سبز ستارہ طبی ادارہ

(Dr Salim Khan, India)

للن خان نے کلن شیخ سے فون کرکے پوچھا یار یہ اپنے جمن سید کو کیا ہوگیا سمجھ میں نہیں آتا؟
کیوں بھائی خیریت تو ہے کہیں اپنے سبز ستارہ طبی ادارہ کے سابق چیرمین کو کورونا تو نہیں ہوگیا ؟
کیسی باتیں کرتے ہیںَ ؟ آپ نے مجھے بھی شرمندہ کردیا ۔
اس میں شرم کی کیا بات کورونا تو مجھے ، تمہیں اور کسی کو بھی ہو سکتا ہے۔
اگر یہی بات ہے تو میرے خیال میں سب سے زیادہ خطرہ آپ کو ہے۔
کلن نے گھبرا کر پوچھا وہ کیوں اب تم نے جمن کو چھوڑ کر مجھے لپیٹ میں لے لیا ۔ یہ کیا چل رہا ہے؟
ارے بھائی اس لیے کہ آپ دن رات لاک ڈاون میں پھنسے ہوئے مریضوں کی طبی خدمت میں لگے رہتے ہو۔
ہاں ہاں یہ تو ہمارے ادارے کا ہر فرد کرتا ہے الا ماشاء اللہ ۔ ہمارا تو نعرہ ہی ہے ’دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ‘
مجھے پتہ ہے لیکن چونکہ ہمارے پاس ایک ہی ایمبولنس ہے اس لیے مریضوں کو دواخانہ لانے اور لے جانے کا کام سب سے زیادہ آپ ہی کرتے ہیں ۔
ہاں ہاں تو اس میں کیا غلط ہے۔ اب آپ لوگوں نے چیرمین بناہی دیا ہے تو یہ کرنا ہی پڑے گا ۔
للن بھائی ہم تو آپ کے پر رشک کرتے ہیں لیکن آپ جن کو اپنی ایمبولینس میں لاتے لے جاتے ہیں کیا آپ نے ان کے بارے میں کبھی سوچا؟
سوچا ؟ کیا مطلب ؟؟ ان کی بیماری کے بارے میں تو ڈاکٹر سوچتے ہیں اور دوائی لکھ کر دے دیتے ہیں ۔ ہمارا کام اسے مہیا کردینا ہے ۔
میں یہ نہیں کہہ رہا ۔ میرا مطلب ہے ان میں کوئی کورونا کا مریض بھی تو ہوسکتا ہے۔
ہوسکتا ہے لیکن ان مریضوں کواگر دواخانہ لے کرنہیں جائیں گے تو ان کا علاج کیسے ہوگا ؟ اور کورونا سے بڑی تعداد میں لوگ صحتیاب بھی تو ہوتے ہیں
جی ہاں لیکن میں نے سنا ہے کہ بہت سارے لوگ خود تو اچھے ہوجاتے مگر دوسروں کو بیماری لگا دیتے ہیں ۔
ارے بھائی اگر کوئی ہمیں بیمار کرکے اچھا ہوجائے تو کیا ہم بھی اچھے نہیں ہوسکتے ۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کورونا موت نہیں بیماری ہے ۔
جی ہاں بیماری تو ہے لیکن بڑی تیزی سے پھیلتی ہے ۔
اب اس کا پھیلنا ہمارے اختیار میں تو ہے نہیں ۔ ہم تو بس احتیاط کرسکتے ہیں سو کرتے ہیں لیکن دوسرے امراض کوکورونا نے نگل تو نہیں لیا ہے؟
سو تو ہے ۔میں نے تو سنا ہے مالیگاوں میں طبی سہولیات کی کمی کے سبب کورونا سے کئی گنا زیادہ لوگ دوسرے امراض سے ہلاک ہورہے ہیں۔
مالیگاوں جیسے چھوٹے شہروں کی مجبوری ہے لیکن اپنے یہاں بھی اسپتالوں کے باوجود کورونا ٹسٹ کے بغیر داخلہ نہیں ملتا بہت پریشانی ہوتی ہے۔
یہ تو بڑی مصیبت ہے کہ انسان کو عام بیماری کے علاج سے محروم کردیا جائے لیکن پھر بھی اپنا خیال رکھیں مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے۔
یار تم عجیب آدمی ہو اتنا سب معلوم ہونے کے باوجود مجھے ڈرا رہے ہو۔
میں کون ہوتا ہوں ڈرانے والا ۔ بس محتاط کررہا تھا ۔
شکریہ بھائی لیکن اگر خود ہمارے گھر میں خدا ناخواستہ کوئی بیمار ہوجائے تو کیا اسے ہم اسپتال لے کر نہیں جائیں گے ؟
جی ہاں کلن جب اپنے او پر پڑتی ہے تو سب کو دال آٹے کا بھاو معلوم ہوجاتا ہے لیکن آپ تو غیروں کا بھی درد محسوس کرتے ہیں ماشاء اللہ ۔
دیکھو بھائی ایسا ہے کورونا نے اپنے پرائے کی تفریق مٹا کر پوری انسانیت کو ایک کنبہ بنادیاہے۔
سمجھ گیا کلن بھائی آپ کہنا چاہتے ہیں چونکہ وہ انسانوں میں بھید بھاو نہیں کرتا تو ہم کیوں کریں ؟
صحیح سمجھے لیکن تم جمن کے بارے میں کچھ بتا رہے تھے کہ درمیان میں کورونا نے تمہیں اچک لیا ۔
ارے ہاں میں تو بھول ہی گیا ۔وہ بات بھی کورونا سےمتعلق ہے ۔ کل جمن نے مجھے ایک ایسے خاندان کی مدد کرنے کے لیے کہاجو کورونا سے متاثر ہے۔
اس میں کیا غلط ہے۔ یہ تو اپنے ادارے کا ہر شخص کررہا ہے ۔اس میں جمن کا کیا قصور ؟ میں بھی یہ جسارت کرچکا ہوں ۔
جی نہیں کلن ۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر کیونکہ آپ خود دن رات میدانِ عمل میں رہتے ہیں ۔
ارے بھائی انسانیت کی خدمت کا موقع کوئی بھی دے اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اس معاملے میں کلن اور جمن برابر ہیں۔
جی نہیں ، غصہ اس لیے آیا کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کا نمبر مجھے دیا جو نہ صرف اس کا شناسا ہے بلکہ ان کے مکان کے قریب ہی رہتا ہے۔
اچھا ؟ تو وہ کیا چاہتا تھا ؟
وہ چاہتا تھا کہ میں اپنے گھر سے دس میل دور جاکر اس کا حال چال معلوم کرکے انہیں بتاوں ۔
کلن قہقہہ لگا کر بولا بھائی دیکھو ہر ادارے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک کام کرنے والے اور دوسرے کام لینے والے ۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کا نفسِ مسئلہ سے کیا تعلق ؟ میں نہیں سمجھا
وہ ایسا ہے کہ تم پہلی قماش کے کارکن ہو جو خود دوڑ بھاگ کرتاہے اور وہ دوسری طرح کے ہیں جو دوسروں سے کام لیتے ہیں ۔
لیکن کوئی خود کام نہ کرے اور دوسروں سے کام لے یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
کیوں نہیں ۔ مین ٹھیکیدارخود کچھ نہیں کرتا بلکہ اپنے سب کنٹراکٹر سے کام لیتا ہے۔
لیکن یہ کیا مذاق ہے کہ جمن کی چیر من شپ میں بھی ہم ہی کام کرتے تھے اب بھی ہمیں کام کرتے ہیں ۔
میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ وہ چیر مین ہو یا نہ ہو وہ کام لینے والوں میں سے ہے اس لیے اس کے کام کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
یہ سن کر للن کا سر چکرا گیا ۔ اس نے کہا ٹھیک ہےمگرانسان عملاً کام نہ کرے تو کم ازکم دوسروں کو بھی نہ بولے ۔اب تو وہ چیر مین بھی نہیں ہے۔
کلن بولا دیکھو بھائی ہر زندہ ادارے میں ایک چیر مین اور کئی سابق چیر مین ہوتے ہیں ۔
یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایک وقت میں کپتان ایک ہی کھلاڑی ہوسکتا ہے ویسے ٹیم میں کئی سابق کپتان شامل ہوسکتے ہیں ۔
بہت درست مثال ہے ۔ سابق ہوجانے کے بعد جمن جیسے لوگ ٹھیکیدار سے مستشار بن جاتے ہیں ۔
یہ مستشار کیا ہوتا ہے؟
عربی میں کنسلٹنٹ کو مستشار یعنی مشورے دینے والاکہتے ہیں یعنی پہلے ٹھیکیدار کی حیثیت سے حکم دیتے تھےبعد میں مشورے دینے لگتے ہیں ۔
للن بولا بھائی کلن ایک بات کہوں برا تو نہیں مانیں گے ؟
جی نہیں بلا تکلف بولو ۔ برا ماننے کی کیا بات ہے ؟
میں تو آپ بیوقوف آدمی سمجھتا تھا لیکن آپ بڑے ذہین آدمی نکلے۔
اسی کے ساتھ للن اور کلن نے ایک زبردست قہقہہ اپنے مشترکہ دوست جمن کی نذر کیا اور فون بند ہوگیا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1205 Articles with 438962 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2020 Views: 199

Comments

آپ کی رائے