قانون کی ڈگریاں انصاف مانگتی ہیں

(SAYAM AKRAM, )

تحریر:جویریہ جاوید،پکی شاہ مردان میانوالی
مجھ کوپایا گیا ہے بچوں کی لاشوں میں ،غریب کی فریادمیں،انصاف کے بنددروازوں کے پیچھے انسانیت کے نام پہ دھول ہوں میں گھٹ گھٹ کے جینے والی مخلوق ہوں میں ،اس کی زیادتی ہرامیرکے گھرہے مگر اس کی کمی ہرغریب کے گھر ہے،قانون کی ڈگریاں انصاف مانگتی ہیں اورڈگریوں اور چندنوٹوں کے پجاری انصاف کا ڈھونگ رچاتے ہیں،بنددروازوں سے آتی چیخوں کوان سنا کردیا جاتا ہے،جیسے جیسے بنددروازے کے باہر انصاف کے نعرے بلندہوتے ہیں بک چکی ہوتی ہیں وکالت کی ساری ڈگریاں جن کی جدجہداور جن پر پیسہ خرچ کرکے حاصل کیا ہوتا ہے آج بھی انسانیت صدارکھتی ہے،مگران کی آوازکم ہے انسانیت اس کے کٹورے میں موجودہے جس کے کٹورے میں پینے کوپانی کم اورکھانے کوکھانا کم ہے،جن کے جیب بھرچکے ہوں اورجن کے گھرکے برتن میں کھانا بھرچکا ہووہاں انسانیت کی جگہ نہیں بچتی۔دونوں کانوں سے سن کرغریب کی فریادڈگریوں اورکاغذوں میں بندکردی جاتی ہیں اوروہاں سے چندمزیدنوٹ حاصل کرکے اپنے بینک کی زینت کومزیدآراستہ کیا جاتا ہے،آج کے سنگین مسئلے کو صرف ٹی وی کی زینت بنا دیا گیا ہے،مگرآج بھی کوئی نہیں سوچتااس غریب کے دل پرکیا گزری ہوگی،جس کا بچہ مارا گیا،جس کی غریب بیٹی کی عزت کوسرعام بازاروں میں اچھالا گیا ہوغریب کی آنکھ خشک ہوجاتی ہے انصاف مانگتے مانگتے ترہوتے ہیں توقانون کوبیچنے والوں کے جیب کوئی نہیں سمجھتا کل کوان کا بچہ ان کی بیٹی ان کی بہن بھی ہوسکتی ہے اس قدرپتھردل کوئی کیسے ہوسکتا ہے کوئی اس قدرکیسے ظالم اورخوف خدا سے محروم ہوسکتا ہے ایک بچے کے بازوتوڑ کر،دفنا کرپھرسے نکال کر اورقبرمیں پھینک سکتا ہے کیا وہ شخص خوف نہیں رکھتا ہے شائداس کوخوف خدا نہ ہومگراس دنیا کے خوف سے بہت دورتھاکیونکہ وہ جانتا تھا زیادہ سے زیادہ کیا ہوسکتا تھااس کے ساتھ دودن کی کارروائی کے بعدغریب کی فریادکودبا دیا جائے گااورپھرسے وہ پرسکون ماحول کاحصہ بن جائے گاان سب واقعات سے ہم ایک آنکھ دیکھ کرچپ کرجاتے ہیں مگرہم یہ نہیں سوچتے اب ان حالات کے مدنظرہماری خودکی جان بھی محفوظ ،اپیل کرتی ہوں کہ ماحول ایسا میسرکریں جہاں مظلوم توسکھ کا سانس لے مگرظالم گھٹ گھٹ کرہی مرجائے ،ظالم کواس کے حتمی نتائج اس دنیا میں ہی دکھائے جائیں
غریب کے آنسوؤں میں ڈھونڈومجھ کو
پائی جاتی ہوں مظلوم کی فریادمیں
نہیں سمجھتی دنیا مجھ کو
طوفانوں سے نکلنا چاہتی ہوں
چاہتی ہوں پرامن ہواکو
مرتب ہوں اک مقام پرانسانیت کے نام سے۔

Total Views: 609 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: SAYAM AKRAM

Read More Articles by SAYAM AKRAM: 49 Articles with 14158 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: