دشمنی کا حق

(Ghulam Ibnesultan, Jhang)

 ڈاکٹر غلام شبیررانا
خار زارِ زیست کے جب پیچ وخم یاد آتے ہیں
جاں کے دشمن تیرے سب ظلم و ستم یاد آتے ہیں
بلند و بالا پہاڑوں کی سر بہ فلک چوٹیوں پر روا ں چشموں سے نکلنے والا ایک دریا جب ایک چٹیل میدان میں سے گزرا تو اس کے پانی کی روانی میں بہت تیزی آ گئی۔دوسرے دریاؤں کی طرح اس دریا کو بھی ہمیشہ اپنی موجوں کی طغیانی سے کام رہتا ۔انسانوں کی کشتیوں کے دریا کے پار اُترنے یا منجدھار میں غرقاب ہو جانے سے اسے کوئی غرض ہی نہ تھی ۔ جو آبی مخلوق اس دریا کے گہرے پانی میں کثرت سے موجود تھی اس میں مینڈک، کچھوے ،مچھلیاں ،مگر مچھ اور سانپ شامل تھے ۔دریا کا تیزی سے بہتا ہواپانی اپنی کہانی سناتا رہتا تھاکہ وقت اور دریا کا پانی جب گزر جائیں تو پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔اس دریا کے کنارے پر ایک جنگل بھی تھاجس کے تناور درختوں پر جن طیور آوارہ نے اپنے آشیاں بنا رکھے تھے ان میں شِپر ،چغد،زاغ و زغن اور کرگس شامل تھے ۔اس جنگل کی جھاڑیوں میں گیدڑ ،بھیڑیے اور خرگوش کثرت سے پائے جاتے تھے ۔دریا کے کنارے پیلوں کا ایک بہت بڑا درخت تھااس پر ایک گدھ کا گھونسلا تھا۔سب طیور آوارہ اسے مہاراجہ گدھ کہہ کر پکارتے تھے ۔ پیلوں کے درخت کے گر دو نواح میں رہنے والی کوئی آبی مخلوق یا خشکی کا جان دارمہاراجہ گدھ کی مرضی کے بغیرکوئی کام نہ کر سکتاتھا۔ پیلوں کے درخت کے گرد رہنے و الی آبی و خشکی کی مخلو ق مہاراجہ گدھ کے مشورے سے ہر کام کرتی تھی ۔

دریا کے کنارے کم گہرے پانی میں ایک مینڈک اور مینڈکی کا بسیرا تھا۔ایک مرتبہ مینڈکی کو زکام ہوا تو مگر مچھ اس کی طرف لپکا ۔ اپنے محبوب شوہر بڑے مینڈک کو ساتھ لے کر مینڈکی تو غوطہ لگا کر گہرے پانی میں چلی گئی مگر اس کے بچے مگر مچھ کا لقمہ بن گئے ۔کچھ دیر بعد جب مینڈکی پانی کی سطح پر نکلی تو اپنے بچوں اور انڈوں کو وہاں نہ پا کر تڑپنے لگی ۔اسے اس حال میں دیکھ کر مگر مچھ کی آنکھوں سے بھی آ نسو بہنے لگے۔ اُس دِن سے مینڈکی نے مگر مچھ کو اپنا دشمن سمجھ لیا اور وہ مگر مچھ کی خونریزی سے بچنے کی کوششوں میں لگی رہتی ۔ مچھلیاں بھی اس ظالم و سفاک ،موذی و مکار مگر مچھ کی خونخواری سے نالا ں تھیں ۔ خونخوار مگر مچھ غوطہ لگا کر مچھلیوں کو زندہ نگل جاتااور اس کے بعددریا کے کنارے پر دھوپ میں بیٹھ کر دیر تک آ نسو بہاتارہتا۔

ایک دوپہر جب مہاراجہ گدھ اپنے معتمد طیور زاغ و زغن کے ہمراہ دریا کے کنارے پڑے ایک مردہ گدھے کے ڈھانچے کو نوچ رہا تھاتوالم نصیب مچھلیاں اور مینڈک مہاراجہ گدھ کے پاس پہنچے اور مہاراجہ گدھ کو اپنی داستانِ غم سنائی ۔مہاراجہ گدھ نے مچھلیوں ، مینڈکی اور مینڈک کے غم کا فسانہ سنا تو بولا:
’’ دریاؤں میں رہنے والی مخلوق مگر مچھ سے دشمنی رکھے گی تو اپنی جان کو روگ لگائے گی۔ہر مگرمچھ کی آنکھوں میں خنزیر کا بال ہوتا ہے اگر وہ پانی یا خشکی کے جانوروں سے دوستی کرے گا تو اپنی ذات سے دشمنی کرے گا۔بہتر یہی ہے کہ مگر مچھ کے شر سے بچ کر کہیں اور چلے جاؤ۔‘‘
یہ سن کر مینڈک اور مینڈکی سردیوں کی آ مد پردریا سے نکل کرخشکی پر آ گئے اور پیلوں کے درخت کے نیچے کریروں کے جھنڈ میں ایک سوراخ میں چھپ گئے اور ہائی بر نیشن( Hibernation )میں چلے گئے۔ان کا خیال تھاکہ سردیاں ختم ہونے کے بعدجو ر و ستم کی یہ ہوا شاید تھم جائے ۔
مگر مچھ نے جب یہ دیکھا کہ آبی مخلوق تو اب اس کی دسترس میں نہیں تو وہ آ نسو بہاتا ہوا دریا سے باہر نکلا اور پیلوں کے درخت کے نیچے رہنے والے ایک خرگوش کے پاس پہنچااور کہا:
’’ واہ! تم کس قدر خوب صورت جانور ہو ؟ تمھارا نام ’’ خرگوش‘‘ کتنااچھا ہے ۔تمھارے کان گدھے کے کانوں جیسے ہیں ۔ مشکل حالات میں کئی بار میں نے بھی گدھے کو اپنا باپ بنایاہے ۔‘‘
خرگوش نے کہا: ’’ اکثر جانور یہ کہتے ہیں کہ صرف میرے کان ہی گدھے جیسے نہیں بل کہ میرے کام بھی گدھے جیسے ہیں ۔‘‘
مگر مچھ نے خرگوش کی بات سنی تو ہنستے ہوئے بولا ’’مہاراجہ گدھ ابھی ایک مردہ گدھے کے ڈھانچے کو نوچ رہاتھا۔گدھا تو ہم دونوں کا محبوب جانور ہے ہم یہ ظلم برداشت نہیں کر سکتے ۔‘‘
’’ آج سے ہماری دوستی پکی ہو گئی۔‘‘ خرگوش نے مگر مچھ سے کہا ’’ اب تم بلا خوف و خطر خشکی پر میرے گھر آ کر آرا م کر سکتے ہو اور میرے بچوں پر شفقت کر سکتے ہو۔‘‘
چمگاڈر نے خرگوش اور مگرمچھ کی دوستی کی مہاراجہ گدھ کو مخبری کر دی ۔مہاراجہ گدھ نے خرگو ش کی مگر مچھ کے ساتھ دوستی کے اس ناتے کوجان لیوا قرار دیتے ہوئے کہا:
’’خبر دار !مگر مچھ سے بچ کر رہنا ورنہ یہ تمھارے بچوں کو کھا جائے گا۔آئندہ اگر یہ ظالم مگر مچھ تمھارے پاس آیا تو تمھیں اس حکم عدولی کا خمیازہ اُٹھانا پڑے گا۔میں مگر مچھ کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
مہاراجہ گدھ کے اس حکم کے بعد مگر مچھ اور خرگوش نے چوری چھپے ملتے رہنے کا فیصلہ کیا۔مگر مچھ نے خرگوش سے کہا :
’’ تم کہیں سے ایک رسی لانا وہ میں اپنے پیٹ سے باندھ لوں گا اور تم بھی وہی رسی اپنے پیٹ سے باندھ لینا ،جس وقت مہاراجہ گدھ مردا رخوری کے لیے پیلوں کے درخت سے کہیں دُور پرواز کر جائے تم دو قدم دریا کی مخالف سمت چلنا ۔رسی کے کھنچنے کے بعدمیں دریا سے نکل کر تمھارے پاس آجاؤں گااور تمھارے بچوں کو نئے گیت سناکر ان کا دِل بہلاؤں گا۔‘‘
خلوص ،مر وّت ،وفا اور ہمدردی کا جعلی لبادہ اوڑھ کر مگر مچھ نے خرگو ش کو اپنا گرویدہ بنالیا۔وہ اس قدر عیاری سے فریب کرتاکہ خرگوش کو گمان بھی نہ گزرتا کہ مگر مچھ اُسے جُل دے کر اس کے بچوں کوہڑپ کر جاتا ہے اور اس کے بعد آ نسو بہانے لگ جاتاہے ۔خرگوش اپنے تیز دانتوں سے ایک بیل کی گردن سے لمبی رسی کاٹ لایا اور طے شدہ منصوبے کے مطابق رسی کا ایک سرا تو مگر مچھ کے پیٹ سے باندھ دیا جب کہ دوسر ا سر اخرگوش نے اپنے پیٹ سے باندھ لیا ۔ اس طرح کی ملاقاتوں میں مگر مچھ اور خرگوش کی دوستی تو بڑھنے لگی مگرخرگوش کے بچوں کی تعداد تیزی سے گھٹنے لگی ۔مہاراجہ گدھ کے سراغ رساں پرندوں زاغ ،زغن اور چغد نے خرگوش اور مگر مچھ کی خفیہ ملاقاتوں کے بارے میں مہاراجہ گدھ کو آ گاہ کر دیا۔دوسری طر ف خرگوش بھی آستین کے سانپ کی اصلیت جان چکا تھا مگر فریب خوردہ خرگوش بے بسی کے عالم میں کچھ کرنے سے قاصر تھا۔گلہری نے خرگوش کو سمجھایا تو وہ اپنے بچوں کے نہ ہونے کی ہونی کے بارے میں سب حقائق جان گیامگر اُس نے چُپ سادھ لی اورمگر مچھ سے رابطے کم کر دئیے ۔
ایک دِن مگر مچھ نے خرگوش سے شکوہ کیا کہ ان کے قریبی تعلقات میں بگاڑ کیوں پید ا ہوگیاہے ؟
ایسے بگڑے کہ پھر خبر بھی نہ لی
دشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا
ایک سہ پہر مہارجہ گدھ جب پیلوں کے درخت سے اُ ڑا تو خرگوش تیزی سے دریا کی مخالف سمت بھاگا اور رسی تن گئی ۔مگر مچھ خوشی سے پھولا نہ سمایا اور خرگوش کے نرم ونازک بچے نگلنے کی تمنا میں دریا کے گہرے پانی سے باہر نکل کر خشکی پر آ گیا۔ وہ پیلوں کے درخت کے تنے کی کھوہ میں خرگوش کے بسیرے کی طرف بڑھ رہا تھاکہ اچانک گدھ نے اُسے اپنے پنجوں میں دبوچ لیا ۔پیلوں کے بلند درخت کی چوٹی پر بیٹھ کر گدھ نے مگر مچھ کی گردن توڑ دی ، آ نکھیں نکال کر نگل گیا،اُس کی کھال ادھیڑ دی اور اُس کے گوشت کو نوچناشروع کر دیا۔اس اثنا میں خرگوش رسی سے بندھا ہوا میں لٹک رہا تھا ۔گلہری کی نظر پڑی تو وہ اونچی چھلانگ لگا کر رسی تک پہنچی اور خرگوش سے کہنے لگی :
’’ مہاراجہ گدھ تو مگر مچھ کو پکڑ کر پیلوں کے درخت کی چوٹی پر بیٹھ کر مزے سے اس کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہاہے ۔تم یہاں رسی سے لٹکے کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’ میں مگر مچھ کے ساتھ اپنی دشمنی کا حق اداکر رہا ہوں۔‘‘
یہ سنتے ہی گلہری نے خرگوش کے پیٹ کے ساتھ بندھی رسی کو کاٹنا شروع کر دیا خرگوش نے حیرت سے کہا:
’’بی گلہری ! یہ تم کیاکر رہی ہو؟‘‘
گلہری نے خرگوش کے کان میں کہا:
’’ خرگو ش میاں! صرف تمھارے کان ہی گدھے جیسے نہیں بل کہ تمھاری سرشت بھی گدھے جیسی ہی ہے ۔آستین کے سانپوں کے فریب کھا کر اذیتیں اور عقوبتیں برداشت کرنا تمھاری سر نوشت میں داخل ہے ۔میں نے رسی کاٹ ڈالی ہے اب سیدھے اپنے بچو ں کے پاس جاؤ اور آئندہ کسی جعل سا ز ،فریبی اور مکار کے ساتھ پیمانِ وفا کبھی نہ باندھنا۔تم نے تو مگر مچھ کے ساتھ اپنی دشمنی کا حق ادا کر دیااب میں نے تمھارے ساتھ اپنی دوستی کاحق ادا کردیاہے۔ جنگل میں ہر جانور کو اپنے حقوق ادا کرنے پر توجہ دینی چاہیے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Ibnesultan

Read More Articles by Ghulam Ibnesultan: 266 Articles with 268215 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Apr, 2020 Views: 863

Comments

آپ کی رائے
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ ء وقت کو کیا نام دیا جائے
مے خانے کی توہین ہے رِندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
بھیڑ کا لبادہ اوڑھنے والے بھیڑیوں پر گرفت کی گئ ہے ۔آستین کے سانپ اور برادران یوسف ہمیشہ در پئے آزار رہتے ہیں ۔موجودہ قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں چربہ ساز،سارق ،کفن دزداور حیلہ ساز مسخروں پر چوٹ کی گئی ہے ۔مس بی جمالو اور قفسو قماش کے متفنی گیدڑ پروانہ تھام کر ہنہناتے پھرتے ہیں۔پچیس اپریل دو ہزار بیس کو اس خواب کی تعبیر ہو بہ ہو نکلی۔ملمع سازی اور فریب کاری کی قبیح روش کا علم ہوا۔بندریا ،لومڑی اور گیدڑی علامات ہیں ۔ ہر دور میں مس بی جمالو اور قفسو کا وجود رہاہے ۔ان کی وجہ سے زندگی کی سب رتیں بے ثمر ہو جاتی ہیں۔سانپ تلے کے بچھو ،اجلاف وارذال،سفہا اور مشکوک نسب کے ابلیس نژاد درندے ہمارے معاشرے کا سب سے خطرناک المیہ ہے ۔ادیب نے ان کی غارت گری کی جانب توجہ دلائی ہے ۔ اسلوب عمدہ ہے اور تحریر پر لطف ہے ۔
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاوء
نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
By: Ansa Kausar Perveen , Fateh Darya on Apr, 26 2020
Reply Reply
55 Like
پچیس اپریل سال دو ہزار بیس اور یکم ماہ صیام یاد آگیا۔کہانی عمدہ ،اسلوب د ل کش اور موضوع منفرد ہے ۔قحط الرجال کے موجودہ دور میں ہوس اور حرص نے انسان کو اخلاق سے عاری کر دیاہے ۔یہ علامتی کہانی پسند آئی
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیاہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
By: Ansa Kausar Perveen , Karbla Haidri on Apr, 26 2020
Reply Reply
53 Like
I agree with these wise comments.Wonderful story with good moral lesson .You remeber me since 6th July 2017.It is written of fate and will of God Almighty .Every one should bow before the decision of God Almighty .Beware of habitual liars.
By: Sajjad Hussain , Fateh Darya on Apr, 27 2020
49 Like