آرایس ایس اور مسلم تنظیموں کا تاریخی پس منظر قسط 7 مجموعی تبصرہ

(Rameez Ahmad Taquee, Karachi)
سابق جنرل آف پولیس (مہاراشٹر)ایس ایم مشرف اعظم شہاب کی کتاب ’’بھگوا دہشت گردی اور مسلمان‘‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:’’آر ایس ایس اتنی خوفناک اور طاقتور تنظیم کیسے بنی ؟ میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ آ رایس ایس کا شروع ہی سے میڈیا پر اور ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی ’آئی بی ‘ پر غلبہ وقبضہ ہے۔آر ایس ایس کے کٹر برہمن وادی گذشتہ کئی برسوں سے ان دو اہم اداروں پرقبضہ کیے ہوئے ہیں اور اس کے ذریعے وہ ملک کے عام افراداور حکومت کو(چاہے وہ کسی بھی پارٹی کی ہو) اپنے تابع کیے ہوئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ بالواسطہ یا براہ راست پارلیمنٹ وعدلیہ پر بھی قبضہ کیے ہوئے ہیں۔‘‘
رمیض احمد تقی، انڈیا
Rameez Ahmad Taquee, India

لیکن مسلم تنظیمیں زوال کا شکار کیوں؟
ہماری ان تنظیموں کا سب سے بڑا یہی المیہ رہا ہے کہ نہ تو وہ ایک خاص مقصد پر کبھی منظم ہو سکیں اور نہ انہوں نے ذیلی تنظیمیں اور یونٹس کی طرف دھیان دیا، بلکہ انہوں نے اپنی ساری توجہات جلسوں میں رپورٹیں سنانے پر مرکوز رکھیں۔تعلیم وتعلم جو بلاشک و شبہ کسی بھی قوم کی ترقی کا اولین زینہ تصور کیے جاتے ہیں،ان میں بھی ہماری تنظیموں نے ہمیشہ کوتاہی برتی؛ بلکہ ان تنظیموں نے امت کے مسائل حل کرنے کے لیے اب تک جتنے اجتماعات منعقد کیے ہیں، ان کی صحیح گنتی تو شاید انہیں بھی یاد نہ ہو، تاہم ایک اندازے سے اگر یہ کہا جائے کہ وہ اپنے روزِ اول سے اب تک شاید ہی کوئی ایسا مہینہ ہو، جن میں ان لوگوں نے کوئی نہ کوئی جلسہ منعقد نہیں کیا ہو، تو مبالغہ نہیں ہوگا اور فرض کیجیے کہ ایک جلسے اور کنونشن کے انعقادمیں اوسطاً پانچ لاکھ روپیے خرچ ہوتے ہیںاور یہ تنظیمیں تقریباً 1906سے اس ملک میں خدمات انجام دیتی آرہی ہیں، تو 1906 ء سے اب تک ان کے قیام کو ایک سو گیارہ سال ہوگئے،جن میں کل 1332 مہینے ہوتے ہیں،تو 1332مہینوں کے اعتبار سے ان کے جلسوں کی تعداد بھی 1332ہوئی۔ اب ان جلسوں کو پانچ لاکھ روپیے سے ضرب دیں،تو آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے کہ ان تنظیموں نے صرف جلسے پر 66 کروڑ 60 لاکھ روپیے صرف کیے ہیں؛ حالانکہ اب جو ان کے جلسے ہوتے ہیں،ان کا کم سے کم بجٹ بھی پچیس لاکھ روپیے سے کم نہیں ہوتا۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اگر ہماری یہ تنظیمیں ان گراں قدر رقموں کو تعلیمی امور میں صرف کی ہوتیں،تو شاید آج ملک میں مسلمانوں کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ بلا شبہ اتنے روپیے سے کم از کم بیس اعلیٰ قسم کی مسلم یونیورسیٹیاں تو ضرور تیار ہوجاتیں،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری ان تنظیموں کے پاس کوئی لائق اعتنا کالج تو بہت دور کی بات، باقاعدہ کوئی مڈل اور ہائی اسکول بھی نہیں ہے، تو پھر اس انڈین بیوروکریسی میں ہماری قیادت کا کیا حال ہوگا، جس پر ملک کا پورا ایڈمنسٹریشن منحصر ہوتا ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک ان ملی اور رفاہی تنظیموں نے کبھی یہ ضروری سمجھا ہی نہیں کہ اس طرف بھی توجہ دیں،جب کہ آر ایس ایس نے سب سے پہلے اسی کی طرف اپنی ساری توجہ مبذول کیا کہ اگر ایدمنسٹریشن میں اپنے لوگ ہوں گے، تو پھر اپنی فکروں کو لوگوں پر تھوپنے میں زیادہ مدد ملے گی؛چنانچہ سول سروسز اور بیوروکریسی کی تربیت اور رہنمائی کے لیے آر ایس ایس نے 1986 ءمیں ’سنکلپ‘ نامی ایک ایسپائریشن کوچنگ سینٹر کی بنیا رکھی۔ اس سے اب تک کل 450 آئی اے ایس آفیسرس فارغ ہوچکے ہیں، جب کہ آئی اے ایس کے علاوہ تقریباً 4000 ایسے آفیسرس ہیں،جنہوں نے یو پی ایس سی کی طرف سے منعقدہ دیگر اور امتحانوں میں نمایا کردار ادا کیاہے۔ آر ایس ایس کے ایک نمائندے نے ٹائمس آف انڈیا کے صحافی سے بات چیت کے دوران یہ انکشاف کیا کہ سنکلپ کے زیرنگرانی دہلی میں دس بیچز چل رہے ہیں،ان کے علاہ ایک بیچ آگر ہ میں چل رہا ہے،مزید جے پور، بھوپال، بھیلائی اور لدھیانہ میں ایک ایک بیچ زیر تربیت ہے۔ (Times of India-Rajiv Srivastava Oct. 29, 2015,)البتہ ان اداروں میں پانچ فیصد نششتیں مسلم طلبا کے لیے بھی محفوظ ہیں، جیسا کہ آگرہ کوچنگ سینٹر کے نمایندہ پرمود چوہان نے ٹائمس آف انڈیا کے رپورٹر کو بتایا :
" In some cases, the coaching centre also waives of fee of aspiring candidates on the basis of merit and in view of financial status, Chauhan told TOI. He added that five percent seats are reserved for Muslim students".
ـ’’چوہان نے TOI کو بتایا کہ کچھ معاملات میںیہ کوچنگ سینٹر امتیازی امیدواروں کی میرٹ اور مالی حالت ناگفتہ بہ ہونے کی صورت میں فیس بھی معاف کردیتے ہیں اور اس نے مزید کہا کہ پانچ فیصد نشستیں مسلم طلبا کے لیے محفوظ ہیں‘‘، مگر یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ ان اداروں میں کتنے فیصد مسلم طلبا جاپاتے ہیں اور کتنے طلبا کو ہمارے ان قائدین اور مسلم تنظیموں کی طرف سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے؟ تو 27,مئی 2016کو ملی گزٹ کی ویب سائٹ پر جناب آفتاب کولا صاحب کا مضمون بعنوان ’’Muslims in Indian Administrative Service‘‘ شائع ہوا تھا،جس میں انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسز میں مسلمانوں کی نمایندگی کالعدم ہے ۔ گزشتہ چند سالوں میں کامیاب ہونے والے مسلم طلبا کے اعداد وشمار کے بارے میں لکھتے ہیں:’’2012 میں کامیاب ہونے والے 998 امیدوارو ں میں مسلمان صرف 31 یعنی 3.10 فیصد تھے۔ 2013 میں پورے 1,122 امیدواروں میں مسلمان 34 یعنی 3.03فیصد تھے۔ 2014 کے 1236 کامیاب امید واروں کی فہرست میں بشمول چارخواتین کے 40 یعنی 3.2 فیصد مسلمان تھے، جبکہ 2015 میں جس کے نتیجے کا اعلان مئی2016 میں ہواتھا،اس میں 37 مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی، جس میں کشمیری مسلم نوجوان اطہرعامر نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ تب بھی مسلمانوں کا تناسب کل 1,078 کامیاب طلبا میں 3.43 فیصد ہی تھا۔‘‘یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمانوں کا تناسب تین فیصد سے تجاوز کیوں نہیں کرتا؟ تو اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں عمومی طور پر مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی رہی ہے؛ کیوں کہ آزادی کے پہلے ہی سے ایک خاص پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا، تاکہ اس قوم سے قیادت و سیادت کی فطری اور موروثی قوت کا ہمیشہ ہمیش کے لیے اس طرح سد باب کردیا جائے کہ یہ پھر سےکبھی سر اٹھا نے کے قابل نہ رہ سکے۔اس کی ایک لمبی داستان ہے۔ پھر آزادی کے بعد حکومت نے بھی مسلمانوں کے ساتھ کوئی انصاف کا معاملہ نہیں کیا۔اس کی اصل وجہ ان تنظیموں اور ان کے قائدین کی خاموش قیادت تھی۔ انہوں نے جمہوریت میں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے مسائل کو کما حقہ ایوان تک نہیں پہنچا سکے؛ بلکہ انہوں نے اس موضوع کو کبھی بھی اتنی اہمیت نہیں دی کہ ایک جمہوری ملک میں رہنے کے لیے اس کے انتظامی امور کو سمجھنا،اس کی اہمیت وافادیت کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی لائحۂ عمل تیار کرنا کس قدر اہم ہے؛ البتہ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے حج ہاؤس ممبئی، زکات فاؤنڈیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی، علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی اورہمدرد یونیورسیٹیوں نے اس طرف پیش رفت کی ہے، لیکن یہاں افسوس کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان اداروں سے جب بھی کوئی مسلم طالب علم یوپی ایس سی کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرتا ہے، تو اس کو شوسل میڈیا پر اس طرح وائرل کیا جاتا ہے، کہ وہ بھی آر ایس ایس کی نظر بد کا شکار ہوجاتاہے۔

سابق جنرل آف پولیس (مہاراشٹر)ایس ایم مشرف اعظم شہاب کی کتاب ’’بھگوا دہشت گردی اور مسلمان‘‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:’’آر ایس ایس اتنی خوفناک اور طاقتور تنظیم کیسے بنی ؟ میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ آ رایس ایس کا شروع ہی سے میڈیا پر اور ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی ’آئی بی ‘ پر غلبہ وقبضہ ہے۔آر ایس ایس کے کٹر برہمن وادی گذشتہ کئی برسوں سے ان دو اہم اداروں پرقبضہ کیے ہوئے ہیں اور اس کے ذریعے وہ ملک کے عام افراداور حکومت کو(چاہے وہ کسی بھی پارٹی کی ہو) اپنے تابع کیے ہوئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ بالواسطہ یا براہ راست پارلیمنٹ وعدلیہ پر بھی قبضہ کیے ہوئے ہیں۔‘‘
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rameez Ahmad Taquee

Read More Articles by Rameez Ahmad Taquee: 89 Articles with 39402 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 May, 2020 Views: 684

Comments

آپ کی رائے