آرایس ایس اور مسلم تنظیموں کا تاریخی پس منظر ،قسط 6 مجموعی تبصرہ

(Rameez Ahmad Taquee, Karachi)
ہندوستانی مسلم تنظیموں کا طریقہ کار، آر ایس ایس کا وجود، طریقہ کار اور ہندوستانی سیاست پر اس کا اثر و رسوخ کیوں اور کیسے؟
رمیض احمد تقی، انڈیا
Rameez Ahmad Taquee, India

یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام تنظیموں میں قدرِ مشترک امر دعوۃ الی اللہ، تحفظ اور تفہیمِ شریعت، تعلیم وتربیت، اصلاحِ معاشرہ اور ملک وملت کی معاشی ومعاشرتی پس ماندگی کو دور کر نا ہے اورتقریباً انہی چند مقاصد کے ارد گرد ہمارے یہ تمام ادارے زورآزمائی کرتے نظر آتے ہیں، لیکن وہ اپنے مقاصدکے حصول میں کتنے کامیاب ہیں، اس کا ثبوت ہمارے آج کا ہندوستانی معاشرہ اور مسلمانوں کی زبوں حالی ہے۔ درحقیقت ہم نے اپنی کامیابی کے سارے اصول جلسے اوراجتماعات پر منحصرکرلیے ہیں اور پھر ہماری ساری محنتیں انہی واہیات میں صرف ہوکر بے کار ہوجاتی ہیں اور ہم بلانتیجہ عوام کو اپنی رپورٹیں سنانے میں لگے رہتے ہیں؛ حالانکہ ان تنظیموں کا واحد مقصد اس ملک میں پرامن طریقے سے دین کی تبلیغ کرنا، برادران وطن کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنا، مسلمانوں کے تمام فقہی مسلکوں اور فرقوں کے مابین خیر سگالی، اخوت اور باہمی اشتراک و تعاون کے جذ بے کو فروغ دینا اور مسلم عائلی قوانین کی بقا و تحفظ کے مشترکہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ان کے درمیان رابطے اور اتحاد و اتفاق کو پروان چڑھاناہے، لیکن ان کے طریقۂ کار اور سیاسی، معاشرتی، معاشی اور مذہبی کسی بھی تحریک اور سرگرمی سے ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنی ذمہ اریوں کے تئیں واقعی حساس ہیں۔ دورانِ مطالعہ آپ نے ان تنظیموں کے اغراض و مقاصد اوران کے کارناموں کو ضرور پڑھا ہوگا۔ اتنی لمبی لمبی فہرستیں دیکھ کر ایک بار ایسا ضرورلگا ہوگا کہ شاید اس وقت مسلمانوں کے وہ سارے مسائل حل ہوگئے ہوں گے، جن سے وہ دوچار رہے ہیں، لیکن آپ کو تعجب ہوگا کہ وہ مقاصد تو کبھی برنہیں آئے، البتہ ان کی فہرستوں میں مزید چند اور مقاصد ضرور جڑ گئے۔ ان تنظیموں کے مشترکہ مطالعہ سے مزید یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملک میں جب بھی مسلمان نا مساعد حالات سے دو چار ہوئے، تو ان سے نمٹنے کے لیے ہمارے عمائدین ملت نے جلسے، اجتماعات اور کنونشنز ضرور منعقد کیے، نیز آ پ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ قومی یکجہتی، مسلکی ہم آہنگی، پیامِ انسانیت اور مسلم عوام کو عائلی و معاشرتی زندگی کے آداب، حقوق و فرائض اور اختیارات و حدود سے واقف کرانے جیسے اہم امور میں ہماری یہ تنظیمیں مشترکہ طور پر متحد نظر آئیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ستر اور اسی سال کی مسلسل جد وجہد کے باوجود مسلمانوں میں شرعیت کے تعلق سے آخر عمومی بیداری کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ آج بھی مسلم آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی ناآشنا ہے۔

اگرآپ ہندوستان کے بدلتے سیاسی پس منظر پر غور کریں اور مسلمانوں کی زبوں حالی وپسماندگی کے اسباب و وجوہات کو تلاش کریں، تو ایسا لگے گا کہ یہاں مسلم تنظیموں نے قوم کی تعمیر وترقی میں جتنی بھی کوششیں کی ہیں، وہ اس ملک کی آب و ہوا کے بالکل مخالف اور غیر دانش مندانہ تھیں؛ کیوں کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے، لہذا کسی منصوبے کی عمل درآمدگی کے لیے یہ انتہائی ناگزیر ہے کہ ہم اس کے پس منظرو پیش منظر کا اچھی طرح جائزہ لیں اور اس سے بھی پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے لیے جو بھی لائحۂ عمل اور طریقۂ کار اپنائیں، وہ مناسبِ حال ہو،ورنہ وہ عمل بے سود ہوگا، مثلاًاگر ہمیں دھان کی کھیتی کرنی ہو، تو ہمیں موسمِ باراں کا انتخاب کرنا ہوگا، لیکن اگر ہم نے مئی جون میں کھیت کو خوب تیار کیا اور اس میں دھان کے پودے لگائے، تو یاد رکھیے کہ ہماری کوششیں بھی ضائع ہوں گی اور دھان کی کھیتی بھی۔ ایسا ہی کچھ اس ملک میں ہمارے عمائدین قوم وملت کرتے آرہے ہیں۔ یہ ملک چونکہ ایک جمہوری ملک ہے، جہاں ہم یقیناً اقلیت میں ہیں، تو جمہوری فضا میں کام کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم جمہور کی سیاست کو سمجھیں۔ ان کے افکار کو پڑھیں۔ ان کی چال ڈھال پر گہری نظر ہو، حتی کہ ان کی زبان پر مکمل دسترس ہو، لیکن ہم نے ان تمام اصولوں سے پرے صرف محنتیں کیں، نتیجتاً ہمیں اپنے مقصد کے حصول میں ناکامی ہوئی۔

ہندوستانی سیاست میں آرایس ایس کا اثرورسوخ کیوں اور کیسے؟
اس کے بالکل برعکس 1925 ءمیں قائم شدہ خالص ہندوتوا تنظیم آریس ایس (راشٹریہ سویم سیوک نگھ) جو ہماری انہی مسلم تنظیموں کی ہم عصر ہے، کے پس منظروپیش منظر،لائحۂ عمل اور طریقۂ کارمیں غور کریں، تویہ احساس ہوگاکہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ہم نے اپنی بقاوتحفظ کے لیے جتنی کوششیں کی تھیں، وہ کس قدر غیر مناسبِ حال تھیں؛ چنانچہ ہماری مسلم تنظیمیں اپنے مقصد اشاعتِ دین اور اعلائےکلمۃ اللہ کے ساتھ اور ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس اپنے مقصد یعنی ملک میں ’ہندوراشٹر کا قیام کے ساتھ معرض وجود میں آئیں۔ آر ایس ایس نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں سب سے پہلے اس ملک کی آب وہوا کو اپنے موافق بنایا اور اس سرزمین کو اپنے کام کے لیے ہموار کیا اور پھر اس پر محنتیں شروع کیں اوراس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے، لیکن ہمارا طریقۂ کار اور اسلوب مناسب حال نہیں تھا، اس لیے ہم ہندوستان میں نہ دین کو قائم کرسکے اور نہ ہماری شریعت ہی محفوظ رہی۔

دراصل کام کرنے سے پہلے ہم نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھاکہ یہاں ہمارا کو ئی مدمقابل بھی ہوسکتا ہے،سو وہ کام ہم نے اپنے طریقے سے کیا اور خوب کیا۔اس کے برعکس آر ایس ایس کا ٹارگیٹ بھی تھا اور مدِ مقابل بھی،سواس نے ان دونوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی محنتیں تیز کیں۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جمہوریت میں کسی تحریک یا فکر کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کوئی اس کا مدمقابل نہ ہو، کیوں کہ جب انسان کسی کو اپنا مدِمقابل سمجھ لیتا ہے،تو پھر اس کی ایک ایک چیز پر نظر رکھتا ہے۔اس کے ہر سیاسی حربےکاکوئی نہ کوئی حل ضرور تلاش کرلیتا ہے۔پھر اس کے مطابق میدان میں آکر دعوتِ مبارزت دیتا ہے اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ نہ تو ہماری کوئی تیاری تھی اور نہ ہم مقتضائے حال کے مطابق کوئی لائحۂ عمل بناسکے، جس کا لازمی نتیجہ ہماری پسماندگی اور ملک میں ہماری لاچارگی کی شکل میں سامنے آیا؛حالانکہ جب ہم کسی ملک یا ریاست میں اپنی فکر کو نافذ کرنا چاہتے ہیں،خاص کر ایسے ملک میں جہاں ہم اقلیت میں ہیں، تو سب سے پہلے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ہم وہاں کے لوگوں میں اپنا تعارف کروائیں۔ لوگوں کو ان کے حقوق کے مثبت ومنفی پہلو سے پوری طرح واقف کرائیں، ان کو تعلیم دیں اور اس میں اپنی فکر شامل کردیں۔اس کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اکثریت کی زبان سیکھیں۔تب ہی ہم اپنی فکر ان تک منتقل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں،لیکن افسوس کہ ایک زمانے تک ہم نے ہندی کو ناپسند کیا ہے،جو اس ملک کی قومی اور اکثریت کی زبان ہے۔ اس کے پڑھنے اور پڑھانے کو گناہِ عظیم تصور کیا،جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے اور برادرانِ وطن کے درمیان دوریاں بڑھتی چلی گئیں۔ اس کا آر ایس ایس نے بھرپورفائدہ اٹھایااور ایک پلان کے تحت ملک کے سارے ہندوؤں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی۔ ان کو تعلیم دے کر ہر لحاظ سے منظم و مستحکم کیا۔انہیں عقیدہ وآستھا کے نام پر جوڑااور انہیں یہ باور کرایا کہ مسلمان ان کے دشمن ہیں۔ وہ اس ملک میں غاصبانہ طریقے پر داخل ہوئے ہیں۔ ان کے مندروں کو منہدم کرکے ان پر مسجدیں تعمیر کی اوران کے پروجوں کا قتلِ عام کیا ہے، اس لیے اب ہمارا بھی یہ حق بنتا ہے کہ جس طرح انہوں نے ہمیں ہماری اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کردیا تھا،ہم بھی متحد ہوکر مسلمانوں کو اس سرزمین سے کھدیڑ دیں، سو اس نے پورے ملک میں اپنی اس فکرکو متعارف کروانے کے لیے بے شمار شاخوں کا جال بچھایا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015-16 تک ملک میں 36,867 مقامات پرآر ایس ایس کی کل 56,859 شاخیں تھیں،جبکہ اسسے پہلے 33,223 مقامات پر 51,332 شاخیں تھیں، لیکن صرف بارہ مہینوں میں اس کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور اس کی تعداد 56,859 تک پہنچ گئی،بلکہ ملک کی راجدھانی دہلی میں اس کی کل 1,898 شاخیں ہیں۔جہاں تک دوسرے ممالک میں اس کی شاخوں کی بات ہے، تویوکے اوریوایس سمیت 39 ممالک میں بھی اس کی شاخیں ہیں جن میں پانچ شاخیںتو خود مشرق وسطیٰ میں ہیں،جبکہ ہندوستان سے باہر اس کی پہلی شاخ کینیا کے ساحلی شہر مومباسہ میں 1947ءقائم کی گئی تھی اور آج اس کی پانچ شاخیں کینیا کے مختلف شہر؛ مومباسا، ناکوروکِسوما، اِلڈوریٹ اور میرو میں انتہائی دیدہ وری سے اپنے مشن کی طرف رواں دواں ہیں، البتہ ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک میں اس کو (Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSSکی بجائے(Hindu Swayamsevak Sangh HSS) کے نام سے جاناجاتاہے۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس نےاس اہم امر کی طرف اپنی ساری توجہ مرکوز کی،جس سے یقیناً ہماری تنظیموں نے صرفِ نظر کیا ہے ۔ اس نے پورے ملک میںاپنی فکر کے اسکول وکالجز قائم کرنا شروع کیا۔اس کے لیے اس نے1977ءمیں ’ویدیا بھارتی‘ نامی ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔اس کے تحت آج پورے ملک میں آرایس ایس کے سیکڑوں اسکول اور تعلیمی ادارے چل رہے ہیں۔اس کی ویب سائٹ پر موجود اسکول و کالجز کے اعدادوشمار کے مطابق پورے ملک میںاس کے کل 12,364 اسکول ہیں،جن میں پرائمری اسکول 4,639، مڈل اسکول 4,558،ہائی اسکول 2,232 اور ہایر سکینڈری اسکولوں کی تعداد تقریباً 935 ہے، جبکہ مجموعی کالجوں کی تعداد42 ہے۔ جن میں15 ٹیچر ٹرینگ کالجز، 12 ڈگری کالجز اور 15 اوکیشنل انسٹیٹیوشنز ہیں اور مزید17,396 دیگر دوسرے تعلیمی ادارے ہیں،جن میں پڑھنے والے طلبا کی تعداد2.2 ملین یعنی بائیس لاکھ ہے،جبکہ ان کو پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد 93,000 سے زیادہ ہے۔اس کے علاوہ سوشل سائٹس پر سب سے زیادہ متحرک اور فعال جماعت آر ایس ایس ہی ہے،چنانچہ فیس بک پر اس کو لائک کرنے والے پندرہ لاکھ سے زیادہ لوگ ہیں۔ ٹوئٹر پر اس کے 1.5 لاکھ فالورس ہیں، وہاٹس ایپ اور دیگر سوشل نیٹ ورکس پر بھی اس کی اچھی گرفت ہے،جہاں یہ فوٹوشاپ کی مدد سے جھوٹی تصویریں، ڈاکٹر ڈ ویڈیوز، پیڈ ٹوئٹس اور پیڈویڈیوز کے ذریعہ بڑی آسانی سے اپنے پروپگنڈے کو فروغ دینے میں مسلسل منہمک رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rameez Ahmad Taquee

Read More Articles by Rameez Ahmad Taquee: 89 Articles with 40398 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2020 Views: 214

Comments

آپ کی رائے