فِی قُلُوبِھِم مَرَض ٌ فَزَادَھُمُ اﷲُ مَرَضاً۔ وہی بیماری ہے جس کا علاج سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے قتال سے کیا تھا، وہی مرض جس کا خاتمہ حضرت وحشیؓ نے اپنے نیزے سے کیا تھا، وہی حسد جس کو نور الدین زنگیؒ کی تلوار نے زمین بوس کیا تھا، وہی بغض جس کو صلاح الدین ایوبیؒ کی یلغار نے تہہ تیغ کیاتھا، وہی غرور جس کو محمد بن قاسم ؒ کی ضرب اور نے محمود غزنویؒ کی حرب نے خاک میں ملا دیا تھا، وہی خباثت جس کو غازی علم الدینؒ نے پاؤں تلے روند دیا تھا۔یہ وہی شیطنت ہے جس کی خبر اس امت کو پندرہ سو سال قبل دے دی گئی تھی کہ قیامت تک تیس جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے۔ان دجالوں کے مد مقابل یہی امت ہے جس کا ماضی ابوبکر ؓ کی صداقت ،فاروق اعظم ؓ کی شجاعت اور عثمان غنی ؓ کی استقامت کا امین ہے،جس کی بنیادوں میں حیدر ؓ کی للکار اور حسینؓ کا انکار ہے،جس کی شان خبیبؓ کا عشق رسول اور خالدؓ کا عزم جہاد ہے ، جس کا اعجاز بلالؓ کی غلامی ٔرسول ہے، جس کا امتیاز حمزہ ؓ کی شہادت، ابوہریرہؓ کی ذہانت،حسنؓ کی مصالحت، معاویہ ؓ کا تدبر ، ابو ذرؓ کا تقویٰ ،سلمان ؓ کی خشیت ہے،جس کی پہچان موسیٰ بن نصیر کی گرج اور طارق بن زیاد کی برق ہے۔

امت مسلمہ کی پوری تاریخ جرأت و بہادری اور اخلاقیات کی لازوال داستان ہے ،تم اپنے گم گشتہ ماضی میں جھانک کر دیکھو اور پہچانوکہ یہ وہی امت ہے جس کے جرنیلوں سے جنگ کرنے کی بجائے تمہارے صحائف سماوی کے علماء اکابر نے گھٹنے ٹیک کر بیت المقدس کا قبضہ دیا تھا۔ ہر دور میں ہمارے اسلاف نے تمہاری تنقید کا جواب خندہ پیشانی سے دیا، تمہارے مناظر کا مقابلہ اپنے دلائل سے کیا، تمہارے ہر طوفان بدتمیزی کو اپنے اخلاق سے زیر کیا، تمہاری ہر زیادتی و تلخی کو اپنے تدبر سے سلجھایا لیکن لہجے میں توہین کا عنصر ہوا تو کسی اخلاقی و سفارتی حدکو ملحو ظ خاطر نہیں رکھا ، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ناموس کو نشانہ بنایا گیا تو مسلمانوں نے اپنی جان سے گزر کر امتی ہونے کا حق ادا کیا، گالی کا جواب گالی سے نہیں بلکہ یلغار و قتال سے دیا،اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ وہ جذبے ماند پڑ گئے بلکہ یہ چنگاری ہمارے سینوں میں دبی ہے ذرا سی ہوا لگتے ہی ہم دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کی تقسیم آقا صلی اﷲ علیہ وسلم کی حرمت و تقدس پرنثار کرکے سابقہ روایات کا تحفظ کریں گے ،
ناموس رسالتؐ کی خاطر ہم جان نچھاور کر دیں گے
گر وقت نے ہم سے خوں مانگا تووقت کا دامن بھر دیں گے

حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن پر صرف انگلیاں کٹی تھی لیکن امام الانبیاء کی عزت پر سر نچھاور کریں گے، ہم وہ امت نہیں جو اپنے نبی ؑ سے کہیں کہ آپ لڑیں اور آپ کا خدا لڑے اور ہم یہاں بیٹھے ہیں،پندرہ سو سال گزر گئے شمع رسالت ؐ کے پروانے جانیں لٹاتے نہیں تھکے ۔ ہم وہ جانثار نہیں کہ اپنے نبی ؑ سے آسمانی مائدہ کے نزول کی ضد کریں بلکہ ہمیں زمین سے بھی کھانے کو ملے یا نہ ملے لیکن آقا صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ہم اپنی نوکری، اپنے کاروبار اپنے انفراسٹرکچر اور ذاتی مسائل کے حل کی شرط پر نہیں بلکہ اپنے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ناموس کے تحفط و دفاع کی شرط پر اپنے سیاستدان کو منتخب کریں گے ، ارکان اسمبلی ہماری معیشت اور روزگار کے مسائل حل کریں یا نہ کریں البتہ ایون اقتدار میں ناموس رسالت کے قوانین کی پاسداری ہر صورت میں کرنا ہو گی۔
عالم کفر کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں جذبہ ٔ جہاد کا شدید فقدان ہے ، پہلے پہل تحفظ ناموس رسالت کا جہاد اسلامی امراء و حکام اور غیور سلاطین کی قیادت میں ادا کیا جاتا تھاجو مسلم عوام کے جذبات کو دوبالا کر دیتا اور کسی شاتم کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے کے بعد جائے پناہ نہیں ملتی تھی لیکن آج اسلامی ممالک کے حکمران اپنے فرائض منصبی کو پس پشت ڈال کر اپنی بادشاہت اور ولی عہدی کی کشمکش میں مصروف ہیں، عالم کفر کے خلاف جہاد و قتال کی بجائے بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کا مقابلہ اسلامی ممالک کے شہزادوں کا جنون ہے، امت مسلمہ کی قیادت کے مایوس کن حالات عالمی شرپسند وں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لہٰذا وہ انہی حکمرانوں کوآلۂ کار بنا کر ناموس رسالت کے خلاف اقدامات کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں 1988سے آج تک برسر اقتدار آنے والی تمام حکومتوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے دشمنان رسولؐ کے لیے قانونی نرمی کی کوشش کی ۔

عوام الناس کے ووٹ کی امانت میں خیانت کا ارتکاب کرکے چال بازی اور خاموشی سے ناموس رسالت اور ختم نبوت قوانین کی دفعات کو مذموم عزائم کا نشانہ بنایا جاتا ہے پھر مذہبی جماعتوں کے خبردار ہونے پر اپنے ووٹرز کے غیظ و غضب سے بچنے کے لیے اپنے کرتوت کو غلطی کہہ کر وضاحت اور معذرت کا ڈرامہ کیا جاتا ہے۔ماضی میں توہین رسالت کی دفعات کو کالا قانون کہہ کر صفائی پیش کی گئی کہ ہمارے الفاظ کا غلط مطلب نکالا گیا۔وزیر اعظم کے حلف نامے سے ختم نبوت کا اقرار حذف کرکے اس ظلم کو عجلت اور غلطی کانتیجہ ظاہر کیا گیا۔ حج فارم سے عقیدۂ ختم نبوت کا حلف نکال کر وضاحت دی گئی کہ چند بیوروکریٹس نے حکومت سے پوچھے بغیر غفلت کی۔ ناموس رسالت کے بارے میں کوئی غفلت محض ایک قابل وضاحت غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی حکومت سے سرزد ہو۔ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں ردو بدل کی جسارت کو غلطی کہہ کر معذرت کرنے والے اپنے والد کی جگہ کسی اور کا نام لکھنے کی غلطی کبھی نہیں کرتے البتہ صرف حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کی ذات گرامی سے منسوب قوانین ہی پر پہنچ کر قلم پھسل جاتی ہے ۔یہ غلطی بھی کس قدر سمجھ دار ہے کہ ناموس رسالت ہی پر وار کرتی ہے ، صاف ظاہر ہے کہ عالمی نوسرباز بار بار کچھ وقت گزرنے کے بعد مسلمانان پاکستان کے جسد واحد کو دنیاوی لذتوں کی مدہوشی کا ٹیکہ لگا کر انتظار میں رہتے ہیں ، ہماری ایمانی حرارت اور عشق رسول کا لیول چیک کرتے ہیں ، ناموس رسالت کے قوانین میں تبدیلی کا فتنہ چھیڑ کر دجالی گماشتے یہ جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے مسلمان کے دل و دماغ پر جو انتھک محنت کی ہے اس کے نتیجے میں اہل پاکستان کس حد تک اپنے مذہب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے دور ہو چکے ہیں، ان ہلاکت خیز چالوں کو سمجھنا اور ان کا سدباب کرنا ہمارے اور آنے والی نسلوں کے ایمان کا تقاضا ہے۔
بقول اقبالؒ ؂
مصلیٰ بیچ کر خنجر خرید اے بے خبر صوفی!
کہ ٹکرانے کو ہے تیری فقیری سے شہنشاہی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi baha ur rahman

Read More Articles by Qazi baha ur rahman: 16 Articles with 7580 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2020 Views: 426

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ