اسسٹنٹ کمشنر کلرسیداں کی گرانفروشوں کے خلاف کاروائیوں پر تاجر سراپا احتجاج

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

حکومت نے گرانفروشی کے خلاف سخت مہم شروع کر رکھی ہے اور انتظامہ کو اس حوالے سے انتہائی الرٹ کر رکھا ہے پورے ملک کی طرح تحصیل کلرسیداں میں بھی ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کاروائیاں جاری ہیں اسسٹنٹ کمشنر کلرسیداں ناجائز منافو خوروں کو گرفت میں لانے کیلیئے اپنااہم کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے پچھلے چند ماہ سے ایسے عناصر کے خلاف گھیرا بہت تنگ کر رکھا ہے انکی اس طرح کی کاروائیوں سے کلرسیداں میں مہنگائی میں تھوڑی کمی ضرور ممکن ہوئی ہے لیکن مہنگائی مکمل طور پر کنٹرول نہیں ہو سکی ہے اسسٹنٹ کمشنر کی کاروائیاں اپنی جہگہ بلکل درست ہیں مگر میرے خیال میں ان کا طریقہ کار درست نہیں ہے کسی بھی دکاندار کو محض دو ہزار روپے جرمانہ کر دینا مہنگائی یا گرانفرشی کو روکنے کیلیئے کافی نہیں ہے انتظامیہ جرمانے کر کے واپس چلی جاتی ہے اس کے بعد انتطامیہ یہ سمجھتی ہے کہ ہمارا کام ختم ہو گیا ہے لیکن دکاندار اسی ڈگر پر چل رہا ہوتا ہے اور وہ یہ سوچ کر بیٹھا ہوا ہوتا ہے کہ وہ ادا کر دہ دو ہزار روپے جرمانہ کیسے پورا کرے دکاندار کے پاس اور تو کوئی چارہ ہوتا نہیں ہء اور وہ جرمانے کی صورت میں اپنا نقصان تھوڑی مزید مہنگائی کر کے پورا کرتا ہے دوسری طرف انتطامیہ بھی کارکردگی دکھانے کیلیئے صرف رسمی کاروائیاں کرتی ہے اس کو عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی ہے وہ اپنے ٹارگٹس پورے کرنے کو ترجیح دیتی ہے انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ اس حوالے سے کوئی ایسا نظام وضح کرے جس کے نتیجے میں عوام کو کوئی ریلیف حاصل ہو سکے صرف رسمی جرمانوں سے عوام کو کوئی بھی ریلیف نہیں مل رہا ہے اسسٹنٹ کمشنر ناصر ولائیت نے رمضان کے دوران مہنگائی کو بڑے احسن طریقے سے کنٹرول کیئے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے دکانداروں نے مہنگائی کے چھرے خوب تیز کیئے رکھے ہیں انہوں نے بھی ہزار کی چیز پچیس سو روپے کی فروخت کی تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کی کاروائیوں سے عام عوام کو کیا فائدہ حاصل ہوا ہے دکانداروں نے تو اپنے ہر طرح کے نقصان پورے کر لیئے ہیں سرکاری انتظامیہ نے بھی اپنے تارگٹس پورے کر لیئے ہیں عوام تو پہلے بھی لٹ رہی ہے اور اب بھی لٹ رہی ہے نہ تو حکومت نے عوام کو کوئی ریلیف دیا ہے اور نہ ہی سرکاری انتطامیہ عوام کو نا جائز منافع خوروں سے بچا سکی ہے جمعہ کے روز اسسٹنٹ کمشنر نے چوکپندوڑی میں گرانفروشوں کے خلاف مختلف کاروائیوں میں مقدمات اور جرمانے عائد کیلیئے ہیں جن کے خلاف چوکپنڈوڑی کے دکاندار سراپا احتجاج بن گئے انہوں نے راولپنڈی و کلرسیداں روڈ بند کر دیئے اور کلرسیداں انتطامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر کے رویئے کے خلاف شدید نعرے بازی کی ہے تاجروں کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر ان کے خلاف غیر قانونی کاروائیاں عمل میں لا رہے ہیں جن کا کوئی بھی جواز نہیں بنتا ہے انتطامیہ انہیں ان ریٹس پر مال فروخت کرنے پر مجبور کرتی ہے جو ریٹس منڈی میں بھی نہیں ملتے ہیں ہم مہنگا خرید کر سستا کیسے فروخت کریں اس احتجاج کے دوران گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں لگ گئی جس وجہ عام مسافروں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے دکانداروں نے انتطامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر چھوٹے دکانداروں کو بھاری جرمانے عائد کرتے ہیں جو وہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں پانچ سو روپے کی دیہاڑی لگانے والوں کو بھاری جرمانہ عائد کرنا سرا سر زیادتی ہے اسسٹنٹ کمشنر نے چوکپندوڑی کو بلکل ٹارگٹ کر رکھا ہے حا اور وہ ہمارے خلاف انتقامی کاروائیاں روا رکھے ہوئے ہیں ل پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں کی مداخلت سے احتجاج ختم کروا دیا گیا اوردکانداروں کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ مستقبل میں ان کے ساتھ ناجائز کاروائیاں نہیں ہونے دی جائیں گی جبکہ دکانداروں نے دھمکانہ انداز میں کہا کہ وہ بھی مستقبل میں ایسی غیر منصفانہ کاروائیوں کے خلاف اپنا کوئی لائحہ عمل طے کریں گئے دکاندار حضرات سے بھی التمعاس ہے کہ وہ بھی ناجائز منافع خوری سے پرہیز کرین وہ ایسے غیر قانونی کام نہ کریں جن سے انتطامیہ کو سختی کرنا پڑے وہ جائز منافع کمائیں اور رزق ھلال حاصل کرنے کی کوشش کریں اپنے ہی لوگوں کو دونون ہاتھوں سے لوٹنے کی روش ترک کر دیں وہ جب اپنی مرضی کی مہنگائی کرتے ہیں تو کسی سے اجازت لیتے ہیں اپنی من مانے ریٹس مقرر کر لیتے ہیں انتظامیہ کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ وہ کم از کم چھوٹے دکانداروں کو تھوڑا ریلیف دے وہ مہنگائی پیدا کرنے والے اسباب کو روکے ایک ایسا دکاندار جو بڑی مشکل سے اپنے بچوں کو پیٹ پال رہا ہے وہ صبح سے لے کر شام تک جانفشانی سے کام کر کے دو چار سو روپے کماتا ہے اس کو دو ہزار روپے جرمانہ عائد کر دینا بھی نا انصافی کے زمرے میں آتاہے انتطامیہ کو اس پر دھیان دینا ہو گا کہ وہ ایسی کاروائیوں سے اجتناب کرے جن سے عوام میں اشتعال پیدا ہونے کاخدشہ ہو بار بار چھوٹے دکانداروں کو ٹارگٹ کرنے سے حالات خراب بھی ہو سکتے ہیں لہذا کام اس طریقے سے چلایا جائے جس سے ھالات میں کشیدگی پیدا نہ ہو سکے کیوں کہ انتطامیہ اور دکاندارں کا ہر روز ایک دوسرے سے واسطہ پڑتاہے جب حالات کشیدہ ہوں گئے تو ایک دوسرے کا سامنا کرنا انتطامیہ اور دکانداروں کیلیئے مسائل پیدا کرے گا اسسٹنٹ کمشنر کلرسیداں معاملہ فہم شخصیت کے مالک ہیں امید ہے کہ وہ حالات کو کنٹرول کرنے میں اپنا اہم کردار ضرور ادا کریں گئے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 131 Articles with 37947 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2020 Views: 455

Comments

آپ کی رائے