انقلابی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری سے ایک آن لائین شام

(Ayaz Ali Memon, Karachi)
سندھ کے معروف و مایہ ناز انقلابی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری سے ایک آن لائین شام کا پروگرام

کورونا کے باعث سوشل ڈسٹنس کے باعث رمیش راجہ اور منظور اُجن کی جانب سے شروع کردہ آنلائین پروگرامز کے ہفتہ وار سلسلے میں سندھ کے معروف و مایہ ناز انقلابی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری سے پروگرام کیا۔

پروگرام کی شروعات میں گذشتہ روز کراچی میں پی آئی اے کے جہاز کریش ہونے سے پیش آنیوالے حادثے میں 107مسافروں کے جاں بحق ہونے اور کورونا کے باعث دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زیادہ افراد کے جاں بحق ہونے پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

مہمان شاعر کا تعارف کراتے ہوئے رمیش راجہ نے کہا کہ شاعروں کے دیس سندھ میں آکاش انصاری ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں کیونکہ اُن کی شاعری مزاحمت اور رومانس سے بھرپور ہے۔ شاعری میں موجود طبقاتی جدوجہد، تاریخی حوالے اور فکری رویے اُنہیں روایتی شعراء سے ممتاز بناتے ہیں، جبکہ سیاسی شعور رکھنا اُن کی مقبولیت کا باعث ہے۔ بھرپور پختگی، ردھم اور روانی کے باعث آکاش کی شاعری زیادہ گائی جاتی ہے اور تقریباً تمام بڑے فنکاروں نے اُن کا کلام گایا ہے اور عوام اُس کلام پر جھومتے رہے ہیں، اسی بناء پر اُنہیں عوامی مقبول شاعر کہا جاتا ہے۔

سندھ کے اس مایہ ناز شاعر کہا پروگرام میں کہنا تھا کہ "حقیقی ادیب ہمیشہ حالت ِ جنگ میں رہتا ہے،وہ کبھی سرکاری ٹھنڈے کمروں میں نہیں رہتا اور درباری بننا ادیب کی موت ہے"۔ڈاکٹر آکاش انصاری نے نوجوانوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا تبدیلی کی ایک نئی چھلانگ مارنے والی ہے، ہماری نئی نسل اس جدید زمانے میں کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہے لیکن ہماری عمر کے لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی بلکہ شاید وہ سمجھ ہی نہیں پارہے"۔

گذشت روز زوم لنک پر ملک و بیرون ِ ملک سے آن لائین ہونیوالے باشعور لوگوں سے بدین شہر سے آن لائین خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر آکاش انصاری نے کہا کہ" آنیوالی صدی سندھ کی صدی ہوگی۔ سندھی زبان دنیا کی 95جدید زبانوں میں سے ایک ہے، جسے کوئی خطرہ نہیں ہے"۔ انقلابی شاعر کا کہنا تھا کہ ”آج کا دور ڈیجیٹل ڈکٹیٹر شپ کا ہے، جس سے نبرد آزما ہونا تو رہا ایک طرف سندھ کے شعراء اُسے سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔ وہ ابھی تک ردیف، کافیہ اور الفاظ کی دستکاری میں اُلجھے ہوئے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انسان میں جمالیاتی حس موجود ہے آرٹ، ادب اور شاعری قائم رہے گی"۔ سندھی ادبی سنگت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "وہ اپنے مقصد اور راستے سے بھٹک گئی ہے، گروہ بندی اور ذاتیات نے تخلیقی عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آنیوالی نسلیں ایسا الزام اس دوڑ میں شامل تمام ادباء پر لگائیں گی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کورونا کے بعد دنیا میں دیگر باتوں اور شعبوں کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی نئے رجحانات جنم لیں گے۔رمیش راجہ اور منظور اُجن نے حالات سے مطابقت رکھنے والی جدت سے بھرپور ذہنی آسودگی کے سامان کا بندوبست کیا ہے۔ آنیوالا دور آرٹیفشل انٹیلی جنس کا ہوگا۔ اس لیے سندھ کے نوجوان کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے اجتناب برتنا ہوگا، بصورت ِ دیگر ہمارہ سماجی ڈھانچہ لاتعلقی کا شکار ہوجائے گا"۔

انہوں نے سندھ کے موجودہ حالات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”سندھ کو وڈیرا شاہی نے تباہ و برباد کردیا ہے، سماجی طور پر سندھ گذشتہ نصف صدی میں کم از کم ایک صدی پیچھے چلا گیا ہے۔ جس کی مثال ہمارے تباہ حال شہر اور بستیاں ہیں۔ آج کے وڈیرے کی تمام شان کرائے کے مال اور جی حضوری سے جڑی ہے“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”حقیقی فلاحی ریاستیں تو مغرب والوں نے بنائی ہیں۔ ہمارے یہاں تو ہر اچھے نعرے کے پیچھے آمریت ہوتی ہے۔ حالات بتارہے ہیں کہ عرب ایک مرتبہ پھر اونٹھوں پر چڑھ کر سندھ میں بھیک مانگنے آئیں گے“۔

اُن کی شاعری اور فن پر بات کرتے ہوئے ترقی پسند دانشور جامی چانڈیو نے کہا کہ" ڈاکٹر آکاش انصاری جدید سندھی شاعری میں انقلابیت اور رومانویت کے تخلیقی امتزاج کا ایک بڑا نام ہے۔ آکاش کی زبان سندھ کے زیریں حصہ لاڑ کے پس منظر کے باعث انتہائی مٹھاس اور کشش رکھتی ہے اور اُنہوں نے اسلوب اور فنی تجربات و ترکیبات میں تخلیقی انفرادیت قائم کی ہے۔ شاعری کے تخلیقی سفر میں اپنی منفرد راہ اختیار کی اور نہ صرف موضاعاتی وسعت اور نئے رجحاناتمگر فکری گہرائی بھی لائے۔ آکاش کی شاعری نہ صرف اپنے دور سے اُبھری، اُس کے انقلابی، مزاحمتی اور رومانوی ترجمانی کی بلکہ اُس پر اثرا نداز بھی ہوئی۔ آج بھی وہ نئی نسل کے مقبول و محبوب شاعر ہیں"۔

اس موقع پر کینیڈا سے جسونت مہراج، احمر ندیم میمن، امریکا سے دارا شاہد پنہور، ہنگری سے دانش پرمار اور جواد حیدر، نیدر لینڈ سے اسلم آرائیں، روس سے ذیشان جتوئی، کیوبا سے علی حسن رند، جرمنی سے کاکا سنگھ، دبئی سے دودو کھٹیان اور اندرا، بحرین سے منظور سیٹھار، سعودی عرب سے سنتوش کھتری اور پاکستان کے مختلف شہروں سے نامور ادباء نے آن لائین شرکت کی اور گفتگو میں حصہ لیا۔

آخر میں میزبان منظور اُجن نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور ایڈوانس عید مبارک دیتے ہوئے کہا کہ "ڈاکٹر آکاش نہ صرف ایک قابل ِ فخرعوامی انقلابی شاعرہیں بلکہ وہ دوستی میں انتہائی محبتی، نفیس اور مخلص انسان بھی ہیں"۔ انہوں نے آئندہ پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "آئندہ جمعہ یعنی 29مئی کو ”نوجوان فنکار نزاکت علی سے عید“ کے نام سے منعقد کیا جائے گا، جوکہ راگ و رنگ اور مشاعرے پر مبنی ہوگا۔جبکہ 6جون کو ڈاکٹر سحر گل ”تصوف، ایک عالمگیر نظریہ“ کے موضوع پر لیکچر دیں گی"۔ اور یوں یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayaz Ali Memon

Read More Articles by Ayaz Ali Memon: 2 Articles with 803 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 May, 2020 Views: 224

Comments

آپ کی رائے