آن لائن کلاسوں میں رکاؤٹیں

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

کووِڈ 19 کے باعث تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔ بچوں کے تعلیمی زیاں کے ساتھ ساتھ سمسٹر یا سال ضائع ہونے کے خدشات سر اُٹھانے لگے ہیں۔ جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہوئے تو شروع کے ایام میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کووِڈ 19 کا حملہ وطن ِ عزیز سے رمضان کے بعد پسپا ہوچکا ہوگا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم مصدقہ مریضوں کی تعداد کا موازنہ دیگر ممالک کے ساتھ کر رہے تھے جو ہمارے ہاں نہایت قلیل تھی، یعنی حالات کنٹرول میں تھے۔ یہ بھی باور کرایا جانے لگا تھا کہ اکتیس مئی تک چھٹیوں کو موسم ِ گرما کی چھٹیاں تصور کیا جائے گا اور تعلیمی سلسلہ یکم جون سے شروع ہو جائے گا۔ بدقسمتی سے ہماری اپنی غلطیوں اور بے احتیاطیوں سے کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اس وقت ملک بھر میں مصدقہ مریضوں کی تعداد چوہتر ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اموات سولہ سو کے قریب ہیں ۔تعلیمی اداروں کی چھٹیاں پہلے پندرہ جولائی اور اَب اکتیس اگست تک بڑھا دی گئی ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی واضح ہدایات ہیں کہ جامعات طلباء کا قیمتی وقت بچانے کے لئے یکم جون سے آن لائن کلاسوں کا اجراء کریں اور پھر آن لائن امتحان لے کر پروموشن کروائی ؂ جائے ، یعنی بغیر امتحان دیئے کسی طالب علم کو اگلے درجے میں پروموشن نہ دی جائے۔ واضح رہے کہ آن لائن کلاس سے مراد ایسی کلاس ہوتی ہے جس میں طالب علم مکاں کی قیود سے آزاد کمیونیکشن سافٹ وئیر کے ذریعے اپنے اساتذہ کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں اوردرس و تدریس کا عمل سرانجام پاتا ہے۔ اسی تعریف کی روشنی میں آن لائن امتحان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم بارہا ان سطور میں یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی جامعات تو بنائی ہیں لیکن ای لرننگ پر کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔ جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ہم آن لائن کلاسوں کے لئے ابھی تک کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بناسکے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کے پیچھے کئی ایک رکاؤٹیں کارفرما ہیں۔ جن کو باری باری بحث کا حصہ بنانے سے پہلے آن لائن کلاسوں سے متعلق اپنا حالیہ تجربہ شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

میرے پاس بی ایس چھٹے سمسٹر کے بائیس طالب علم ہیں جن کا واٹس ایپ گروپ موجود ہے۔ جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا تو میں نے آن لائن کلاسیں لینے کا فیصلہ کیا۔ جہاں میرا ایک مقصد طالب علموں کو گھروں پر مصروف رکھنا تھا تو وہاں دوسرا اور اہم مقصد اس طریقہ کار کو اپنے ڈیپارٹمنٹ اور کالج کے تمام ڈیپارٹمنٹوں تک پھیلانا تھا۔ میں نے تمام طالب علموں کو میسج کیے کہ وہ زوم(Zoom ) سافٹ وئیر اپنے موبائل فونز ، لیپ ٹاپ یا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹروں پر انسٹال کریں۔ میری لئے خوشی کی بات یہ تھی کہ چند طالب علموں نے فوراً کامیابی سے سافٹ وئیر انسٹال کیا ، کچھ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا رہا تھا، اُن کو طالب علم میرے ساتھ گاہے بگاہے رہنمائی فراہم کر رہے تھے۔ مجھے یہ اُمید نظر آنے لگی تھی کہ جلد تمام بائیس کے بائیس کے طالب علم آن لائن کلاس میں موجود ہوں گے اور تعلیمی سلسلہ جہاں سے منقطع ہوا تھا وہیں سے جوڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ تقریباً ہفتہ دس دن کی انتھک محنت سے صرف نو طالب علم سافٹ وئیر کے ذریعے منسلک ہوئے۔ چوں کہ وقت گزرتا جارہاتھا اس لئے ہم نے آن لائن کلاسوں کی تاریخ اور وقت مقرر کر دیا۔ اس دوران میں باربار اپنے طالب علموں کو زوم سافٹ وئیر انسٹال کرنے کے میسج کرتا رہا کہ شاید ان کی تعداد میں اضافہ ہوجائے۔ جس دن پہلی آن لائن کلاس ہوئی ، اُس سے ایک دن پہلے تمام طالب علموں کو مطلع کیا گیا کہ وہ اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سارے عرصے کچھ طالب علموں نے رابطہ کیا کہ اُن کے پاس سہولت یا آلات نہیں ہیں۔ خیر ، جب پہلی کلاس شروع ہوئی تو صرف چار طالب علم آن لائن ہوئے۔ روایتی کلاس کی طرح چند منٹ انتظار کیا گیا لیکن تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہوا۔ چار طلباء سے شروع ہونے والی یہ کلاس رمضان میں محض ایک طالب علم تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ میں نے ہینڈ آؤٹ ، کتابوں ( سافٹ کاپی ) اور دیگر میٹریل ترتیب دیا اور طالب علموں کو بذریعہ ای میل بھیجا کر آن لائن کلاسوں کے سلسلے کو بند کردیا اور میرا خواب کہ اس سلسلے کو ڈیپارٹمنٹ اور تمام کالج تک پھیلانے کو فُل سٹاپ لگ گیا۔

اَب ہم اپنے کالم ’’ آن لائن کلاسوں میں رکاؤٹیں ‘‘ کی جانب آتے ہیں۔ اول ، آن لائن کلاسوں میں سب سے بڑی رکاؤٹ ہماری ای لرننگ سے ناآشنائی ہے۔ ہم نے ای لرننگ ، ای بکس (یا ٹیکسٹ بکس )، ای ریڈر ، ای سکولنگ اور موبائل لرننگ پر کوئی توجہ نہیں دی کیوں کہ ہمارا واسطہ کووِڈ 19 کی طرح کسی وبا اور بلا سے پہلے نہیں پڑا تھا، یعنی ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ ایسا وقت آسکتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے دروازے اساتذہ اور طالب علموں پر بند ہوجائیں گے ۔ یہی وجہ تھی کہ ہماری ای لرننگ سے متعلق تیاری سرے سے موجود ہی نہیں تھی ۔دوم ، ہمارے طالب علموں کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہیں ہیں۔ اگر موجودہ حالات میں دیکھا جائے تو ہمارے طالب علموں کے پاس جس چیز کی کمی ہے وہ یہی آلات و سہولیات ہیں، یعنی کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ۔موجودہ حکومت لیپ ٹاپ سکیم کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح جاری رکھے کیوں کہ اسی بناء پرہمارے طالب علم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں نہ صرف جدید تعلیم و تحقیق میں آگے بڑھ سکیں گے بلکہ آن لائن کلاسوں سے بھی استفادہ اٹھا سکیں گے ۔سوم ، لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کی معاشی صورت حال حوصلہ افزا نہیں ہے جن کا تذکرہ معاشی ماہرین کرتے رہتے ہیں لہٰذا طالب علموں کے لئے خصوصی انٹرنیٹ پیکج کا ( بہترین سٹریمنگ کے ساتھ ) اعلان کیا جائے جو کہ آن لائن کلاسوں میں ایک بڑی رکاؤٹ کے طور پر سامنے آرہا ہے ۔ اس سہولت کی دستیابی سے والدین پر اخراجات کا بوجھ کم سے کم پڑے گا۔چہارم ، ایک رکاؤٹ ہمارے اساتذہ کی ٹیکنالوجی فوبیا ( ان کی تعداد اچھی خاصی ہے )اور آن لائن پڑھانے میں مہارتوں کی کمی ہے ۔ اس کے لئے ایچ ای سی کو اساتذہ کے لئے آن لائن تدریسی طریقوں اور مہارتوں سے متعلق تسلسل کے ساتھ ورکشاپ منعقد کروانی پڑیں گی ۔پس ان تمام رکاؤٹوں کی موجودگی میں آن لائن کلاسوں اور امتحانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 110369 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2020 Views: 280

Comments

آپ کی رائے