جاہل کہیں کے (گیدڑ پروانہ )

(Ghulam Ibnesultan, Jhang)

 ڈاکٹر غلام شبیررانا
نو آبادیاتی دور سے بے تعلق رہنے والی اس کہانی کے آغاز و انجام پر ابلق ِ ایام کے سموں کی گرد ایسے پڑی ہے کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔اس کہانی کا دیہی زندگی ،کسانوں ،دہقانوں، گوٹھ و گرا ں،جنگلوں اور کھیتوں و کھلیانوں سے اکہرا مگر نسبتاً کم گہرا تعلق ہے ۔یہی وہ خطہ ہے جہا ں حبس اور جبر کا ماحول دیکھ کر پِتا پانی ہو جاتاہے۔ اس جگہ قسمت سے محرو م دیہی علاقوں کے محنت کش مکین جو رہینِ ستم ہائے روزگار اور ان کے مویشی حالات کے رحم و کرم پر رہنے پر مجبور ہیں۔ دُور دراز دیہی علاقے میں واقع جس گاؤں کی یہ کہانی ہے وہاں کے باشندوں کے لیے یہ امر حیران کن تھا کہ نسل در نسل ان کی زندگی کولھوکے بیل کے مانند ایک ہی ڈگر پر چل رہی ہے ۔ساری دنیا بدل رہی تھی مگریہ گاؤں جو طوفان نوح ؑ کی باقیات میں سے تھا طرز ِ کہن کی مظہر اپنی قدامت پر اڑا پیہم اس کی حفاظت کر رہاتھا۔ یہاں کا ماحول تو پتھر کے زمانے کی یاددلاتا تھا مگر روّیوں کے اعتبار سے یہ اس قدر عجیب تھاکہ رفتہ رفتہ کوفے کے قریب ہو رہا تھا۔گاؤں سے دو میل کے فاصلے پر ندی کے کنارے جھونپڑیوں میں رہنے والے جفاکش دہقان موسم کی تمام سبزیاں ،تربوز،خربوزے ، مونگ پھلی ،ککڑیاں اور شکر قندی کاشت کرتے تھے ۔اسی کاشت پر اُن کی گزر اوقات تھی اور وہ صبر و شکر سے زندگی کے دن گزار تے تھے۔

گاؤں کے نواح میں ایک ندی بہتی تھی ،ندی سے کچھ دُور ایک دریا بہتا تھا جس کے کنارے پر کئی میل پر پھیلا ہواصدیوں پرانا ساجھووال کا مشہو ر قدرتی جنگل تھا۔اِس گھنے جنگل میں بڑی تعداد میں گیدڑ ،بھیڑیے ،لنگور ،خرگوش،خار پُشت ، خنزیر ،ناگ اور کنڈیالے چوہے رہتے تھے ۔ اس گھنے جنگل میں جنگل کے قوانین و دساتیر کے مطابق گیڈروں کا سردار ایک مہا گیدڑ تھا جس کی ہر بات جنگل میں رہنے والے گیدڑ مانتے تھے ۔ خربوزے پکتے تو گیدڑوں کی بن آ تی اور وہ مہاگیدڑ کی قیادت میں خربوزوں کے کھیتوں میں جاتے جی بھر کر میٹھے میٹھے خربوزے کھاتے تھے ۔ایک مرتبہ زبردست آ ندھی آ ئی اور کئی درخت جڑوں سے اکھڑ کر دُور جا پڑے ۔مہا گیدڑ کا ٹھکانہ بھی اِس طوفانِ باد و باراں کی زد میں آ گیا اور ایک نخل تناور اس پر آ گرا۔اس حادثے کے نتیجے میں مہا گیدڑ کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں ،شدید زخموں اور چوٹوں کے باعث وہ چلنے سے معذور ہو گیا۔مہا گیدڑپر بہت کڑا وقت تھا وہ بھوک سے اس قدر نڈھا ل تھا کہ اس کے لیے دو قدم بھی چلنا محال تھا۔ جس وقت مہا گیدڑ حوا س باختہ ،غرقابِ غم اور نڈھال تھا تواس نے اپنے ساتھی گیدڑوں کا بلایا اور کہا :
’’ تم سب گیدڑ کس قدر محسن کش ، موقع پرست ، طوطا چشم اور بروٹس قماش کے عیار ہو کہمجھ خاک نشیں کو پریشاں حالی و درماندگی میں دیکھ کر تم سب نے اپنی اپنی آ نکھوں پر ٹھیکری رکھ لی ہے ۔تمھار اروّیہ دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تمھاری آ نکھ میں خنزیر کا بال ہے ۔جب سے میری ٹانگیں ٹوٹی ہیں شکم کی بھوک نے مجھے نڈھا ل کر دیا اور تمھیں مجھ شکستہ دِل کا کوئی خیال ہی نہیں ۔مصیبت کی اس گھڑی میں میری اہلیہ بھینگی گیدڑی بھی میرا ساتھ چھوڑ کو کسی اور عقل کے اندھے گیدڑ کے ساتھ پیمانِ وفا باندھ کر جنگل میں منگل مناتی ہے اور میٹھے خربوزے کھا کر گل چھرے اُڑاتی پھرتی ہے۔میرے ساتھ مقدر نے عجب کھیل کھیلا ہے میرے درد لا دوا ہر گز نہیں مگر میرے ساتھ المیہ یہ ہے کہ سب چارہ گر میری چارہ گری سے گریزاں ہیں اور اپنی دُھن میں مست خربوزے اور ککڑیاں کھانے میں مصروف ہیں ۔ ‘‘

’’ تم کالی دیوی کی پجارن ہماری دیرینہ محسن اور درد آشنا گیدڑی پر ناحق الزام تراشی کر کے جی کا زیاں کر ر ہے ہو۔ تم لمبی کہانیوں نہ سناؤ اب اپنے مطلب کی بات کرو ۔‘‘ ایک عیار گیدڑ نے دم ہلاتے اور دانت پیستے ہوئے کہا ’’ یہ بات واضح کر و کہ اس وقت تمھاری فاقہ کشی کا مداوا ہم کیسے کر سکتے ہیں ؟‘‘
’’ تم رات کی تاریکی میں جس وقت جی بھر کر خربوزے کھاتے ہو تو میرے لیے بھی کھیتوں سے کچھ خربوزے توڑ کر ساتھ لایا کرو ۔ َ‘‘ مہاگیدڑ نے روتے ہوئے کہا’’ تمھاری اس مہربانی سے میں بھی اپنے پیٹ کا دوزخ بھر لوں گا۔‘‘
’’ کھیتوں کے مالک کسانوں اور دہقانوں نے اب بڑے بڑے آ لسیشن کتے پال رکھے ہیں ۔‘‘ایک گیدڑی نے ٹسوے بہاتے ہوئے کہا ’’ ہمیں تو اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں ۔اب تو ہم بھی خربوزوں کے کھیتوں کا رخ نہیں کرتے ۔ ہمارا بھی ڈیہلوں ،لسوڑیوں ،پیلوں ، جنگلی بیری کے بیر،پیلکوں،کھمبیوں اور حنظل پر گزارا ہے ۔کسانوں ،مزارعوں اور دہقانوں کی سادیت پسندی کی وجہ سے ہم خو د خربوزوں کے لیے ترس گئے ہیں تمھارے لیے خربوزے کہاں سے لائیں ؟‘‘
مہا گیدڑ کے چہرے پر نحوست ،بے توفیقی اور عیاری کی لکیریں گہری ہو گئیں اس نے غیظ و غضب کے عالم میں کہا’’ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کسانوں کے کتوں سے تمھیں بچانے کی کوشش کی جائے گی ۔ میں اس مسئلے کا حل ضرور تلاش کر لوں گا۔کل شام تم یہاں آ جانا میں تمھیں مطمئن کروں گا۔‘‘
دوپہر کے وقت تیز ہو ا چلنے لگی ایک انگریزی اخبار کا صفحہ نہ جانے کس طرف سے ہوا میں اُڑتا ہوا مہا گیدڑ کے قریب آ کر گر پڑا ۔ مہا گیدڑ نے فوراً وہ صفحہ اچک لیا اور اپنے پیٹ کے نیچے رکھ کر اطمینان سے لیٹ گیا۔اتنی بے پایاں مسرت تو ہنو ما ن جی کو سنجیونی بُوٹی والا پہاڑاُٹھانے کے بعد بھی نہیں ہوئی تھی جتنی انگریزی اخبار کا صفحہ ملنے کے بعد مہا گیدڑ کو ہوئی تھی ۔
پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق اگلی رات سب گیڈر اپنے سردا رمہاگیدڑ کے ٹھکانے پر اکٹھے ہو گئے ۔مہا گیدڑ نے انگریزی اخبار کا وہ چیتھڑا جو اس نے لپیٹ کر اپنے پیٹ کے نیچے چھپا رکھا تھا باہر نکالا اور فخر سے انگریزی اخبار کا وہ صفحہ دوسرے گیدڑوں کو دکھا کر کہنے لگا:
’’اے قلعہ ٔ فراموشی کے مفرور گیدڑو! تمھیں کیامعلوم کہ جب سے میں بیمار ہوا ہوں پورا جنگل سنسان ہو گیاہے ۔ ریچھ ،ہاتھی ،بھیڑیے ،چیتے اورشیر سب مجھے اپنامشیر اور محسن سمجھتے ہیں۔میری گوشہ نشینی کے باعث جنگل کے سارے قوانین اور جنگل کا پورا نظا م بھی تلپٹ ہو گیاہے ۔ میری بیمار پرسی کے لیے آج دو پہر کمپنی بہادرکا نمائندہ بھی یہاں کچے دھاگے سے کھنچا چلا آیا تھا۔میں نے کسانوں کی گیدڑ دشمنی اور سادیت پسندی سے اُسے آگا ہ کر دیا ہے۔یہ گیدڑ پروانہ مجھے کمپنی بہادرکا نمائندہ دے گیاہے ۔اب کوئی دشمن تم پر حملہ آور ہو تو اُسے یہ گیدڑ پروانہ دکھا دینا وہ فوراً وہا ں سے رفو چکر ہو جائے گا ۔اب جنگل کی مخلوق کو جان لینا چاہیے کہ گیدڑوں کی راہ میں جو دیوار بنے گا وہ نہیں رہے گا۔‘‘
اگلی رات تو خیریت سے گزر گئی نہ تو کسی کسان نے گیدڑوں کو روکا اور نہ ہی کہیں سے کوئی کتا بھونکا ۔ ایسا محسوس ہوتاتھا کہ کھیتوں کے سب محافظ خچر بیچ کر مُردوں سے شر ط باندھ کر لمبی تان کر سو گئے ہیں ۔ سب گیدڑوں نے جی بھر کر خربوزے کھائے اور واپسی پر مہاگیدڑ کے لیے بھی بہت سے خربوزے لائے ۔سب گیڈر خوش تھے کہ مہا گیدڑ کی وجہ سے انھیں جو گیدڑ پروانہ ملا ہے اس کی وجہ سے اب انھیں کھیتوں سے خربوزے کھانے کی کھلی چھٹی مل گئی ہے ۔ خربوزے کھانے کے بعدمہا گیڈر کے ٹھکانے پر سب گیدڑ وں نے خوب دھمال ڈالی اور فیصلہ کیا کہ مہا گیدڑ کی گیدڑ دوستی کے صلے میں اب جنگل کا بادشاہ شیر نہیں بل کہ مہا گیدڑ ہی ہو گا۔
دوسرے دن شام ڈھلی تو گیڈر بے چینی سے راتوں کے پچھلے پہر کے منتظر تھے ۔ساری دنیا محو خواب تھی مگر گیدڑتارے گن رہے تھے۔جوں ہی گیدڑ خربوزوں کے کھیت میں داخل ہوئے کسان لاٹھیاں لے
کر غارت گر گیدڑوں پر ٹوٹ پڑے اور شکاری کتے بھونکتے ہوئے گیدڑوں پر جھپٹے اور انھیں کاٹنے لگے ۔گیدڑوں کا گرم مزاج سرغنہ اپنے منھ میں گیدڑ پروانہ تھامے کسان کی طرف بڑھا تو کسان نے اُس پر لاٹھی سے وار کیا اور گیدڑ و ں کے سرغنہ کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔زخمو ں سے چُور گیدڑ وہاں سے بھاگ نکلے اور واپس مہا گیدڑ کے پاس پہنچے ۔
گیدڑوں کے سر غنہ نے گیدڑ پروانہ مہا گیدڑ کے سامنے پھینک دیااور کہا’’ خربوزوں کے کھیتوں کے مالکوں نے اس گیدڑ پروانے کی طرف آ نکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔‘‘
زخمی گیدڑوں کی چیخ پکا رسن کر مہاگیڈر آ گ بگولا ہو گیا اور گیدڑ بھبکی دینے لگا ’’اے میرے زخم خوردہ ساتھیو ! تم سب جانتے ہو کہ اس جنگل میں شرح خواندگی بہت کم ہے۔اونہہ ! جاہل کہیں کے، میں ان سب حملہ آوروں سے نپٹ لوں گا ۔یہ بُزِ اخفش کیاجانیں کہ دنیا بھر کے ہر جنگل میں اب گیدڑ پروانہ ہی چلے گا۔
آنے والے دور میں وہی یگانہ ہوگا
جس کے پاس کوئی گیدڑ پروانہ ہو گا ‘
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Ibnesultan

Read More Articles by Ghulam Ibnesultan: 265 Articles with 259459 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Apr, 2020 Views: 817

Comments

آپ کی رائے
قابل مصنف کے مضامین افادیت سے لبریز ہیں ۔ان سے اردو زبان و ادب کے طلبا استفاد ہ کر سکتے ہیں۔چھے جولائی دو ہزار سترہ کو مصنف کے نو جوان بیٹا اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث اُسے داغ مفارقت دے گیا۔یہ مضامین تزکیہ نفس کی ایک سعی ہے ۔پچیس اپریل دو ہزار بیس کو ماہ صیام کی پہلی تاریخ تھی ۔عادی دروغ گو اور پیشہ ور ٹھگوں نے اُسے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
یادوں کے گریبانوں کے رفو
پر دِل کی گزر کب ہوتی ہے
اِک بخیہ اُدھیڑا،ایک سیا
یوں عمر بسر کب ہوتی ہے
It is very shocking that habitual liars have deceived a humble writer .Misbi and qfsoo are robbers.I pray for safety of writer.Article is thought provoking .
ایہہ سار ے مضمون وچھڑن والے چن دی یادگارہن ۔ایہناں نوں اس خورشیدجمال پتر کمپوز کیتا۔اوسد ے بعد کمپیوٹر کوئی اچکا لے گیا۔ہک یو ایس بی تے گوگل ڈرائیو وچ لکھتاں باقی بچ گئیاں ۔ایہہ لکتھاں ہن ہک ہک کر کے پیش کیتیاں جا رہیاں نیں۔کینہ پرور حاسد،محسن کش سفہا اور اجلاف و ارذال فطرت کی تعزیروں سے غافل نہ ر ہیں ۔
وہ لائیں لشکر اغیار و اعدا ہم بھی دیکھیں گے
وہ آئیں سر ِ مقتل ،تماشاہم بھی دیکھیں گے
By: Saleh Muhammad , Doaba on May, 09 2020
Reply Reply
71 Like
I have studied these very wise comments of Rana Sultan Mehmud .Al of you remember me since 6th July 2017.It is will of God Almighty and we are bound to obey it.Habitual liars have deceived writer on 25th April 2020.Habitual liars will die in their own sins .I pray for t he safety of writer .Style and discourse of this story is very interesting .
By: Sajjad Hussain , Karbla Haidri on Apr, 27 2020
Reply Reply
92 Like
انسان شناسی آج کے دور میں بہت کٹھن مر حلہ ہے ۔رنگ بدلنے میں لوگ گرگٹ کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔بے وفائی میں طوطا ابھی ان کے قدموں کی دُھول ہے ۔پچیس اپریل سال دو ہزار بیس اور یکم ماہ صیام یاد آگیا۔کہانی عمدہ ،اسلوب د ل کش اور موضوع منفرد ہے ۔قحط الرجال کے موجودہ دور میں ہوس اور حرص نے انسان کو اخلاق سے عاری کر دیاہے ۔یہ علامتی کہانی پسند آئی جس میں زندگی کی گہری معنویت کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ابن الوقت عناصر نے ہر طرف اندھیر مچا رکھاہے ۔مضمون نگار کے بارے میں کیا عرض کروں کہ وہ چھے جولائی دو ہزار سترہ سے آلام روزگار کے مہیب بگولوں کی زد میں ہے ۔
By: Rana Sultan Mehmud, Golarchi on Apr, 26 2020
Reply Reply
94 Like