درس قرآن28

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۂ لُقمان
مشکل دن بلکہ مشکل ترین حالات سے انسانیت سے گز ررہی ہے ۔ایسے میں ہمیں کلام مجید کا دامن بالکل بھی چھوڑنا نہیں چاہیے تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کتاب مبین میں ہماری مشکلوں کا حل بھی ہے ۔اور تسکین بھی ہے ۔آئیے سورۃ لقمان کے بارے میں جانتے ہیں ۔
سورۂ لقمان ’’وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ‘‘ سے شروع ہونے والی آیت نمبر27اور28کے علاوہ مکیہ ہے۔(جلالین، سورۃ لقمان، ص۳۴۵۔) ا س سورت میں 4رکوع،34آیتیں ،548 کلمے ، 2110 حروف ہیں ۔(خازن، تفسیر سورۃ لقمان، ۳/۴۶۸۔)
اس سورئہ مبارکہ کے دوسرے رکوع سے الله عَزَّوَجَلَّ کے بَرگُزیدہ بندے حضرت لقمان حکیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیاہے اسی وجہ سے یہ سورت’’سورۂ لقمان‘‘ کے نام سے مَوسُوم ہوئی ۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں الله تعالیٰ اور ا س کی وحدانیّت پر ایمان لانے ،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوّت کی تصدیق کرنے، موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن کا اقرار کرنے کے بارے میں دلائل کے ساتھ کلام کیا گیا ہے۔ اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں الله تعالیٰ کی ہدایت کے دستور اورحضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دائمی معجزے قرآنِ پاک کا ذکر کیاگیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا گروہ قرآنِ پاک کی تصدیق کرتا ہے ا س لئے وہ جنت میں داخل ہو کر کامیاب ہو جائیں گے اور کافروں کا گروہ قرآنِ پاک کی آیات کا مذاق اڑاتا اور ان کا انکار کرتا ہے اور اس نے اپنی جہالت اور بیوقوفی کی وجہ سے گمراہی کا راستہ اختیا ر کیا تو وہ جہنم کے دائمی دردناک عذاب میں مبتلا ہو کر نقصان اٹھائیں گے۔
(2)…کائنات کی تخلیق بیان کرکے الله تعالیٰ نے اپنی قدرت کا بیان فرمایا ہے۔
(3)… الله تعالیٰ نے اپنے بَرگُزیدہ بندے حضرت لقمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کا واقعہ بیان کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحتیں کیں ، اور اس سے مقصود لوگوں کو ہدایت دینا ہے کہ وہ الله تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا چھوڑ دیں ، ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کریں ،ہر طرح کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچیں ،نماز قائم کریں ،نیکی کی دعوت دیں اور برائی سے منع کریں ،تکبُّر سے بچیں اور عاجزی و اِنکساری اختیار کریں ،زمین پر نرمی سے چلیں اور اپنی آوازیں ہلکی رکھیں ۔
(4)… الله تعالیٰ کی توحید کے دلائل کا مُشاہدہ کرنے کے باوجود اپنے آباؤاَجداد کی پیروی میں شرک پر قائم رہنے والے مشرکین کی سرزَنِش کی گئی اور الله تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا انکار کرنے پر ان کی مذمت بیان کی گئی اور مشرکین کو یہ بتایا گیا کہ نجات کا واحد راستہ الله تعالیٰ کی رضا کے لئے اسلام قبول کرنا اور نیک اعمال کرنا ہے۔
(5)…کفار کے قول اور عمل میں تضاد کو بیان کیا گیا کہ وہ الله تعالیٰ کے خالق ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن عبادت کا مستحق ہونے میں بتوں کواس کا شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ بے شمار دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ عبادت کا مستحق صرف الله تعالیٰ ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کئے جانے کا حقدار ہر گز نہیں ہے۔
(6)… الله تعالیٰ کی قدرت پر دن اور رات کے آنے جانے سے،چاند اور سورج کو مُسَخَّر کئے جانے سے اور سمندروں میں کشتیوں کی رَوانی سے اِستدلال کیاگیا۔
(7)…اس سورت کے آخر میں تقویٰ و پرہیز گاری کا حکم دیاگیا،قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرایا گیا جو کہ بہر صورت آئے گا اور یہ بتایا گیا کہ مخصوص پانچ غیبی چیزوں کا ذاتی علم الله تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور الله تعالیٰ ہر چیز سے خبردار ہے۔
اے اللہ عزوجل!ہمیں علم نافع کی دولت عطافرمائے ۔ہماری زندگی میں سکھ اور چین عطافرما۔آمین
نوٹ:قارئین:میرارب آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔آپ کوکسی بھی قسم کی ہماری رہنمائی کی حاجت ہوتو بھلاجھجک آپ ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 323 Articles with 276243 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
31 May, 2020 Views: 207

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ