احساس

(Zulikha Ghani, Mianwali)

ہر بات کا سرا احساس سے جڑا ہے ۔ سردی میں دھوپ اچھی لگتی ہے کیونکہ اس سے ہمیں گرم ہونے اور سردی کم ہونے کا احساس ہوتا ہے ۔ گرمیوں میں ٹھنڈی ہوا دل کو بھاتی ہے جو تپتے ماحول کو ٹھنڈک کا احساس دیتی ہے ۔ خوشی کے لمحوں میں من پسند کھانا کھاتے ہوئے مزہ دوبالا ہو جاتا ہے مگر جب کبھی دکھ اور پریشانی کی لپیٹ میں ہوتے ہیں تو من پسند کھانا بھی اچھا نہیں لگتا ۔ کھانا وہی ہے مگر احساس بدلنے سے ہمارا ردعمل بھی بدل جاتا ہے ۔ انسان پیسے کی دوڑ میں دن رات محنت و مشقت میں مصروف ہے ہر جائز اور ناجائز ذرائع سے اپنا رہن سہن اور نام بلند رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس سے برتری اور فوقیت کا احساس حاصل ہوتا ہے ۔ ساری زندگی ایک آدمی گھر بنانے کے لیے تگ ودو کرتا ہے کہ بچوں کے ساتھ پرسکون زندگی گذاروں گا ۔ جب گھر بنتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے ساری جہان کی خوشی مل گئی ہے ۔ پھر وہی بچے اسے چھوڑ کر اپنی دنیا آباد کر لیتے ہیں تو وہی گھر اس کو ویران اور سنسان لگتا ہے ۔ گھر تو وہی ہے احساس بدلنے سے گھر کی حیثیت ثانوی ہو گئی ۔ منزل کچھ ہوتی ہے اور ہم اسباب کچھ اور اکٹھے کرتے رہتے ہیں ۔ دوسروں سے سلوک بھی اپنی مرضی کا کرتے ہیں اور دوسروں کا اپنے ساتھ برتاؤ بھی اپنی مرضی کا چاہتے ہیں ۔ اپنے لیے سوچتے ہوئے احساس الگ ہوتا ہے دوسروں کے لیے سوچتے ہوئے ہماری نظر الگ ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنا رویہ ہمیشہ ٹھیک لگتا ہے اور دوسروں سے ہمیشہ شکایات رہتی ہیں ۔ اپنی سوچ بدلنا انتہائی مشکل لگتا ہے کیونکہ ہم اپنی سوچ کو درست سمجھتے ہیں ۔ دوسروں کی سوچ بدلنے اور غلط ثابت کرنے میں زندگی گذار دیتے ہیں ۔ ہم اچھے لباس پر اچھا تیار ہونے پر اتنا وقت اور پیسہ کیوں لگاتے ہیں کیونکہ اس سے ہمیں خوشی ملتی ہے اچھا احساس ہوتا ہے ۔ جو انسان ہمارے دکھ بانٹے ، ہماری پریشانی میں ہمارا ساتھ دے وہ ہمیشہ ہمارے دل کے قریب ہوتے ہیں ، ان سے ہمارا احساس کا رشتہ ہوتا ہے ۔ مادی چیزیں بھی ہمیں تب خوشی دیتی ہیں جب ہمارا احساس ان کے بارے میں اچھا ہو ورنہ احساس بدلنے سے چیزیں وقعت کھو دیتی ہیں ۔ جس فقیر کو جھونپڑی میں خوشی اور سکون ملتا ہے انہوں نے در پر آئی ہوئی دنیا کی نعمتوں کو ٹھکرا دیا ۔ جب دنیا کی حیثیت اور حقیقت کھل جائے تو پھر چند لمحوں کے لیے ہم ضرور سوچتے ہیں کہ ہم کیوں اس دنیا کے پیچھے اتنا بھاگتے ہیں ۔ مگر یہ چند لمحوں کا احساس ہوتا ہے پھر سے دنیا کے جھمیلے ہمیں اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور ہم اس صدیوں سے جاری لمحوں کے کھیل میں سب کے ساتھ بھاگنے میں دن رات مصروف ہیں ۔ زندگی فقیر کی بھی بسر ہو جاتی ہے اور امیر کی بھی زندگی گذر جاتی ہے ۔ مقررہ لمحوں سے زیادہ نہ فقیر جی سکتا ہے نہ امیر پیسوں سے مزید مہلت لے سکتا ہے ۔ یہ دنیا ایک گورکھ دھندہ ہے جس کو سلجھانا اس الجھے ہوئے انسان کے بس میں نہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulikha Ghani

Read More Articles by Zulikha Ghani: 13 Articles with 6163 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 May, 2020 Views: 845

Comments

آپ کی رائے