چھ قسم کے لوگوں کو خدا برا جانتا ہے

(پیرآف اوگالی شریف, khushab)
ھ قسم کے لوگوں کو خدا برا جانتا ہے
از تحقیق پیرطریقت مرد حق قلندر مجاہد عقیدہ ختم نبوت منظور غوث جلی و ہندالولی فیض یافتہ ہیربغدادی و پیرپٹھان پروردہ نگاہ شیخ المعرفت ابوالحامد پیر محمد امیرسلطان چشتی قادری مرکزی سیکرٹری اطلاعات ونشریات پاکستان مشائخ کونسل
نیک سادات تعظیم اور برے سادات در گزر کے مستحق ہیں
اخرج الدیلمی ، عن ابی هریرة ؛ قال: قال رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :(( ان اﷲ یبغض الآکل فوق شبعه ،والغافل عن طاعة ربه، والتارک لسنة نبیه ، والمخفر ذمته ، والمبغض عترة نبیه ، والموذی جیرانه ))

چھ قسم کے لوگوں کو خدا برا جانتا ہے
از تحقیق پیرطریقت مرد حق قلندر مجاہد عقیدہ ختم نبوت منظور غوث جلی و ہندالولی فیض یافتہ ہیربغدادی و پیرپٹھان پروردہ نگاہ شیخ المعرفت ابوالحامد پیر محمد امیرسلطان چشتی قادری مرکزی سیکرٹری اطلاعات ونشریات پاکستان مشائخ کونسل
نیک سادات تعظیم اور برے سادات در گزر کے مستحق ہیں
اخرج الدیلمی ، عن ابی هریرة ؛ قال: قال رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :(( ان اﷲ یبغض الآکل فوق شبعه ،والغافل عن طاعة ربه، والتارک لسنة نبیه ، والمخفر ذمته ، والمبغض عترة نبیه ، والموذی جیرانه ))
دیلمی نے ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اسلا م نے ان چھ قسم کے لوگوں کے بارے میں کہ جنھیں خدا بری نگاہ سے دیکھتا ہے ،ارشادفرمایا :
١۔ خدا اس شخص پر غضبناک ہوتا ہے جو شکم سیر ہونے کے باوجود کھانا کھائے
٢۔اور جو اپنے پرور دگا ر کی اطاعت سے غافل رہے ۔
٣۔اور جو سنت رسول کو ترک کرے ۔
٤۔ اور جو عہد شکنی اور بیوفائی کرے ۔
٥۔ اورجوپنے نبی کی آل (عترت ) سے بغض رکھے۔
٦۔ اورجو اپنے پڑوسیوں کو ستائے ۔(١)
اخرج الدیلمی ، عن ابی سعید الخدری ؛ قال: قال رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :(( اهل بیتی والانصار کرشی و عیبتی ، و موضع سرتی و امانتی ، فاقبلوا من محسنهم ، وتجاوزوا عن مسیئهم ))
دیلمی نے ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے کہ رسول اسلام نے فرمایا :میرے اہل بیت(سادات) اور انصار میرے قلب و جگر اور میرا ظرف ہیں ،لہٰذا ان میں سے جو نیک ہوں ان کا خیر مقدم(تعظیم) کرو اور ان میں سے جو برے (٢)ہو ان کو درگزر کرو۔ (٣)
اسناد و مدار ک کی تحقیق :
(١)مذکورہ حدیث حسب ذیل کتاب میں بھی نقل کی گئی ہے :
متقی ہندی ؛ کنزالعمال ج٩،ص١٩١۔
(٢) محترم قارئین! حدیث کا یہ جملہ کہ'' ان کے بروں سے دور رہو'' یہ انصار سے مربوط ہے ، ا ہل بیت(ع) سے نہیں، کیونکہ اہل بیت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان برے افراد کا پایا جانا محال ہے ، یا پھر اہل بیت کے معنی میں وسعت دی جائے یعنی اہل بیت میں وہ تمام لوگ شریک ہوں جو رسول کے کسی نہ کسی طرح رشتہ دار ہوں ، اس صورت میں اس جملہ کا مفہوم صحیح ہوجائیگا ، لیکن یہ توجیہ اور تاویل صحیح نہیں ہے ، کیونکہ رسو ل کے اہل بیت میں اہل سنت کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ اہل بیت میں صرف اور صرف فاطمہ الزہرا اور بقیہ ائمہ ہیں مترجم
(٣)مذکورہ حدیث حسب ذیل کتابوں میں بھی نقل کی گئی ہے :
متقی ہندی ؛ کنزالعمال ج٩،ص١٩١۔الصواعق المحرقة ص ٢٢٥۔ الفصول المہمة ص ٢٧۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: پیرآف اوگالی شریف

Read More Articles by پیرآف اوگالی شریف: 821 Articles with 808601 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 May, 2020 Views: 229

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ