پی آئی اے، سرجری کی ضرورت

(Najeem Shah, )

پی آئی اے ملک کی ایک قدیم ایئر لائن ہے جو آزادی سے قبل 1946ء میں ابتدائی طور پر ’’اوریئینٹ ایئرویز‘‘ کے نام سے قائم ہوئی اور پاکستان بننے کے بعد 1955ء میں اس کا باقاعدہ طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کے طور پر آغاز ہوا۔ پاکستان کی قدیم ایئر لائن ہونے کے باوجود پی آئی اے کی سروس اور مینٹی نینس نظام کو انتہائی نظرانداز کیا گیا۔دُنیا کی دیگر ایئر لائنز کے مقابلے میں پی آئی اے کی کارکردگی اِتنی اچھی نہیں کہ جتنی ہونی چاہئے تھی۔

امارات (Emirates) ایئر لائن دبئی، متحدہ عرب امارات کی ایئر لائن ہے جس آغاز 1985ء میں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امارات ایئر لائن کا آغاز پاکستان سے پی آئی اے کے دو جہاز، پائلٹ اور عملہ لے کر کیا گیا تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ مارات نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی ایئر لائن ہے بلکہ بہترین سہولیات کے سبب دُنیا بھر میں قابل اعتبار بھی سمجھی جاتی ہے۔ امارات ایئر لائن کے پاس اِس وقت 300بہترین طیارے ہیں جو کہ دُنیا کے 159ہوائی اڈوں پر آپریٹ کرتے ہیں۔ امارات ایئر لائن ہفتے میں 3600فلائٹس چلاتی ہے لیکن آج تک کوئی ایسا حادثہ پیش نہیں آیا جس میں قیمتی اِنسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہو ماسوائے ایک معمولی حادثہ کے جو اگست 2016ء میں پیش آیا تھا جس میں بھارت سے آنیوالے مسافر طیارے کو دبئی ایئرپورٹ پر اُترنے کی کوشش کے دوران کریش لینڈنگ کرنا پڑ گئی ، جس دوران طیارے کو آگ لگ گئی تاہم اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

امارات ایئرلائن کی بہ نسبت پی آئی اے اندرون و بیرون ملک 56روٹس پر ہفتہ میں تقریباً700کے لگ بھگ پروازیں چلاتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پی آئی اے کے پاس بڑے پیمانے پر اِنسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ہوائی جہازوں کے حادثے کی تاریخ بھی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا مقصد یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ایوی ایشن میں تیزی اور جدید تبدیلی لائی جائے اور اسے عالمی سطح پر منوایا جائے تاہم پی آئی اے جہازوں کے بار بار حادثات رونما ہونا اِس ادارے کی اہلیت اور کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حادثات کی اس افسوسناک تاریخ کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں طیاروں کی دیکھ بھال کے طریقہ کو بہتر بنانے کے علاوہ ہوائی اڈوں پر کنٹرول کے طریقہ کار اور متعلقہ نظام میں خامیوں کو دُور کرنے کی جہاں اشد ضرورت ہے وہیں قومی ایئر لائن کی سرجری بھی انتہائی ضروری ہے۔ پی آئی اے حکام کو بھی چاہئے کہ وہ ذمہ دارانہ اور پیشہ وارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ایئر لائن کو دُنیا کے لئے ایک منافع بخش کمپنی اور برانڈ بنائے بلکہ اسے دُنیا کی مقبول ایئر لائن بنانے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Najeem Shah

Read More Articles by Najeem Shah: 163 Articles with 102597 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2020 Views: 195

Comments

آپ کی رائے