درویش کا سفر

(Imran Qayyum, Attock)
درویش کا سفر,اصل میں محبت کا سفر ھے۔عشق مجازی سے عشق رسول کا سفر۔

اَلَا بِذِکۡرِ اللہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ. ترجمہ: خوب سمجھ لو

کہ اﷲ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔13:28 الرعد

استاد یا میر کارواں

تم خواب میں ھی, اک اور خواب میں ہو۔

کائنات کے اندر ایک اور کائنات ہے۔
درویش کا سفر محبت کا سفر ہے۔
یہ سفر لمبا ہے ، یہ سفر تکلیف دہ ہے۔

موسیؑ خضرؑ کے ساتھ اور نبیﷺ جبریلؑ کے ساتھ سفر پر نکلے تھے۔

یہ اک لمبا راستہ ہے اس میں خوفناک راستے بھی آتے ہیں۔
یہ تنگ اور تلوار سے بھی زیادہ تیز راستہ ہے۔
اگر آپ کا ہمسفر, کوی خضرؑ یا جبرائیلؑ نہیں ہے تو آپ کو ایک دانشمند استاد,ایک رہبر,اک
مرد مومن کی ضرورت ہو گی۔
بقول اقبال۔
*کوی اندازہ کر سکتا ھے اس کے زورِ بازو کا*

*نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ھیں تقدیریں*

وہ میر کارواں جو آپ کو آپ کی منزل تک لے جاے۔
سچ تک لے جاے۔

اس مادی دنیا کو چھوڑنے کے لیے,
آپ کو مراقبہ(تدبر) اور
لا الہ الا اللہ,کے ذکر کی متواتر ضرورت ھوتی ہے۔

آپ کو کم کھانے, کم پینے اور کم سونے کی ضرورت ھوتی ہے۔

یہ بات کبھی بھی مت بھولو ،
کہ

دل اللہ کا تخت ہے۔
جو *کسی کا بھی دل* توڑ دیتے ہیں۔
وہ پاکیزگی (طہارت) حاصل نہیں کرسکتے ۔انکی معافی مشکل ھے,

یہ سفر آپ کے صوفیانہ عروج کا سفر ھو گا۔
اس کی جستجو کرنے والے ھی اس سفر پر جاسکتے ہیں۔ اور اپنی منزل تک پہنچ سکتے ھیں۔
بغیر طلب کے یہ راستہ نہیں ملتا۔

یاد رکھنا اطاعت اللہ و رسول, اور ان سے عشق, مسلسل محنت اور لگن اس کی بنیادی شرائط ھیں۔

ہم اللہﷻ کی طرف سے آئے ہیں ، اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے۔
2:156(البقرہ,ایت 156)

ہمارا آنا,جانا سب اسی کے اختیار میں ھے۔

نبیﷺنے استاد,پیرکامل,رھبر کی محبوبیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا

کہ لوگوں کو بھلائی سیکھانے والے پر اللہ ،ان کے فرشتے ، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں رحمت بھیجتی اور دعائیں کرتی ہیں۔(ترمذی ۔2675)اساتذہ

استاد یا میر کارواں کیلیے اقبال کہتے ھیں وہ ھو,

جس کی نگاہ بلند (صرف اللہ ھی سے, سب کچھ ھونے کا یقین),سخن دلنواز(اس کا اخلاق, قران ھو) ھو اور جاں پرسوز (دل میں مخلوق کا درد ھو اور دل سے اللہ ھو کی صدا آے )ھو

کیونکہ
یہی ھے رخت سفر میر کارواں کیلیے

یہ آپ بھی ھو سکتے ھیں مگر اس کھٹن راستے پر چل کر ھی ۔
 

Total Views: 473 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Qayyum

Read More Articles by Imran Qayyum: 3 Articles with 1133 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: