‎ماہِ مئی میں ملنے والے ملال

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

زندگی میں پہلی بار یہ دن دیکھا کہ عید کی نماز گھر میں پڑھی گئی جمعتہ الوداع کے روز بھی مسجد جانا نصیب نہ ہو سکا ۔ گھر میں ہی جماعت کر لی گئی جو کہ پہلے کبھی کبھار اور اب ایک معمول کی بات بن کر رہ گئی ہے ۔ مگر جمعہ کے روزے کی سحری ابھی بند کی ہی تھی کہ کراچی میں طیارہ حادثے کی خبر ملی ۔ دل تو تبھی غم و اندوہ سے چور ہو کے رہ گیا تھا پھر اس کے بعد سوائے مزید اطلاعات اور معلومات کو جاننے کے علاوہ ذہن میں اور کوئی دھیان ہی نہیں تھا کراچی میں جو کہرام مچا ہؤا تھا وہ دنیا کے ہر کونے میں بسے ہوئے پردیسی کے دل و دماغ میں برپا تھا ، ہم وطن سے کتنے ہی دور سہی مگر ہمارے دل اسی کے نام پر دھڑکتے ہیں ۔ بس ایسے ہی دو دن گذرے تو عید آ گئی دو مہینے سے گھر میں نظر بند ہوئے وے ہیں سب کام گھر سے بچوں کی پڑھائیاں گھر سے عید کی نماز تک آن لائن ...... اللہ اللہ یہ دن بھی ایک روز آنا تھا ۔ سمجھ رہے تھے کہ عید تک حالات و معاملات میں کچھ بہتری آ جائے گی مگر لگتا ہے کہ بقرعید تک بھی کچھ سدھرنے والا نہیں ۔ اچھی بھلی زندگی ایک ڈراؤنا خواب بن کر رہ گئی ہے جس کے ٹوٹنے کا بےچینی سے انتظار ہے اور جس کے فی الحال تو کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ۔ ڈیلس کاؤنٹی میں مکمل اور اس کے نواحی قرب و جوار کے شہروں میں جزوی لاک ڈاؤن تھا تقریباً دو ہفتے قبل اس میں بھی ذرا نرمی کی گئی تو یہاں بھی لوگ اسٹوروں پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے لنگر بٹ رہا ہو ۔ ہر طرف یہی چل رہا ہے اور اس کے بھی جو نتائج و عواقب برامد ہونگے تو قوی امکان ہے کہ صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہو گی اور ایکبار پھر پہلے سے بھی سخت اور مکمل لاک ڈاؤن ہو گا ۔

اس وقت جبکہ ہم یہ سطور تحریر کر رہے ہیں تو یہاں امریکہ میں میموریل ڈے ہے جو کہ ہر سال ماہِ مئی کے آخری پیر کو یو ایس آرمی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے ۔ اس بار یہ دن 25 تاریخ کو پڑا ہے جبکہ آج سے ٹھیک دس سال پہلے یعنی 2010 ء میں اسی تاریخ کو جبکہ یہاں دن بدھ کا تھا اور شام کے چار بجے تھے تو امی نے ہمیں داغِ مفارقت دیا تھا ۔ اگر ہفتے کی شام چاند نہ ہوتا تو امی کی یہ دسویں برسی عین عید کے روز پڑتی ، مگر اس سے کیا فرق پڑتا دکھ تو ہر دن یکساں ہی ہوتا ہے ۔ ویسے قمری حساب سے امی کا یومِ وفات جمادی الاول کی چودہ تاریخ ہے مگر روزمرہ کی زندگی میں زیادہ عمل دخل عیسوی کیلنڈر کا ہونے کی وجہ سے مئی کی پچیس تاریخ ہی کا ذہن پر زیادہ اثر رہتا ہے ۔ مگر بدنصیب طیارے کے اندوہناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کی یاد اور زخم نئے سرے سے تازہ ہونے کے لیے تو اب نا اسلامی تاریخ کی تخصیص رہے گی اور نا ہی عیسوی کیلنڈر کی ۔ ہر سال ماہِ رمضان کا آخری جمعہ ان کی یاد کے بنا جنم نا لے گا ، عید کا روز ان کے قل اور سوئم کا دن بن کر آیا ۔ خدایا! کیا گذری ہو گی ان کے لواحقین پر جن کے ساتھ وہ عید منانے کے لیے سفر پر نکلے تھے اور اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے ، زمین پر قدم رکھے بنا ہی آسمانوں کو پرواز کر گئے۔ جیتے جاگتے حسین و توانا امنگوں اور آرزوؤں سے سنورے وجودوں کی جگہ جھلسی ہوئی لاشیں وصول ہوئیں ۔ ایک سے ایک جوانِ رعنا نے بھری بہار میں کفن اوڑھ لیا ، یہ ماننا پڑے گا کہ وہ مسافر اپنے گھروں سے مرنے کے لیے نہیں نکلے تھے وہ اپنوں سے ملنے کے لیے چلے تھے بچھڑنے کے لیے نہیں ۔ مگر وہ اللہ کے مہمان ہو گئے تھے ان کے افطار کا انتظام عرش پر ہو چکا تھا انہوں نے عید جنت الفردوس میں منائی ۔

سڑکوں اور گلیوں کے علاوہ اور جو لوگ اپنے گھروں میں تھے اپنی چھتوں اور چھاؤں تلے ، محفوظ تو وہ بھی نہ رہے طیارہ کسی آسمانی بلا کی طرح ان پر آ گرا اور ثابت کیا کہ موت و آفت سے کہیں بھی مفر ممکن نہیں ۔ اس دلخراش و ناقابل فراموش حادثے کی کچھ تو تیکنیکی اور منطقی وجوہات ہونگی اس میں متعلقہ ماہرین و منتظمین کی غیر ذمہ داری اور نااہلی کا بھی دخل ہو گا ۔ جواں سال پرعزم پائلٹ کی آخری لمحات کی گفتگو کو سن کر شعبہء ہوابازی کے مغربی ماہرین و تجزیہ نگار دنگ ہو گئے ہیں ۔ اتنا سکون اور پر اعتماد لہجہ سبھی کے لیے ناقابل یقین ہے یہ یقیناً اس کے ایمان کا استحکام تھا اس نے اپنی سی پوری کوشش کی اس پر ہدایات اور ایمرجنسی کی صورت میں اختیار کی جانے والی تدابیر پر عمل نا کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں ۔ مگر اتنی شدید بحرانی صورتحال میں اس نے بجا طور پر اس سے مقابلے کی ہر ممکن سعی کی تو ہو گی آخر اسے بھی خود کشی اور باقی کی تمام جانوں کا خون اپنی گردن پر لینے کا شوق تو نہیں ہو گا ۔ لینڈنگ گیئر کا نا کھلنا اتفاقی نہیں ہو سکتا اس کے پیچھے کوئی سازش بھی ہو سکتی ہے یا پھر متعلقہ ذمہ داروں کی مجرمانہ غفلت کو تسلیم کیا جائے بجائے ملبہ پائلٹ پر ڈالنے کے ۔ جو دو مسافر انتہائی معجزانہ طور پر بچ گئے ہیں موت کو مات دینے والے یہ غازی جب تک جیئں گے اس سانحے کو فراموش نہ کر سکیں گے مئی کی بائیس تاریخ کبھی بھی ان کے حافظے سے محو نا ہو سکے گی جب انہوں نے گویا کہ دوبارہ سے جنم لیا ہو -

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1038 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 134 Articles with 857335 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
‎کس دل سے اس بدنصیب آخری پرواز کے ناخدا نے کہا ہو گا
Sir! we have lost engines
‎کب بھلا یہ سوچا ہو گا کہ مئی کے مہینے میں کہنا پڑ جائے گا
Mayday Mayday Mayday Pakistan 8303
‎عید کے اگلے روز یہ موضوع اور مضمون ذہن میں موزوں ہؤا تو اسے سپرد تحریر کرنے کی دھن کے ساتھ یکسوئی کی کمی کا بھی سامنا تھا جس کی وجہ سے ایک فگر غلط لکھا گیا ۔ 25 مئی 2010 ء کو جمادی الثانی کی 11تاریخ تھی 14 جمادی الاول نہیں ۔ یہ تحریر پوسٹ کرنے کے ایک ہفتے بعد پبلش ہوئی ہے شاید عید کی چھٹیوں اور ویب ٹیم پر کام کے بہت زیادہ دباؤ کی وجہ سے ۔ جو تحریریں حالات حاضرہ یا کسی حالیہ واقعے کے تناظر میں قلمبند کی جاتی ہیں وہ بروقت شائع نہ ہوں تو اپنا تاثر کھو بیٹھتی ہیں مگر آج خود اپنے ہی لکھے ہوئے کو پڑھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ آج ہی کی بات ہے ابھی دل سنبھلا نہیں ہے وہاں اب بھی صف ماتم بچھی ہے ۔ یہ کوئی چھوٹا موٹا حاثہ نہیں تھا بہت بڑا سانحہ تھا عید سے صرف دو روز پہلے عین جمعتہ الوداع کی اجلی دوپہر میں اجل کے بھڑکتے شعلوں نے ستانوے نفوس کو ان کی آنکھوں میں سجے تمام خوابوں سمیت خاکستر کر دیا اور پیچھے یادوں کا دھؤاں رہ گیا ۔ صرف پائلٹ کے غلط فیصلوں پر فوکس کرنے کی بجائے سارے ماجرے کی جڑ کو پکڑنا چاہیئے کہ آخر اس روز ہؤا کیا تھا طیارہ کراچی ایئر پورٹ اور رن وے سے پانچ ناٹیکل مائلز کی اپروچ پر پندرہ سو فیٹ کی بجائے پینتیس سو فیٹ کی بلندی پر کیوں تھا؟ پھر لینڈنگ گیئر بھی نہیں کھلے جس پائلٹ کو مورد الزام ٹھیرایا جا رہا ہے ہو سکتا ہے کہ سب سے بڑا مظلوم ہی وہی ہو ۔تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد پبلک ہونی چاہیئے جو اس سے پہلے پیش آنے والے سانحات کے بعد بھی کبھی منظر عام پر نہیں لائی گئیں شاید اس لیے کہ صرف اکیلا پائلٹ قصوروار نہیں ہوتا ۔ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کے لیے بیگناہ مسافروں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لینا کون سی بڑی بات ہے ۔
(رعنا تبسم پاشا)
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Wylie on May, 31 2020
Reply Reply
0 Like
Language: