روزہ، تراویح ، اعتکاف اور شبِ قدر لاک ڈاؤن کے سایے میں

(Moulana Nadeem Ansari, India)

روزہ
معنی:رمضان المبارک کی سب سے اہم ترین عبادت روزہ ہے۔ ’روزہ‘ اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے، اُردو میں بھی اسے ’روزہ‘ کہتے ہیں۔ [ لغات کشوری] شریعت کی اصطلاح میں کھانے پینے اور مباشرت سے رُکے رہنے کا نام روزہ ہے، بہ شرط یہ کہ وہ طلوعِ صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک مسلسل رُکا رہے اور نیت روزے کی ہو۔ اسی لیے اگر غروبِ آفتاب سے ایک منٹ پہلے بھی کچھ کھا پی لیا تو روزہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر تمام چیزوں سے پرہیز تو پورے دن پورے احتیاط سے کیا، مگر نیت روزے کی نہیں کی، تو بھی روزہ نہیں ہوگا۔[معارف القرآن]

ثواب:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی امید میں روزہ رکھے، اُس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ [بخاری ،مسلم]
حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، شاید تم متقی اور پرہیزگار بن جائو۔[البقرۃ]آگے فرمایا:جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو، چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے۔ [البقرۃ]اسی لیے ماہِ رمضان کے روزے ہر مکلف پر- جس میں روزہ رکھنے کی طاقت و استطاعت ہو- اداء ً و قضاء ًفرض ہیں۔[شرح وقایۃ،ہندیہ]
لاک ڈاؤن میں روزہ
بعض لوگ اپنے کام دھندوں میں محنت و مشقت کا عذر کرکے روزے نہیں رکھتے، اُن کا یہ عذر شریعت میں چنداں معتبر نہیں۔ لاک ڈاؤن کے زمانے میں تو یہ عذر باقی ہی نہیں رہتا، اس لیے ہر مکلّف شخص روزے ضرور رکھے۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ کُرونا وائرس سے حفاظت کی تدبیر میںسے یہ بھی ہے کہ بار بار پانی پیا جائے، تاکہ حلق خشک نہ رہے اور اس مرض سے بچا جا سکے، تو محض اتنے اندیشے سے روزہ چھوڑنا جائز نہ ہوگا۔اگر کوئی شخص واقعی اس مرض میں مبتلا ہو اور ماہر ڈاکٹر اُسے روزہ رکھنے سے روک دے، اس کے لیے گنجائش ہوگی کہ صحت یابی کے بعد چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کر لے۔فقہا نے لکھا ہے کہ جب بیماری ایسی ہو جس میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہے یا روزہ رکھنے کی صورت میں بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو، خواہ اُس کا علم، کسی علامت یا تجربے سے ہو یا ماہر طبیب کے آگاہ کرنے سے۔[ہندیہ]

تراویح یا قیامِ رمضان
معنی: لفظ تراویح ’ترویحہ ‘سے ماخوذ ہے ۔ تر ویحہ اصل میں ہر جلسہ( نشست) کانام ہے، لیکن اصطلاحاًرمضان المبارک کی راتوں میں ہر چار رکعت کے بعد بیٹھنے کو ترویحہ کہا جاتا ہے، کیوں کہ لوگ اس وقفے میں (تھوڑا) آرام کرتے ہیں۔پھر مجازاً چار رکعت کے مجموعے کو ’تراویح‘ کہا جانے لگا۔[حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح]

ثواب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے، اس کے سابقہ گناہ بخش دیےجاتے ہیں۔[بخاری، مسلم]
حکم:رمضان المبارک کی ہر رات میں عشاء کی نماز کے بعد بیس رکعات تراویح، دس سلاموں سے پڑھنا، مرد وعورت سب کے لیے سنتِ مؤکدہ ہے۔ [خانیہ ، ہندیہ]اس کا وقت عشاء کے بعد سے صبحِ صا دق تک رہتا ہے،بہتر یہ ہے کہ عشاءاور وتر کے درمیان پڑھ لی جا ئے ، لیکن اگر وتر کے بعد ترا ویح پڑھیں، تو بھی شرعاًدرست ہے۔[تاتارخانیہ]

لاک ڈاؤن میں تراویح
مَردوں کے لیے مسجد میں تراویح کی نماز با جماعت ادا کرنا سنتِ مؤکدہ کفایہ ہے، اس لیے لاک ڈاؤن کی صورت میں بھی دو تین لوگ تو محلّے کی مسجد میں اس کا اہتمام ضرور کریں، اگر محلّے کی مسجد میں تراویح کی جماعت نہ ہوئی، توسب محلّے والے گنہ گار ہوں گے۔[مراقی الفلاح مع الطحطاوی] ہاں مسجد میں باجماعت تراویح جاری رہے اورباقی لوگ اپنے اپنے گھر پر رہ کر تراویح تنہا یا با جماعت ادا کریں، اس میں کوئی مضایقہ نہیں۔رہا ختمِ قرآن کا مسئلہ تو ترا ویح میںکم سے کم ایک مر تبہ ختمِ قرآن سنت ہے، اس سے زائد مستحب ہے ۔[ہند یہ]لیکن یہ دونوں سنتیں الگ الگ ہیں؛تمام کلام اللہ شریف کا تراویح میں پڑھنا یا سننا یہ مستقل سنت ہے اور پورے رمضان شریف کی تراویح مستقل سنت ہے۔[فضائلِ رمضان] اس لیے لاک ڈاؤن کی موجودہ صورت میں بھی حتی المقدور ان دونوں سنتوں پر عمل کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن اہلِ خانہ میں کوئی بھی حافظ نہ ہو تو جتنا قرآن مجید یاد ہو اُسی کے ساتھ یا الم ترکیف سے روزانہ بیس رکعت تراویح پڑھ لینے سے قیامِ رمضان کی فضیلت حاصل ہو جائے گی، ان شاء اللہ۔[درمختار مع الشامی]

اعتکاف
اعتکاف کااصل مقصد شبِ قدر کی تلاش ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔[بخاری،اخرجہ مسلم]

معنی: لغت میں ’اعتکاف‘ کے معنی ٹھہرنے کے ہیں یعنی کسی جگہ میں ٹھہرنا اور اپنے آپ کو اس میں روکنا۔ شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف کے معنی ’مسجد میں ثواب کی نیت سے ٹھہرنا ہیں‘، یعنی مردکا ایسی مسجد -جس میں با جماعت نماز ہوتی ہو، یا امام اور مؤذن مقرر ہوں اور عورت کا اپنے گھر کے کسی حصے-میں ثواب کی نیت سے ٹھہرنا۔[درمختار مع رد، ہندیہ]

ثواب: حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ نے سفر کیا (اور اعتکاف نہیں کر سکے) تو اُس کے اگلے سال بیس روز اعتکاف فرمایا۔[ابن ماجہ، ابوداود]

حکم:رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت ِمؤکدہ علی الکفایہ ہے، بستی میں سے بعض لوگوں کے کرلینے سے سب کے ذمّے سے ادا ہوجاتا ہے اور اگر کوئی بھی نہ کرے تو سب گنہگار ہوں گے۔[مجمع الانہر]

لاک ڈاؤن میں اعتکاف
لاک ڈاؤن کی صورت میں بھی ایک دو لوگ مسجد میں اِس سنّت کو جاری رکھیں، بہتر یہ ہے کہ مسجد کے قرب و جوار میں رہنے والے ایک دو صحت مند نوجوان اس کے لیے بہ رضا و رغبت تیار ہو جائیں، تاکہ اہلِ خانہ کے لیے اُن کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی آسان ہو۔عورتوں کے لیے بھی اعتکاف مسنون ہے ، جس طرح مَردوں کے لیے مسنون ہے، لیکن اعتکاف کے سلسلے میں مسجد کا جو حق ہے وہ خواتین کے اعتکاف سے ادا نہیں ہوسکے گا ، اس لیے کہ وہ گھر میں اعتکاف کریں گی اور عورتوں کے لیے مسجد کے گوشے میں اعتکاف کرنا مکروہ ہے۔[الدرالمختار مع ر دالمحتار] خواتین کے حق میں بہتر یہی ہے کہ گھر میں نماز کے لیے جس جگہ کو مخصوص کر رکھا ہو، اُسی میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہر جائے، اگر مخصوص نہ کیا ہو تو اب کسی خاص حصے کومخصوص کر لے۔ [ایضاً ]

شبِ قدر
رمضان المبارک کا ہر ہر لمحہ قیمتی ہے، لیکن آخری عشرے کی تو بات ہی اور ہے۔ یہی سبب ہے کہ جب(رمضان المبارک کا) آخری عشرہ آجاتا تو حضرت نبی کریم ﷺ اپنا تہبند مضبوط باندھ لیتے، رات کو خود بھی جاگتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے۔[بخاری، اخرجہ مسلم]اس عشرے میں سب سے اہم چیز شبِ قدر ہے، اسی کے لیےاعتکاف بھی مشروع ہوا۔ قرآن مجید میں مکمل ایک سورۃ اس کی فضیلت میں نازل ہوئی ہے۔
ثواب:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ محض ثواب کی نیت سے عبادت میں گزارے، اُس کے گذشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔[بخاری، مسلم]

حکم:اس شب میں حسبِ توفیق کوئی بھی عبادت کی جا سکتی ہے، احادیثِ شریفہ میں اس رات میں کرنے کے لیے کوئی خاصل عمل نہیں بتایا گیا، سوائے ایک دعا کے۔ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں :میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ؛اگر میں شبِ قدر کو پاؤںتو کیا دعا کروں ؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم اس طرح دعا کرواَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاَعْفُ عَنِّی۔اے اللہ! آپ بہت معاف فرمانے والے اور معافی کو پسند فرمانے والے ہیں، پس مجھے بھی معاف فرما دیجیے۔[ترمذی،ابن ماجہ]رہا یہ سوال کہ شبِ قدر کب ہوتی ہے؟ تو اکثر روایتوں میں یہی ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق رات میں تلاش کرو۔ حضرت نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ اکیسویں، پچیسویں، انتیسویں یا رمضان کی آخری رات ہے۔۔۔ اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ یہ ستائیسویں رات ہی ہے اور فرماتے کہ ہمیں حضرت نبی کریم ﷺ نے اس کی علامات بتائی تھیں، ہم نے اُسے گن کر یاد کرلیا۔اور ابوقلابہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: شبِ قدر آخری عشرے میں بدلتی رہتی ہے۔[ترمذی]

لاک ڈاؤن اور شبِ قدر
عام حالات کے متعلق علما نے لکھا ہے کہ بعض جگہ شب ِ قدر میں لوگ جمع ہوکر (اجتماعی طور پر ) شب بیداری کا خاص اہتمام کرتے ہیں، ایسا کرنا مکروہ و ناپسندیدہ ہے، اتفاقاً اگر دو چار آدمی جمع ہو جائیں تو اور بات ہے، بہ طور خود ہر شخص حسب ِ ہمت عبادت میں مشغول رہے ، اس طرح خاص اہتمام اور انتظام خلاف ِ شرع ہے ۔[اصلاح الرسوم]اس لیے لاک ڈاؤن کی صورت میں اس بات کا مزید خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس مبارک رات میں اپنے اپنے گھروں میں رہ کر عبادات کا اہتمام کریں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maulana Nadeem Ahmed Ansari

Read More Articles by Maulana Nadeem Ahmed Ansari: 236 Articles with 141387 views »
(M.A., Journalist).. View More
08 May, 2020 Views: 257

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ