مقدس گائے

(Arshad Sulehri, )

ہندوؤں سے سخت اختلاف تھا ، رفع ہوگیا کہ گائے مقدس ہوتی ہے۔شوشل میڈیا پرویڈیو وائرل ہوئی کہ صرف گائے مقدس نہیں ہوتی ہے اونٹ بھی مقدس ہوتا ہے۔گھوڑے بھی مقدس ہوتے ہیںمگر جب تک ریس جیتتے رہتے ہیں ۔علمی جہالت ہے ۔کئی اور بھی چوپائے مقدس ہوتے ہوں گےمگر گائے اعلی مقام پر فائز ہے۔یعنی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

ہندو دوست سے کافی عرصہ پہلے گائے کی تقدیس پر تبادلہ خیال سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ گائے کو گاؤ ماتا کیوں کہا جاتا ہے اور گائے مقدس کیوں ہوتی ہے۔موصوف کا کہنا تھا کہ جس ماں بچے کو دودھ پلاتی ہے۔گائے کا بھی ہم دودھ پیتے ہیں ۔اس نسبت سے گاؤماتا ہے۔یہاں تک تقدس کا سوال ہے تو گائےدودھ کے ساتھ ہمیں روٹی پکانے کا ایندھن بھی فراہم کرتی ہے۔روزگار کا بھی ذریعہ ہے۔

گائے کی تقدیس کے ہزار پہلو ہیں ۔خوبصورت پہلو ہے کہ عمررسیدہ ہونے پر تقدس مزید بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان میں یوں تو ہر طبقہ بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب و مسلک گائے کے تقدس کا قائل ہےمگر صوبہ پنجاب میں گائے کی تکریم عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔روگردانی پر فوری فتویٰ آتے ہیں اور ایمان خطرے میں ہے کہ گھنٹے بجائے جاتے ہیں۔سٹرکوں پرنکل کر واویلہ کیا جاتا ہے۔گائے پسندی میں ہم یکتا قوم ثابت ہوئے ہیں ۔اس یقین کے ساتھ تقدیس خوانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں کہ ہم اگر زندہ ہیں تو مقدس گائے کے طفیل ہیں وگرنہ ہڑپ کرلیے گئے ہوتے ۔

انتہائے عشق کی ولولہ انگیزیاں اپنےعروج پر ہیں ۔ماہ رمضان کی بابرکت ساعتوں میں ٹولیوں کی ٹولیاں نوحہ کناں ہیں کہ ستم ہوا کہ سچ بول کر گناہگاروں سے معافی مانگ لی گئی ہےجبکہ جھوٹوں اور فریب کاروں کو معافی مانگنے کی ضرورت ہے ۔جنہوں سقراط سے بھی بڑا پاپ کیا ہے۔عذاب الہی کو دعوت دی ہے۔جھوٹے اور رفریبی اپنی غلطی کا مداوا کریں اور فوری معافی مانگ لیں ۔

مبارک ہو ،مبارک ہو۔یاران وطن نے تو مہرثبت کردی ہےاور عملی طور پر عالی مرتبت قرار دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔بعد اس کے کس کی مجال ہے کہ لب کشائی کی جرات کرے۔یہاں تو آوے کا آوا کام پر لگادیا جاتا ہے۔ہم نوالہ و ہم پیالہ تو دور کی بات ہے۔جرات اظہار پر خون کے رشتے دشمن ہوجاتے ہیں۔جگ بیتی کیا بتائیں ،ہڈ بیتی ہے۔

مگر دیوانوں کا کوئی کیا کرے۔ بات ہی وہ کرتےہیں جو کسی کو پسند نہیں ہوتی ہے۔الزام آتے ہیں کہ الحاد پسند ہیں۔حب الوطنی سے عاری ہیں۔باہر سے احکامات لیتے ہیں ۔ اپنے ملک کے پسے ہوئے طبقات کے حقوق پر بات کرتے ہیں۔کبھی یہ عورت مارچ کی حمایت کرتے ہیں ۔مگر انہیں جو کہا جاتا ہے۔ وہ نہیں کرتے ہیں ۔جھوٹے ہیں،مکار،فریبی ہیںیہاں تک کہ غدار ہیں۔اسلام دشمن ہیں ۔ملک دشمن اور کافروں کے ایجنٹ ہیں۔یہی کہناہے اور آپ بھی کنبہ مقدسیہ میں کیوالیفائی کر سکتے ہیں۔شوشل میڈیا سمیت مین سٹریم میڈیا میں کئی جتن کر رہے ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔

مقدس گائے کا کنبہ وسعت اختیار کررہا ہے۔پہلے یہ اعزاز یکتا رہا ہے مگراب کچھ بھیڑیں بھی مقدس گائے کی جگالی کرتی نظر آتی ہیں۔ایک بھیڑ تو حد سے گزر جانے کو بے تاب ہے۔ بے تابی تو سب میں مگر مذکورہ کچھ زیادہ ہی آگے آگے چلنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔اپنے ہم راہیوں کی طرح اخلاقیات کی شرح بھی اس کی اپنی ہے ۔قوی امید مستقبل قریب میں مقام اسی کا ہےیعنی حالیہ انٹری کے بعد دوسری انٹری کی حق دار قرار پائے گی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arshad Sulahri

Read More Articles by Arshad Sulahri: 135 Articles with 44501 views »
I am Human Rights Activist ,writer,Journalist , columnist ,unionist ,Songwriter .Author .. View More
04 May, 2020 Views: 384

Comments

آپ کی رائے