چوبیس گھنٹے تجارت مسائل کا حل

(SAYAM AKRAM, )

تحریر:میاں انعام الحق،لاہور
کرونا وبا کے باث لاک ڈاؤن سے عوام اور حکومت کی معاشی بدحالی سب کے سامنے ھے۔ حکومت نے ھفتے میں چار دن محدود اوقات میں کام کی اجازت دی ھے جب کہ تاجر چوبیس گھنٹے کاروبار کی ڈیمانڈ کر رھے ہیں دیکھا جائے تو تاجروں کا یہ مطالبہ حالات کا تقاضا ھے جسے حکمران طبقہ نے بغیر سوچے سمجھے رد کر دیا۔ کرونا کی وباکی شدت اس وقت لاھور میں سب سے زیادہ ھے اور ملکی کاروبار کا تانا بانا لاھور کی منڈیوں سے سو فیصد منسلک ھے تمام اقسام کی مشینری اور دیگر مصنوعات ملک کے کسی بھی کونا میں تیار ھو رھی ھے اسے ملک میں ھول سیل فروخت کے لئے لاھور ہی میں اپنا دفتر کھول کر یا ڈسٹری بیوٹر مقرر کر کے فروخت کرنا پڑتی ھیلاھور میں کاروباری سرگرمیوں بارے کرونا سے پہلے کے حالات بارے اگر نظر دوڑائیں تو یاد آتا ھے کہ تمام مارکیٹ دن گیارہ بجے کے بعد کھلتی تھیں اور رات آٹھ بجے تک بند۔ دن کے ایک بجے کے بعد ھی زیادہ رش شروع ھوتا تھا اور مغرب کے ایک گھنٹہ آگے پیچھے ٹریفک کا طوفان۔ کیونکہ ھر کسی کو علم ھوتا تھا کہ کاروبار بند ھونے والا ھے لہذا سامان تجارت خرید کر واپس لوٹنا ھے اس میں پنجاب کے دیگر شہروں کے علاوہ ملک بھر کے دیگر شہروں سے آنے والے تاجر شامل ھوتے تھے یہی وجہ تھی کہ مغرب کے اوقات میں بھاٹی چوک سے رنگ محل تک ٹریفک اکثر جام رھتی حالانکہ تجارتی اوقات کار گیارہ سے آٹھ بجے تک نو گھنٹے تھے حکومت نے جو محدود وقت پانچ بجے تک کا حکم دیا ھے اس میں بازاروں میں رش بہت زیادہ ہے اور ٹرانسپورٹ بند ھونے کی وجہ سے ابھی باھر کا تاجر لاھور نہیں آرھا۔ انٹر دسٹرکٹ اور دیگر صوبوں کے ساتھ بس سروس بحال ھوتے ھے وہ تمام تاجر جو مال تجارت خریدں ے لاھور نہیں آسکے لازمی طور پر لاھور کا رخ کریں گے اور پانج بجے تجارتی مراکز کی بندش بہت مسائل کو جنم دے گی۔ دیگر شہروں کے تاجر رات کے وقت اپنے شہروں سے روانہ ھو کر صبح سویرے لاھور پہنچ بھی جائیں تو انہیں بارہ بجے تک فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر لاھوریوں کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اب لاھور کاماحول کرونا سے پہلے کا یاد کروادوں۔ لاھوریے رات جاگتے اور تین بجے کے بعدسوتے۔ نماز فجر ادا کر کے سو جاتے اور دس بجے کے بعد اٹھتے۔ اب تو تاجر رھنما چیخ چیخ کر کہہ رھے ہیں وہ چوبیس گھنٹے کاروبار کھولنے کی لئے تیارہیں حکومت کو فوری طور پر ان کے ساتھ معاہدہ کر نا چاھیے اور اس کے بہت مثبت اثرات مرتب ھوں گے تاجروں کو چوبیس گھٹے تجارت کی اجازت دیتے وقت اس شرط کا پابند کیا جائے کہ ملازموں سے آٹھ گھں ٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا اور ایک ملازم ایک کاروباری پوائنٹ پر ایک شفٹ سے زیادہ کام نہیں کرے گا اس ایک فیصلہ سے لاکھوں افراد کو روز گار مل جائے گا۔ تمام تاجروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے ملازمین کا ڈیٹا لیبر ڈیپارٹمنٹ کو فراھم کریں۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ اپنا کمپیوٹرائزڑ ڈیٹا اپنی ویب سا?ٹ پر پبلک کر دے اس سے کروڑوں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ممکن ھو جائے گا اور یہ ڈیٹا ملکی پالیسیاں مرتب کرنے میں بہت معاون ثابت ھو گا۔ لاھور کے علاوہ دیگر شہروں کے تاجروں کو مذاکرات کے ذریعے رضا مند کیا جائے کہ وہ لاھور میں مال خریدنے کے لئے ایسے اوقات کار اپنائیں کہ ان کی لاھور میں پہنچ رات نو بجے کے بعد داخل ھوں اور وہ صبح فجر سے پہلے اپنا مال خرید کر لاھور سے واپس چلے جائیں۔اس فیصلہ سے لاھور کی مارکیٹس سے رش ختم ھو جائے گا۔ ٹرانسپورز کو چوبیس گھنٹے تجارت کا براہ راست فائدہ ھو گا۔ عام مشاہدہ ہے کہ پبلک ٹراں سپورٹ میں شامل بسیں دن کے وقت زیادہ تر مسافروں سے خالی اور رات کی وقت کھچا کھچ بھری ھوئیں چویس گھنٹے تجارت سے اس شعبہ میں بھی عوام کی قل و حرکت میں توازن پیدا ھو جائے گا کیونکہ جب لاھور سے باھر کا تاجر رات کے وقت لاھور داخل ھو گا تو لازمی طور لاھور آنے جاے کے لئے دن کے وقت سفر کرے گا۔دن کے حدود اوقات میں تجارت کی وجہ سے ملازم پشہ طبقہ ذاتی شاپنگ کے لیے ھمیشہ مسائل کا شکار رھا ھے چوبس گھنٹے تجارت کی صورت میں تمام افراد چاھے وھ سرکاری ملازم ، فیکٹری ورکرز ، مزدور طبقہ ، پرائیویٹ اداروں کے ملازم اور تجارتی مراکز کے ملازم اپنی اپنی ڈیوٹی دے کر اپنی فیملی کے ل?ے شاپنگ کر سکیں گے۔ چوبس گھنٹے تجارت گویا قائد اعظم محمد غلی جناح کے فرمان ’’کام۔کام اور کام ‘‘ کے عملی نفاذ کا نام ھے اگر غور کیا جائے تو پٹرول پمپ ، میڈیکل سٹورز، سسپتال، میڈیا سنٹرز،ٹرانسپورٹ ، ریسکیو 1122، پولیس ڈیپارٹمنٹ، تمام فیکٹریز،پولٹری فارمز ، واپڈا،محکمہ ڈاک ، سبزی اور فروٹ منڈیوں میں پہلے ہی چوبیس گھنٹے کام کا سلسلہ کامیابی سے جاری ھے اب اگر تجارتی مراکز بھی چوبیس گھنٹے کام شروع کر دیں تو شاید ملک کا معاشی گروتھ ریٹ جو منفی حدود کراس کر رھا ھے اپنی پہلی شرح نا صرف بحال کر لے گا بلکہ سابقہ ریکارڈ توڑ دی گا انشاء اﷲ۔چوبیس گھنٹے تجارت کی صورت میں ظاھر ھے بنک بھی کھلے رہیں گے جس سے کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ عام پبلک کو جو سکون اور فائدہ ملے گا وہ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ھو گا چوبس گھنٹے تجارت کو کامیاب بنا کر پاکستان تحریک انصاف ایک نیا پاکستان دنیا کے سامنے پیش کر سکتی ھے اور عمران خاں کو اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانا چاھیے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: SAYAM AKRAM

Read More Articles by SAYAM AKRAM: 51 Articles with 16789 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2020 Views: 326

Comments

آپ کی رائے