آدم و ابلیس

(Tariq Zafar Khan, Calgary)
قصہء آدم علیہ السلام و ابلیس کا خلاصہ اور تین اسباق۔

آدم کے بنائے جانے سے پہلے اللہ تعالٰیٰ کا منصوبہء خلافت سب فرشتے اور ابلیس پہلے سے جانتے تھے
فرشتوں نے حکمت جاننے کے لیے سوال کیا،۔۔۔۔۔۔۔ ابلیس خاموش رہا
آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور علم الاسماء عطا کیا گیا ، لیکن منصوبہء خلافت سے وہ ناواقف تھے
فرشتے آدم‏ علیہ السلام کے علم کے مقابلے میں کم علمی قبول کر کے سجدے کا حکم بجا لاۓ
ابلیس بھی علم الاسماء سے ناواقف تھا، مگر اس نے سجدہ نہیں کیا!
ابلیس نے نافرمانی کی اور بڑائ کا تکبر کیا ، ملعون ہونے کے بعد مہلت مانگی۔
آدم علیہ السلام کو جنّت بھیج دیا گیا، اور بتایا گیا کہ (سورہ سُوْرَةُ طٰهٰ)
یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے
96 ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلوا دے 97
اور تم مصیبت میں پڑ جاوٴ۔ یہاں تو تمہیں یہ آزمائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھُوکے ننگے
رہتے ہو، نہ پیاس اور دُھوپ تمہیں ستاتی ہے
صرف ایک پابندی لگائ گئ کہ»اس درخت کے پاس نہیں جانا۔
"یہ بحث غیر ضروری ہے کہ وہ درخت کونسا تھا اور اس میں کیا خاص بات تھی کہ اس سے منع کیا گیا۔ منع کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس درخت کی خاصیّت میں کوئی خرابی تھی اور اس سے آدم و حوّا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔
اصل غرض اس بات کی آزمائش تھی کہ یہ شیطان کی ترغیبات کے مقابلے میں کس حد تک حکم کی پیروی پر قائم رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کسی ایک چیز کا منتخب کر لینا کافی تھا۔ اسی لیے اسی لیے اللہ نے درخت کے نام اور اس کی خاصیت کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔" تفہیم القرآن

آدم علیہ السلام یہ دلیل بھی دے سکتے تھے:
یہ تو پہلے ہی طے تھا کہ مجھے زمین پہ بھیجا جاۓ گا ، جنت تو صرف ایک جال تھا۔ ۔۔میرا کیا قصورہے؟
تقدیر تو پہلے ہی بنائ جا چکی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ میں کیا کرنے والا ہوں، ۔۔میری کیا غلطی ہے؟
لیکن آدم علیہ السلام نے بحث و حجت کے بجاۓ اور اللہ کو الزام دینے کے بجاۓ اپنی غلطی تسلیم کی اور ذاتی ذمہ داری قبول کی،
اگر چہ کہ میری منطق درست معلوم ہوتی ہے، میری عقل کا کہنا قابل فہم لگتا ہے ، لیکن میری عقل محدود ہے، کیونکہ میں انسان ہوں۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے، کہ میں لالچ میں آ گیا تھا۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔
یہی طرز عمل اللہ کو مقصود ہے۔ پھر وہ معاف کر دیتا ہے۔
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿٣٧﴾

تین اسباق

1۔جو لوگ ذمہ داری قبول نہیں کرنا چاہتے وہ بحث کرتے ہیں ، اللہ پہ الزام دھرتے ہیں ان کا رویہ ابلیس جیسا ہوتا ہے۔
اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡهُ​ ۚ خَلَقۡتَنِىۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ
2۔ذمہ داری قبول کرکے دعاۓ استغفار کرنا آدم علیہ السلام کا طریقہ ہے۔
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
3۔اللہ کی نافرمانی سے انسان اللہ کی حفاظت سے محروم ہو جاتا ہے
فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Zafar Khan

Read More Articles by Tariq Zafar Khan: 4 Articles with 1799 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 May, 2020 Views: 178

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ