سیرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

(محمد عمر صدیقی, Karachi)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مختصر اور چنیدہ حالات زندگی آج کی نوجوان نسل تیار کرنے والی ماؤں بہنوں کے لئے ایک تحفہ

غیر معمولی اشخاص اپنے بچپن میں ہی اپنی حرکات و سکنات اور نشو و نما میں ممتاز ہوتے ہیں.. اُن کے ایک ایک خد و خال میں کشش ہوتی ہے.. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بچپن بھی روشن اور سعادت مندی سے بھرپور گزرا.. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لڑکپن میں کھیل کود کا شوق تو تھا مگر دو شوق مرغوب تھے.. گڑیاؤں سے کھیلنا اور جھولا جھولنا..

گڑیائیں تو مدت مدید تک آپ کے پاس رہیں.. سنن ابوداؤد کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غزؤہ خیبر یا غزؤہ تبوک سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پاس گڑیائیں دیکھیں تھیں جو ایک طاق میں رکھی ہوئی تھیں اور اُن کھلونوں میں ایک پروں والا گھوڑا بھی تھا..

وہ اپنے نکاح ہونے سے چند لمحے قبل تک اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں جب والدہ آئیں اور انہیں لے گئیں.. گھر میں لگی رونق اور چہل پہل دیکھ کے اندازہ لگایا کہ میرا نکاح ہو گیا ہے لیکن پوچھا نہیں اور پھر اماں نے خود بتادیا کہ تمہارا نکاح ہو گیا ہے.. عمر کا کوئی چھٹا سال مکمّل کیا تھا.. کھیلنے کی اتنی شوقین تھیں کہ شادی کے بعد بھی گھر میں سہیلیاں کھیلنے آتی تھیں.. ان کے ساتھ بیٹھ کر گڑیا کھیلا کرتی تھیں.. اور جب سرتاج آتے تو سہیلیاں چلی جاتیں اور پھر اپنے شوہر کے ساتھ کھیلا کرتیں..
اپنے نکاح کے متعلق امی جان فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام ریشم کے سبز کپڑے میں (لپٹی ہوئی) اُن کی تصویر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دنیا و آخرت میں آپ کی اہلیہ ہیں..

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:
میرا نکاح بھی شوال میں ہوا۔رخصتی بھی شوال میں ہوئی۔حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیویوں میں کونسی مجھ سے زیادہ نصیب والی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ تھی.. (یہ ان کا فخر تھا)
یہ نکاح کائنات کا سب سے مبارک نکاح تھا جو محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنين عائشہ بنت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کیا.. نکاح کے وقت عمر چھ سال تھی اور رخصتی کے وقت نو سال تھی.. آپ نو سال کی عمر میں بالغ ہو گئیں تھیں.. شروع میں بالکل دبلی پتلی تھیں بعد میں جسم فربہ ہو گیا تھا تو ذرا بھاری ہو گئیں تھیں.. رنگت سرخی مائل سفید تھی.. کنیت ام عبد اللہ اپنے بھانجے کے نام پر تھی.. عرب میں نام کے ساتھ کنیت کا ہونا اشراف کی شرافت کی نشانی تھی.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کو محبت میں کئی ناموں سے بلاتے تھے.. حمیرا، عائش اور بنت الصدیق یہ گویا آپ رضی اللہ عنہا کے Nick Name تھے..

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد تین سال تک میکہ میں مقیم رہیں.. 2 سال 3 ماہ مکہ مکرمہ میں اور 7 یا 8 مہینے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں مقیم رہیں..

حضرت عائشہ کی تعلیم و تربیت ان کے والد ماجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی.. ابو بکر صدیق علم و فضل اور حکمت و دانائی کے مجموعہ تھے.. انہوں نے بی بی عائشہ کو زیاده تر تاریخ و ادب کے علوم پڑھائے.. مگر ان کی اصلی تعلیم و تربیت کے دور کا آغاز رخصتی کے بعد شروع ہوا.. یا یوں کہہ لیں کہ دینی تعلیم رخصتی کے بعد ہی حاصل کی.. انہوں نے شادی کے بعد ہی قرآن پاک کا ناظرہ پڑھا..

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے ازواج المطہرات پر دس وجوہات سے فضیلت حاصل ہے.. پوچھا گیا: اُم المومنین وہ دس وجوہات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سواء کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا..
میرے سواء کسی ایسی خاتون سے نکاح نہیں کیا جس کے والدین مہاجر ہوں..
اللہ تعالیٰ نے آسمان سے میری براءت نازل فرمائی..
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرئیل امین علیہ السلام ایک ریشمی کپڑے میں میری تصویر لائے اور فرمایا: اِن سے نکاح کرلیجئیے، یہ آپ کی اہلیہ ہیں..
میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے..
میرے سواء اِس طرح آپ اپنی کسی اور بیوی کے ساتھ غسل نہیں کیا کرتے تھے..
آپ میرے پاس ہوتے تو وحی آ جایا کرتی تھی اور اگر کسی اور بیوی کے پاس ہوتے تو وحی نہیں آیا کرتی تھی..
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گلے اور سینہ کے درمیان میں ہوئی.. (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا سر اقدس صدیقہ رضی اللہ عنہ کی رانِ مبارک اور زانوئے مبارک کے درمیان میں تھا)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری باری کے دن فوت ہوئے.. (یعنی جب میرے یہاں مقیم تھے)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں مدفون ہوئے..

دوسری روایت میں ہے کہ تابعی عمیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ فرماتی ہیں کہ: مجھے چند چیزیں حاصل ہیں جو کسی عورت کو حاصل نہیں.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت میری عمر سات سال تھی.. آپ کے پاس فرشتہ اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کر آیا اور آپ نے میری تصویر دیکھی.. رخصتی کے وقت میں نو سال کی تھی.. میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، اُنہیں میرے سواء کسی عورت نے نہیں دیکھا.. میں آپ کی سب سے زیادہ چہیتی تھی.. میرے والد آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں مرض الموت کے ایام گزارے اور میں نے آپ کی تیمارداری کی پھر جب آپ نے وفات پائی تو آپ کے پاس صرف میں اور فرشتے تھے، کوئی اور نہ تھا..

زہد و قناعت کی وجہ سے صرف ایک جوڑا اپنے پاس رکھتی تھیں اور اسے ہی دھو دھو کر پہن لیا کرتی تھیں.. ایک کرتا جس کی قیمت پانچ درہم تھی اور یہ اُس زمانہ کے لحاظ سے اِس قدر بیش قیمت تھا کہ تقاریب میں دلہنوں کے لئے لے لیا جاتا تھا.. زعفران میں رنگ کر کپڑے پہنا کرتی تھیں..
بعض اوقات سرخ رنگ کا کرتا زیب تن فرماتیں.. اکثر سیاہ رنگ کا دوپٹہ استعمال فرماتیں.. کبھی کبھی زیور بھی پہن لیا کرتیں.. گلے میں یمن کا بنا ہوا خاص قسم کا سیاہ و سفید مہروں کا ہار ہوا کرتا تھا.
انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں بھی پہنا کرتی تھیں.. ایک ریشمی چادر آپ کے پاس تھی.. یہ ریشمی چادر آپ اوڑھا کرتی تھیں.. سر اقدس پر اکثر خوشبو لگا لیا کرتیں.. خود فرماتی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم مقام قاحہ میں پہنچے تو میرے سر سے زردی بہہ کر چہرے پر آئی کیونکہ میں نے نکلنے سے پہلے سر پر خوشبو لگائی تھی.. تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تمہارا رنگ بڑا پیارا ہے..
نماز چاشت پابندی سے اداء فرماتیں.. چاشت کی 8 رکعت ادائیگی آپ کا معمول تھا جو زندگی بھر رہا..
آپ کے بھانجے حضرت عروہ تابعی کہتے ہیں کہ میں نے صدیقہ (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کو دیکھا کہ آپ نے 70 ہزار درہم خیرات کیے اور اپنے کرتے کا دامن جھاڑ کر کھڑی ہوگئیں..
ایک بار حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس دو تھیلے بھر کر ایک لاکھ کی رقم بھیجی، آپ نے ایک طباق منگوایا، اُس دن آپ کا روزہ تھا.. آپ وہ رقم لوگوں میں بانٹنے لگیں.. جب شام ہو گئی تو کنیز کو افطاری لانے کا حکم دیا.. اُمِ ذرہ بولیں: اُم المومنین! آپ اِن درہموں میں سے ایک درہم کا گوشت منگوالیتیں جس سے آپ روزہ کھول لیتیں.. فرمایا: مجھے مت کہو، اگر تم مجھے یاد دلا دیتی تو میں گوشت منگوا لیتی..
حضرت سیدنا عروہ اُم لمومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کرتے ہیں کہ عائشہ صدیقہ نے ان سے فرمایا:
”اے بھانجے! ہم دو ماہ میں تین چاند دیکھتے اور حضور سراپا نور، شاہ غیور کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔“
حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی:
آپ کی گزر اوقات کیسے ہوتی تھی؟
انہوں نے فرمایا:
دو سیاہ چیزیں یعنی کھجور اور پانی پر ہوتی تھی.. سوائے اس کے کچھ انصار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پڑوسی تھے.. اُن کی کچھ دودھ والی اونٹنیاں تھیں اور وہ ان کا دودھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا کرتے تھے.. اور اپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ دودھ ہمیں پلادیا کرتے تھے..
مسلمانوں کی مدینہ منورہ آمد سے اُنہیں جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا، اُن میں منافقین سر فہرست تھے.. منافقین کا یہ گروہ مسلمانوں اور اسلام مخالف سازشوں میں مصروف رہتا تھا.. منافقین کی سازشوں کی بروقت سرکوبی کردی جاتی تاکہ وہ کامیاب نہ ہوسکیں مگر وہ مسلمانوں کی عزت و آبرو سے متعلق طرح طرح کی سازشیں تیار کرلیتے تاکہ مسلمان قبیلوں میں پھوٹ پڑوا سکیں.. کئی غزوات میں منافقین بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے تاکہ خونریزی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نکل نہ جائے.. ایسا ہی موقع غزوہ بنو مصطلق یا غزوہ بنو مریسیع 5ھ میں پیش آیا جو تاریخ میں اِفک کے نام سے مشہور ہے اور یہ منافقین کی سب سے بڑی ذلیل حرکت تھی کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ذات مبارکہ پر بھی اُنگلی اُٹھائی اور اِس تہمت کا بنیادی مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِیذاء پہنچانا تھا، نعوذ باللہ..

بروز پیر 12 ربیع الاول 11ھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں واقع مسجد نبوی سے ملحقہ حجرہ عائشہ میں وفات پائی.. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک اُس وقت 18 سال تھی.. آپ 9 سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تب آپ کی عمر 18 سال تھی.. اور قریباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال 6 ماہ 5 یوم (قمری) اور 46 سال 1 ماہ 5 یوم (شمسی) تک بقید حیات رہیں۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے 9 سال، خلافت راشدہ کے مکمل 30 سال اور امیر معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے 17 سالوں کی وہ عینی شاہد تھیں.. اِس تمام عرصہ میں آپ کی شخصیت نمایاں نظر آتی ہے.. کبھی آپ لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دیتی نظر آتی ہیں اور کبھی آپ عبادات و ایمانیات کے متعلق تعلیم دیتی ہیں.. کبھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اقدس کے روشن پہلو بیان فرماتی ہیں اور کبھی امت میں اصلاح کے واسطے محمل و کجاوے میں مسند نشیں نظر آتی ہیں.. گویا اِس تمام مدت میں آپ کی شخصیت محور و مرکز بنی ہوئی تھی اور تمام مملکت اسلامیہ میں آپ بحیثیت مرکز و محور تسلیم کی جاتی تھیں.. خلافت راشدہ کے اختتام پر اور اُموی خلافت کے زمانہ میں یہ شانِ جلالت اوجِ کمال پر رہی.. حرم نبوت کی یہ شمع اپنی آب و تاب سے ملت اسلامیہ کو ہر وقت روشن کرتی رہی.. اِس بات کا اندازہ اِس سے کیا جاسکتا ہے کہ جس روز آپ کا اِنتقال ہوا تو مدینہ منورہ میں کثرت اژدھام کی وجہ سے عید کا گماں ہونے لگا تھا..
بوقت تدفین آپ کی قبر اطہر کے چاروں اطراف ایک کپڑے سے پردہ کر دیا گیا تھا تاکہ آپ کے احترام میں کوئی کمی واقع نہ ہو.. آپ کو قبر اطہر میں آپ کے بھانجوں، بھتیجوں یعنی جناب قاسم بن محمد بن ابی بکر، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، عروہ بن زبیر..عبد اللہ بن محمد بن عبد الرحمٰن بن ابی بکر اور عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن ابی بکر نے قبر اطہر میں اُتارا.. شب بدھ میں تہجد کے وقت تدفین عمل میں آئی..
اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کی ماؤں بہنوں کو اپنی زندگی میں ہر کردار کردارِ عائشہ اپنانے والا بنا دے.. آمین..!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد عمر صدیقی

Read More Articles by محمد عمر صدیقی: 3 Articles with 780 views »
کہانیوں اور افسانوں میں جو کردار لکھے جاتے ہیں نا.. میں اس کا بالکل برعکس ہوں..! .. View More
10 May, 2020 Views: 237

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ