ہندوستان میں اسلاموفوبیا

(Najeem Shah, )

بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ مہم جاری ہے کہ خلیجی ممالک میں ہندوستان کی ساکھ خراب کرنے کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیچھے ایک غیر ملکی سکیورٹی ایجنسی کا ہاتھ ہے۔ اماراتی شہزادی ہینڈ (Hend) نے جب یہ محسوس کیا کہ بعض ہندوستانی ٹویٹر پر اپنی بیمار ذہنیت دکھاتے ہوئے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا مورد الزام مسلمانوں اور تبلیغی جماعت کو ٹھہرا رہے ہیں تواُس نے نفرت انگیز ٹویٹس کا فوری نوٹس لیتے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی کو یہ وارننگ دی تھی کہ وہ کرونا وائرس کے حوالے سے مسلمانوں پر بے جا تنقید اور نسل پرستی سے باز آ جائیں ورنہ اُنہیں نہ صرف جرمانہ ہو گا بلکہ ملک سے بھی نکال دیا جائیگا۔ دراصل یہ ایکشن شہزادی ہیند آل قاسمی نے عرب امارات میں مقیم بھارتی سوربھ اپادھیائے (Saurabh Upadhyay) کی ٹویٹس کو نسل پرست، مذہبی تفریق اور اسلاموفوبیا قرار دیتے ہوئے لیا تھا۔

کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے جس کی لپیٹ میں تقریباً پوری دُنیا آچکی ہے تاہم بھارت میں اِس وائرس کے پھیلاؤ کا مورد الزام وہاں کی حکومت، عسکری ادارے اور میڈیا حسب روایت مسلمانوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مارچ کے مہینے میں بھارت میں منعقد ہونے والے تبلیغی جماعت کے اجتماع سے وہاں کرونا وائرس پھیلا۔ایسے نسل پرست نظریات کا اظہار عرب ممالک میں مقیم اپادھیائے ہی نہیں بلکہ سے ہندوستانی کر رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کا یہ اجتماع مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی مہم کا سبب بن گیا۔ کئی ٹی وی چینلوں نے اسے ملک میں کرونا پھیلانے کی ایک دانستہ سازش قرار دیا تو کسی نے اس واقعے کو ’’کورونا جہاد‘‘ کا نام دیا۔ دُنیا بھر کے ممالک جہاں اس مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں ، بھارت اپنے ہی ملک میں رہنے والی سب سے بڑی اقلیت کے خلاف نفرت کے پرچار میں مصروف ہے۔سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر بھارتی انتہا پسند سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف مہم نہیں چلا رہے تو پھر اماراتی شہزادی کے تگڑے جواب کے بعد بھارتی شہری کو اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کیوں کرنا پڑا۔

ہندوستان میں پروان چڑھنے والی اسلاموفوبیا کوئی نئی بیماری نہیں بلکہ آر ایس ایس کے نظریات کے حامی کچھ ہندو توا ذہنیت رکھنے والے افراد ہندوستان کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں بھی مسلمانوں کے خلاف خوب زہر اُگل رہے ہیں۔خلیجی ممالک میں اب تک کئی بھارتی شہری مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پوسٹس کی وجہ سے نوکریوں سے فارغ ہو چکے ہیں۔گزشتہ چھ ماہ میں بھارت کے ایک درجن کے قریب شہری اس قانون کی زد میں آ چکے ہیں جنہیں ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ دبئی میں مقیم بھارتی فلم ساز سوہان رائے کو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے پر سرِعام معذرت کرنا پڑی۔ کینیڈا میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جہاں روی ہوڈا (Ravi Hooda) نامی بھارتی شہری کو اسلام مخالف پوسٹ کرنے پر نہ صرف نوکری سے نکال دیا گیا بلکہ کینیڈا کی سرفہرست غیر منقولہ مارکیٹنگ ویب سائٹ ری میکس نے اُسکے ساتھ ملازمت کا معاہدہ ختم کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ’’ہم ہوڈا کے نظریات کو قبول نہیں کرتے، نہ ہی حمایت کرتے ہیں‘‘۔ ہوڈا کی ٹویٹ نے دراصل پورے کینیڈا کو حیران کر کے رکھ دیا تھا جو عالمی سطح پر اپنی رواداری کے لئے مشہور ہے۔

ہندوستان ایک عرصہ سے دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے خود کو سیکولر ملک قرار دے رہا ہے تاہم اب عرب ممالک سمیت دیگر ممالک کی بھی آنکھیں کھل رہی ہیں کہ انڈیا سیکولر ملک نہیں۔ بیرون ممالک مقیم تارکین وطن دراصل وہاں اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں۔ خلیجی اور دیگر ممالک میں بھارتی شہریوں کے خلاف ایکشن یہ ثابت کرتا ہے کہ آر ایس ایس کا انتہا پسندانہ نظریہ اب ہندوستانی سرحدوں سے نکل کر بہت دْور تک پھیل چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی موجودہ لہر میں کوئی کمی آئے گی یا نہیں اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن یہ پہلی بار ہے جب انڈیا میں حکمراں بی جے پی اور ہندو توا کے علمبرداروں نے یہ محسوس کیا ہے کہ انڈیا کی اندرونی سیاست کے بین الاقوامی مضرات بھی ہو سکتے ہیں۔ عرب ملکوں اور کینیڈا میں ہلکی سی جھرجھری ہونے کے بعد اب نریندر مودی کو بھی یہ حقیقت نظر آنے لگی ہے کہ کورونا کا کسی نسل اور مذہب سے تعلق نہیں، اس سے پہلے وہ بھی کرونا کا مذہب اسلام ہونے پر کامل یقین رکھتے تھے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Najeem Shah

Read More Articles by Najeem Shah: 163 Articles with 103923 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2020 Views: 393

Comments

آپ کی رائے