لاک ڈاون ,خواجہ سراء اور ہمارا رویہ

(Iqbal Zarqash, Attock)

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک چیونٹی سے پوچھا تمھاری سال بھر کی کتنی خوراک ہے ؟ چیونٹی نے کہا چاول کے چند دانے !حضرت سلیمان علیہ اسلام نے چاول کے کچھ دانے ڈال کر سوراخ بند کر دیا اور ایک سال بعد سوراخ کھول کر دیکھا تو کچھ چاول باقی تھے حضرت سلیمان علیہ اسلام نے چیونٹی سے کہا تم نے چاول کے دانے کیوں بچائے ہوئے ہیں ؟چیونٹی نے جواب دیا کہ پہلے بات خدا کی تھی کہ اگر چاول کے سارے کھا بھی لیتی تو وہ اور دے دیتا لیکن اس بار میرا رزق انسان کے ہاتھ میں تھا اس لیے چاول کے دانے بچا کر رکھے کہ پھر ملے نہ ملے ۔بقول شاعر
ہماری روٹی ہمیں ہی دے اے خدا
تیرے بندے بہت ذلیل کرتے ہیں

آج لاک ڈاون کی صورت حال میں جہاں ہر طبقہ متاثر ہو ہا ہے وہاں ہمارے ملک کے خواجہ سراء بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں زیادہ تر خواجہ سراوئں کا ذریعہ معاش شادی بیا ہ کی تقریبات میں موسیقی کے پروگراموں پر منحصر تھا۔ لاک ڈاون کی وجہ سے ایسی تقریبات نہ ہونے کی وجہ سے خواجہ سراء اپنے چھوٹے چھوٹے کرائے کے فلیٹ یا گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔ کچھ خواجہ سراء بازاروں میں بھیک مانگ کر گزارہ کرتے نظر آرہے ہیں ایسی صورت حال میں ان کی مالی امداد کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کو بھی سامنے آنا ہوگا۔ اس سلسلے میں الخدمت فاونڈیشن کی خدمات قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے خواجہ سراؤں کے گھر گھر راشن پہنچانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو زیادہ تر بڑے شہروں تک محدود ہے تاہم ملک کے طول وعرض میں بسنے والے اس مظلوم طبقہ تک مکمل رسائی ایک مشکل کام ضرور ہے ناممکن نہیں۔ اس کے لیے خواجہ سراوں کے اردگرد بسنے والے لوگوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی بھر پور مدد کریں ۔

2017 ء کی مردم شماری کے مطابق خواجہ سراؤں کی جو تعداد بتائی گئی تھی وہ 10 ہزار 418 نفوس پر مشتمل ہے جبکہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے سروے کے مطابق یہ تعداد 3 لاکھ سے زائد بتائی جارہی ہے۔ صدر خواجہ سراء ایسوسی ایشن الماس بوبی کا بھی تعداد کے متعلق موقف یہی ہے کہ یہ تعداد 4 لاکھ کے لگ بھگ ہے کیونکہ اکثر خواجہ سراء کے شناختی کارڈ ہی نہیں بنے جس کی وجہ سے نادر کا ریکارڈ ان کی تعداد کم بتا رہا ہے اس میں خواجہ سراوں کے والدین کی کوتاہی یا پھر چالاکی کہہ لیں کہ ان کی پیدائش کا اندراج ہی نہیں کروایا جاتا تاکہ ان کو وراثت میں حصہ داری سے دور رکھا جائے۔ اکثر والدین کی بے حسی کہ وہ ان کو پیدا کر کے ان سے لاتعلق ہوجاتے ہیں اور ان کو اپنی اولاد ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہوتے ہیں یہ مظلوم طبقہ بے یار و مدد گار حالات کے رحم و کرم پر اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ایسے حالات میں یہ لوگ ہماری توجہ اور امداد کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں جو ہر ایک کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں ۔الخدمت فاونڈیشن پاکستان کے صدر محمد عبدالشکور نے ایک اہم بات میڈیا کو بتائی کہ وہ خواجہ سراوں کے لیے گھر بنواکر دینے اور ان کے روزگار کے لیے بھی کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں کراچی , لاھور , راولپنڈی ,پشاور وغیرہ جیسے بڑے شہروں میں اس پر کام کر رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اخوت فاونڈیشن بھی خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے حصے کا کام کر رہی ہے دیگر مخیر حضرات خاص طور پر بحریہ ٹاون کے ملک ریاض کو بھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔الخدمت فاونڈیشن کے مطابق خواجہ سراوں کو دوسرا بڑا مسئلہ جو پیش آ رہا ہے وہ اکثر خواجہ سراء مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہیں اور ان کو علاج معالجہ کی کوئی سہولت میسر نہیں خاص طور پر ان میں ایڈز سے مثاترہ افراد کی تعداد کافی ہے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ خواجہ سراء کو ہمیشہ نفرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو بے حسی اور غیر انسانی رویہ ہے پاکستان میں بے سہارا خواجہ سراء کے لیے کوئی پناہ گاہ میسر نہیں جہاں وہ رہ سکیں ان کے لیے سرکاری سطح پر روزگار کے بھی دروزے بند ہیں جس کی وجہ سے بعض خواجہ سراء جسم فروشی جیسے مکروہ دھندہ میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ صدر خواجہ سراء ایسوسی ایشن الماس بوبی نے بھی کہا ہے کہ بعض خود ساختہ خواجہ سراء ہماری صفوں میں گھس آتے ہیں جو میک اپ کر کے خواتین کا روپ دھار کر ایسے مکروہ دھندہ میں ملوث ہیں اور خواجہ سراؤں کی بدنامی کے ساماں پیدا کر رہے ہیں ایسے خود ساختہ افراد کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ الماس بوبی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں خواجہ سراؤں کو ان کے حقوق ملنے چاھیے، صرف خانہ پری تک فائلوں کے پیٹ بھر دیئے جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر کچھ نہیں ھوتا انہوں نے کہا سرکاری ھسپتالوں میں بھی خواجہ سراء کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے خواجہ سراء کو شدید بیماری میں بھی ہسپتال ایڈمٹ نہیں کیا جاتا اور انھیں گھروں میں بھیج دیا جاتا ہے خواجہ سراؤں کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہیں جس کے کسی کے پاس اعداد وشمار نہیں حتی کے موت کی صورت میں بھی ان کے جنازہ پڑھنے کے لیے بھی لوگ شرکت سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ الحمد اﷲ ہم مسلمان ہیں اس رویہ کا دکھ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلی میں بھی خواجہ سراؤں کی ایک نشست ہونی چاھیے جو ہمارے حقوق کی نگہبانی کر سکے ۔

یقینا خواجہ سراؤں کے حقوق کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے خاص طور پر ان کے والدین کو پابند بنایا جائے کہ وہ ان کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کو جائیداد میں بھی حصہ دیں اس سلسلے میں اگر قانون سازی کی بھی ضرورت ہو تو اس مسئلہ پر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اس مظلوم طبقہ کی شنوائی ہو سکے۔بقول پروفیسر سید نصرت بخاری
مرے طبیب مرے درد کا علاج بھی ہو
میں جاگ جاتا ہوں اکثر لہو لہو کرتے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Iqbal Zarqash

Read More Articles by Iqbal Zarqash: 69 Articles with 31228 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 May, 2020 Views: 221

Comments

آپ کی رائے