اقبال ایک اسلام شکن شاعر - الزام کا جواب قسط ٣

(Rashid Mehmood, Al Khobar)
علامہ اقبال ایک اسلام شکن شاعر
انور شیخ نامی ایک مصنف نے سن 2000 میں یہ کتاب لکھی اور اس میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال پر یہ الزام لگایا اور جا بجا اقبال پر تنقید کے نہ صرف نشتر چلائے بلکہ انہیں قرآن اور اسلام کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔
اس کتاب کا کئی دفعہ مطالعہ کرنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اس کا رد مجھ پر اقبال کا قرض ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سلسلے میں یہ تیسری قسط قارئین کی خدمت میں پیش ہے

(گزشتہ سے پیوستہ)
فاضل مصنف کی یہ کتاب افتراء اور اختراع کا ایک بھیانک امتزاج ہے جس میں من کا میل قرطاس ابیض پر انڈیل کر پوری کوشش کی گئی کہ علامہ اقبال کو کسی بھی طرح اسلام شکن قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے اور اس ضمن میں کئی مقامات پر قرآنی آیات کا استعمال ان کی شان نزول اور تفسیر کو سمجھے بغیر ہی کیا گیا اور من چاہے استدلال کو حرف آخر قرار دینے کی ایک سعی لاحاصل سے علمی بددیانتی کے مرتکب بھی ہوئے، مصنف نے اپنی قرآن فہمی سے ادب یا دین کی کوئی خدمت کی بجائے بین اسطور کوشش کی کہ نصوص قرآنی کو مختلف پیرائے میں اقبال کے خلاف استعمال کیا جائے۔
موصوف نے اپنے دعوے کو حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی رو سے کوئی شاعر اسلامی شاعر نہیں ہو سکتا ، اپنی پاکئ داماں کی حکایت کو بڑھانے کی کوشش میں حضرت نے قرآن کریم کی سورہ الشعراء کی آیات 224 تا 227 کا سہارا لیا اور ان آیات کو اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر یوں پیش کیا کہ:
ترجمہ:
(224: اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں)، (225: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں)، (226: اور وہ کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں)، (227: مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام کیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں)
ان آیات کے اس ترجمے سے فاضل مصنف نے یوں تفصیل باندھی کہ:
’’قرآن کی یہ رائے حتمی ہے یعنی شاعری اپنی نوعیت کے اعتبار سے ربط پیغام دہی اور سنجیدگی کے عناصر سے خالی ہے ، اس لیئے یہ کسی بنیادی زاویہ نگاہ کی مفسر نہیں ہو سکتی ، اگر کسی کو صداقت کا پرچار کرنا مقصود ہو تو صحیح ذریعہ اظہار نثر یا خطابت ہے ، شاعری نہیں جو جذبات کی پیداوار اور بحرو قافیہ کی قیدی ہونے کے سبب اوصاف پیغمبری سے عاری ہے، اگر شاعری محض ایک فن کی حیثیت سے کی جائے اور مقصد لطف اندوز ہونا یا مسائل حیات کی گفتگو ہو تو نہ شاعری قبیح ہے اور نہ شاعر کی شخصیت ، فتنہ کا آغاز تب ہوتا ہے جب شاعر کو اسکے کلام کی وجہ سے روحانی پیشوا کا مقام دیا جائے اور اس کی شاعری دانستہ یا نا دانستہ وحی کا نعم البدل سمجھی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی رو سے شاعروں کی پیروی صرف گمراہ لوگ کرتے ہیں اور اس کلیہ کو بیان کرتے ہوئے کسی شاعر کو استثنیٰ نہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے مفسروں اور دانشوروں نے آیت 227 کا مفہوم یہ نکالا کہ اس کا اطلاق ان شاعروں پر ہوتا ہے جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ‘‘
’’حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کا تعلق شاعروں یا شاعری سے ہے ہی نہیں ، عام لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ۔۔۔۔ مگر جو شاعر ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنے اوپر ظلم ہونے کا انتقام لینے کا تو شعراء سے تعلق ہی نہیں‘‘۔
واوین میں پیش درج بالا سطور کو دیکھ کر میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ’’دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں‘‘ فاضل مصنف نے جا بجا اپنی علمی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں نہ صرف حقائق سے رو گردانی کی ہے بلکہ جانے وجد کی کس صندلی پر نشست افروز ہیں کہ مفسرین قرآن پر بھی الزام دھر دیا کہ انہوں نے آیت 227 کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کی ہے ، حالانکہ جو مفہوم اس آیت کا تفاسیر میں بیان ہوا ہے اس کے لئے کئی ایک احادیث کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے نہ کہ محض مفسرین نے اپنے استدلال یا رائے کو تفسیر کے طور پر پیش کیا ہو، اس آیت کی شان نزول بیان کرتے تفسیر ابن کثیر ترجمہ از مولانا محمد جونا گڑھی میں بیان ہوا کہ، شاعروں کی مذمت بارے آیت کا سن کر حضرت حسان بن ثابت ؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہؓ، اور حضرت کعب بن مالکؓ روتے ہوئے دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں ، اسی وقت آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور کہا کہ ایمان لانے والے اور نیک اعمال کرنے والے تم ہو، اللہ کا ذکر کرنے والے تم ہو ، مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو، پس تم ان سے مستثنیٰ ہو، یہی ذکر تفسیر ابن ابی حاتم اور عین یہی روایات تفسیر نمونہ ترجمہ از مولانا محمد صفدر نجفی ؒ نے بھی بیان کی ہے جو اہل تشیع مکتب فکر کے بہت بڑے عالم گزرے ہیں، تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ جلد 8 کے صفحہ 594 تا 599 کا مطالعہ سوچ کی کئی گھتیاں سلجھا دے گا، ان صفحات میں کئی روایات سے مولانا صفدر نجفیؓ نے آل اہل بیت کا شاعری سے شغف اور خاص طور پر حضرت امام جععفر صادق ؓ کے شاعری کے بارے رجحان اور عرب کے نامور شاعر ’’عبدی‘‘ کے کلام کے بارے میں رائے بیان کی ہے اور لوگوں کو ہدایت کی کہ اپنے بچوں کو عبدی کے اشعار کی تعلیم دیں۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت کعب بن مالکؓ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ، تم ان میں نہیں ہو، مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اسی طرح اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے ، واللہ تم لوگوں کے اشعار تو ان لوگوں کو مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ اور حضرت ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب ؓ جو اسلام لانے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس کی ہجو کہا کرتے تھے اسلام لائے تو ان جیسی مدح شان نبویﷺ بیان کرنے والا کوئی نہ تھا اور آپﷺ نے ان کے کلام کو پسند فرمایا۔
معروف عالم دین پیر حضرت سید نصیر الدین نصیر شاہ گولڑوی اپنے ایک مقالے ’’ اسلام میں شاعری کی حیثیت‘‘ میں رقمطراز ہیں
’’ کتب تاریخ و رجال میں یہ حقیقت موجود ہے کہ چاروں خلفائے راشدین شاعر تھے۔ حضرت علی المرتضی ؓ تو سب سے اچھا شعر کہتے تھے بلکہ آپ کا دیوان بھی موجود ہے اور حضرت حسان ؓ کے لیے مسجدِ نبوی ﷺ میں منبر بچھایا جاتا تھا۔ حضورﷺ خود اشعار سنتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ چناں چہ مشکوۃ شریف میں حدیث شریف کا یہ جملہ خصوصا قابل توجہ ہے۔
ترجمہ: قریظہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے حضرتِ حسان بن ثابت سے فرمایا تو کفار کی ہجو کر بے شک جبریل تیرے ساتھ ہے اور جنابِ رسول اللہﷺ حضرت حسان سے فرماتے تھے میری طرف سے مشرکین کو جواب دو اور آپ ﷺ دعا فرماتے۔ اے اللہ! حسان کی روح القدس سے مدد فرمایا‘‘۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو شاعری کی تعلیم نہیں فرمائی اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ شاعری شان نبوت نہیں نہ کہ اس میں کوئی قباحت ہے، لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ ﷺ شعر کہنے کے فن سےنا آشنا تھے، بلکہ شاعر نہ ہونے کے باوجود فصاحت و بلاغت اور اور بعض مواقع پر شعری اوزان پر موزوں ترین جملہ بھی ادا فرما تے ، مشکوہ شریف میں روایت نمبر 4788 میں حضرت جند ب ؓ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں آپﷺ کی انگلی سے خون نکلا تو آپ ﷺ نے فی البدیہہ شعر ارشاد فرمایا:
ھل انت الا اصبع دمیت
و فی سبیل اللہ مالقیت
آپ ﷺ کا شعری ذوق نہایت اعلیٰ تھا، مشکوہ شریف میں روایت 4786 حضرت ابو ھریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ درست بات جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید (ایک معروف شاعر) ہے، شاعر کی یہ بات ہے کہ سن لو ، اللہ کے سوا ہر شے فانی ہے۔
مسلم شریف میں روایت 2255 عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن سواری پر آپﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تمہیں امیہ بن صلت کا کوئی شعر یاد ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں، آپﷺ نے فرمایا سناؤ ، میں نے ایک شعر سنایا، فرمایا اور سناؤ میں نے اور سنایا اور اس طرح میں نے آپﷺ کو امیہ بن صلت کے سو اشعار سنائے۔ یہی روایت مشکوۃ شریف میں بھی شاعری کے باب میں کتاب الآداب میں مروی ہے۔
اس روایت سے ثابت ہوا کہ اچھا شعر سننا جس میں کوئی لغو بات نہ ہو وہ بھی سنت رسولﷺ ہے چہ جائیکہ فاضل مصنف کی یاوہ گوئی سے متاثر ہو کر اشعار پر سوچ اور فکر کے دروازے بند کر کے محض لطف اندوزی بذریعہ شعر کو مقصد جاں بنا لیا جائے۔
مشکوہ شریف میں روایت 4804 صخر بن عبداللہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ، بیشک بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض شعر حکمت ہوتے ہیں اور بعض قول بوجھ ہوتے ہیں۔
اس حدیث مبارکہ سے بڑی وضاحت کے ساتھ شاعری کی اقسام بیان ہو جاتی ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ کس قسم کی شاعری حکمت و دانائی اور کونسی بوجھ ہے، مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی کتاب مقدمہ شعرو شاعری میں شاعری کی جو اوصاف بیان کی ہیں میرا غالب گمان ہے کہ مقصدیت کا فلسفہ بیان کرنے میں شاید انہوں نے اس حدیث سے رہنمائی لی ہو۔ فاضل مصنف نے قرآنی آیات کو اپنی اس کتاب میں شامل کر کے کئی جگہوں پر اقبال اور کلام اقبال کو جھٹلانے کی کوشش تو کی لیکن افسوس شاعری کے حوالے سے کتب احادیث میں موجود روایات سے پہلو تہی کر گئے
درج بالا تفصیل سے مصنف موصوف کا یہ دعویٰ کہ کوئی شاعر اسلامی شاعر نہیں اپنی موت آپ مر جاتا ہے اور جہاں فاضل مصنف نے یہ بیان داغا تھا کہ انتقام لینے کا تعلق شاعر کی ذات سے نہیں تو غالب امکان ہے کہ اس یادہ گوئی کا بھی مناسب جواب پیش کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ غور کریں تو فاضل مصنف نے وجہ فتنہ بتاتے ہوئے اپنے تئیں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ شعراء کے کلام کو وحی کا نعم البدل سمجھ لیا جاتا ہے اور ظاہر ہے مصنف کا اشارہ علامہ اقبال کی شاعری کی مقبولیت کی جانب ہے، مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مصنف کی یہ بات انتہائی پرلے درجے کی جہالت اور لاعلمی اور شعر و ادب کی مختلف جہتوں سے ناشناسی اور تحقیق کا عدم وجود ہے، اگر موصوف یہ بیان داغنے سے پہلے ذرا سی تحقیق کر لیتے تو دنیاوی اور آخروی شرمندگی سے بچ سکتے تھے۔ پہلی با ت تو یہ سرے سے ہی حقیقت سے کوسوں نہیں بلکہ ہزاروں کو س دور ہے کہ کوئی مسلمان محض کسی شاعر کے کلام بھلے وہ علامہ اقبال ہی ہوں کو وحی کا نعم البدل سمجھ لے کہ ایسا کرنے والا تو ویسے ہی دائرہ اسلا م سے نکل جائے گا، میری خوش گمانی اس بات کی متقاضی ہے کہ میں یہ سمجھ لوں کہ مصنف نے شاید ایسا نہیں کہا بلکہ اس کا مطلب شاعری کے ذریعے قرآن فہمی ہے تو بھی یہ مصنف کا بیان قابل قبول نہیں کہ مصنف کو اسلامی تلمیحات سے شناسائی ہی نہیں کہ شعراء کسی شعر میں کسی واقعے کو بیان کرنے کے لئے کس طرح اختصار کے ساتھ تلمیح کا استعمال کرتے ہیں، مثلاّ حافظ شیرازی نے جا بجا اپنی شاعری میں قرآنی آیات، کسی آیت کا ٹکڑا یا الفاظ بطور تلمیح استعمال کیا اور پوری تفصیل قاری پر بن کہے آشکار کر دی تو اسکا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حافظ کا کلام وحی کا نعم البدل ہو گیا۔ جب بھی کوئی شاعر کسی قرآنی آیت کو اپنی شاعری میں بیان کرتا ہے تو وہ اس کی قرآن فہمی اور قرآن کریم سے محبت کا ثبوت ہے اور شاعر کی حساس روح آفاقی پیام سے متاثر ہوتی ہے تو وہ اپنے احساسات کو الفاظ کا پیراہن دیتا ہے نہ کہ اپنی پیروی کی دعوت۔
فاضل مصنف نے اس باب میں بین السطور اقبال کی شاعری پر سینہ کوبی کی ہے اور جا بجا یہ سوچ کر ماتم کناں ہیں کہ شاید امت اقبال کے کلام کی اسقدر دیوانی ہے کہ اسکو قرآن کا متبادل سمجھ لیا ہے جو ظاہر ہے ایک من گھڑت بات ہے خدا جانے کس نے کہاں سے اور کب مصنف کو یہ کہہ دیا کہ کلام اقبال قرآنی احکام کو سمجھنے کے لئے پڑھے جاتے ہیں اور انکی اتباع کی جاتی ہے، یہ کہنا ہی نہایت نچلے درجے کی زبان درازی ہے کہ اقبال کے کلام کی اتباع کی جاتی ہے، اسلامی احکام میں اتباع اور استدلال صرف اور صرف کتاب و سنت ہے اور یہ بات ایک معمولی فہم رکھنے والا مسلمان بھی بخوبی سمجھتا ہے، فاضل مصنف کے پاس اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے کہ کب، کہاں ، کیسے اور کس نے کسی اسلامی حکم بارے استدلال کرنے اور مسلہ اخذ کرنے کو قرآن کریم اور احادیث کی بجائے ’’بانگ درا ‘‘ یا ’’اسرار خودی‘‘ کی جانب رجوع کیا ہو۔
(جاری ہے)



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Mehmood

Read More Articles by Rashid Mehmood: 19 Articles with 12209 views »
I am a qualified CPA and professional Financial and Audit Manager with over 12 years of experience in a variety of industries in key roles at national.. View More
01 Jun, 2020 Views: 384

Comments

آپ کی رائے