درس قرآن 30

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۃ احزاب
اس کائنات کے رنگ و بو ،شرق و غرب پر غور کرتاہوں تو مجھ پر زندگی کے راز کھلتے ہیں دل کی دنیاسے ایک محشر بپا ہوتاہے ۔جو نظام ہستی چلا رہاہے وہی خدا ہے ۔چنانچہ پھر میں اس کے کلام سے زندگی کے الجھے سلجھے موڑوں کو درست کرنے کی کوشش کرتاہوں خود بھی سمجھتا ہوں اور علمی دیانت کے تحت آپ پیاروں تک اپنی بات بھی پہنچاتا ہوں ۔آئیے سورۃ احزاب کے متعلق جانتے ہیں
سورئہ اَحزاب مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن، تفسیر سورۃ الاحزاب، ۳/۴۸۰۔) اس سورت میں 9ر کوع،73 آیتیں ،1280 کلمے اور 5790 حروف ہیں ۔(خازن، تفسیر سورۃ الاحزاب، ۳/۴۸۰۔)
اگر ہم غور کریں اس سورۃ کے نام کے اعتبار سے تو اس کے پیچھے بھی ایک لوجک ہے ۔ احزاب حِزب کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے گروہ، جماعت اور لشکر۔ اس سورت کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں غزوۂ احزاب کا ذکر کیا گیا ہے اس مناسبت سے اس سورت کا نام’’ سورۂ احزاب‘‘ رکھا گیا اور چونکہ مشرکینِ مکہ، یہودی اورمنافقین متفق ومتحد ہوکرمدینہ منورہ پرحملہ آورہوئے تھے اس لیے اس غزوہ کوغَزْوَۃُ الْاَحْزَابْ کہتے ہیں ،نیز نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے جانثارصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ مل کر مدینہ کے اَطراف میں خندق کھود کر مدینہ کادفاع کیاتھا،اس و جہ سے اس غزوہ کوغزوئہ خندق بھی کہتے ہیں ۔
ہم کلام مجید پڑھتے جائیں لیکن ہمارے اس کے مفاہم و مطالب کا علم نہ وہ تو وہ فقط علم کا ذخیرہ تو ہوسکتاہے لیکن عملی زندگی میں ممکن ہے اس کے نقوش اتنے واضح نہ ہوں ۔آئیے یہ بھی جانتے ہیں اس سورۃ میں کس قسم کا خطاب اور کلام ہے ۔اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں کے لئے شرعی احکام بیان کئے گئے ہیں اور ا س میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کواللہ تعالیٰ کے خوف رکھنے پر قائم رہنے، کفار و منافقین کی پیروی سے بچنے، الله تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرتے رہنے اور الله تعالیٰ پر توکُّل کرتے رہنے کا حکم دیا گیا۔
(2)… یہ بتایا گیا کہ دین و دنیا کے تمام اُمور میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم سب مسلمانوں پر نافذ ہے
اور حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَزواجِ مُطَہَّرات تعظیم اور حرمت میں مسلمانوں کی مائیں ہیں اور جس
طرح اپنی ماں سے نکاح حرام ہے اسی طرح ان سے بھی نکاح کرنا حرام ہے۔
(3)…غزوۂ احزاب کا واقعہ بیان کیا گیا جس میں غزوۂ احزاب کے دن مسلمانوں پر کیاگیا انعام یاد دلایا گیا، منافقوں کا طرزِ عمل بیان کیا گیا اوران کی سازشوں کو ظاہر کیا گیا۔اس کے بعد غزوۂ بنو قریظہ اور یہودیوں کی عہد شکنی کا ذکر ہے۔
(4)…حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ازاوجِ مطہرات کو چند احکام دئیے گئے ہیں نیز پردے کے متعدد احکام بیان فرمائے گئے۔
(5)… حضرت زینب رَضِیَ الله تَعَالٰی عَنْہَا کے نکاح کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
(6)… مسلمانوں کو کثرت سے الله تعالیٰ کا ذکر کرنے حکم دیاگیا ،ان پر الله تعالیٰ کے مہربان ہونے اور ان کے لئے عزت کا ثواب تیار ہونے کی بشارت دی گئی ہے ۔
(7)…تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوصاف بیان کئے گئے اور ان کی تعظیم کے بارے میں مسلمانوں کو ہدایات دی گئی ہیں ۔
(8)… مزید یہ شرعی احکام بیان کئے گئے ہیں :(1)بیوی کو ماں جیسا کہہ دینے کا حکم۔(2)یہ بتایا گیا کہ رشتہ دار ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں کوئی اجنبی دینی برادری کی وجہ سے کسی کا وارث نہیں ہوتا۔(3)کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لینے کاحکم۔(4)نکاح کے بعد بیوی کو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دینے کا حکم۔(5) مسلمان عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم۔
محترم قارئین:میں اس قدر عرق ریزی سے آپ کے لیے کوشش کرتاہوں آپ میرے لیے دعا تو کیجیے کہ میرا رب میری اس کوشش کو میری آخرت کی نجات اور دنیا میں کامیابی کا ذریعہ بنادے ۔۔۔
نوٹ:قارئین:ہم درس قرآن کی یہ سیریز آپ تک پہنچارہے ہیں ایسے ہی بہت سے تعمیری اور اصلاحی کاموں کا عزم رکھتے ہیں جن میں ایک بہترین فلاحی ادارے کا قیام بھی ہے ۔جو کہ فقط آپکی دعا اور تعاون ہی سے ممکن ہے ۔یتیم اور نادار معاشرے کے قابل رحم طبقے کے لیے حصول علم آسان بنانے کا عزم رکھتے ہیں ۔آپ جی بھر کر اور دل کھول کر ہمارے دست راست بنیں ۔آپ کی ایک ایک پائی کہاں اور کب خرچ ہوئی ہم جوب دہ ہیں ۔تعاون کرنا نہ بھولیے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 323 Articles with 271943 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
04 Jun, 2020 Views: 187

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ