ادب گوشے....چند تاثرات

(Yasir Farooq, Karachi)

شاعری کے مستقبل کے حوالے سے مقدمۂ شعر و شاعری میں الطاف حسین حالی نے لکھا ہے کہ شاعری دورِ ظلمت میں پھلتی پھولتی ہے...جیسے جیسے انسان روشنی کی طرف بڑھے گا شاعری اپنی اہمیت کھوتی جائے گی انسان کے سفرِ عقل و دلیل میں تیز رفتاری کے سبب جبکہ شاعری خیال پرستی کا مظہرِ جمود...لیکن آج یہ خیال غلط ثابت ہو رہا ہے...اِس تیز رفتار زمانۂ اطلاعات میں بھی فیسبک...وہاٹس اپ...ٹک ٹاک وغیرہ پر شاعری پسندیدہ سرگرمیوں میں شاملِ خاص ہے...انسانی احساسات و جذبات ایک مستقل اکائ کی صورت شاعری کو وجود بخش رہے ہیں...سائنس کی دلیل نوازی کے باوجود ...بلکہ سائنس سے استفادہ کرتے ہوئے...بس شاعری کے رخِ سفر پر دھیان رہے_

اسلوب الفاظ کے انتخاب اور اندازِ بیان کا نام ہے...مگر اسلوب کی پہچان ایک مشکل امر ہے..ایک سنجیدہ ادبی مسئلہ ہے...سنتے آئے ہیں کہ ہر انسان جدا ہے ...لہذا ہر لکھاری کا اسلوب بھی جدا ہونا چاھئے...اور ایسا ہوتا بھی ہے..اہلِ علم نے لکھا ہے کہ اسلوب کو پہچاننے کے لئے تحریر اور لکھاری دونوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا جانا ضروری ہے تب کہیں جا کر اندازِ بیان سمجھ آتا ہے...محض سرسری سی نظر ڈال لینا ہوا میں تیر چلانے کے مترادف ہے ...یہ اِسی طرح ہے کہ ہم چند جملے پڑھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ تحریر ہمارا فلاں دوست ہی لکھ سکتا ہے...فلاں کا تو یہ انداز نہیں_

فلیش فکشن کی مختلف انداز سے تعریف کی جاتی ہے...یہ ایک مختصر ترین کہانی ہوتی ہے جو چند الفاظ سے لے کر چند سو بلکہ ہزار الفاظ پر مشتمل ہو سکتی ہے...یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے ارادتا مختصر کر دیا گیا اور یوں عدم جزئیات کی کم سوزی شہکار میں ڈھل نہ سکی...اِس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ صنفِ نثر اثر پذیری کی صلاحیت سے یکسر محروم ہے...زمانہ تیز رو ہے...قاری کی مصروفیات بڑھ گئ ہیں...ایسے میں اختصار ایک مجبوری بھی ہے....اگر دیکھا جائے تو فلیش فکشن کا مجموعی تاثر اقوالِ زریں سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے جو بہرحال زندگی کے سفر میں کام آتے ہیں_

ایسے لوگ کم نہیں جو شاعری اور شاعر دونوں سے دور بھاگتے ہیں... اِس رویے کی بنیادی وجہ سورۂ شعراء کی شاعروں سے متعلق آیت کا ناقص فہم ہے... اسی آیت میں جہاں قرآن شاعر کو خیال کی وادی میں بھٹکنے والا قرار دیتا ہے وہیں لفظ 'اِلا' یعنی مگر لگا کر ایسی شاعری کی گنجائش پیدا کر دیتا ہے جو خدا سے قریب کرتی ہے...جو اسلام کی سربلندی میں معاون ہو...چنانچہ کئ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی شعر گوئ کو ترک نہیں کیا... یہیں سے معاشرتی شاعری کی بھی راہ نکلتی ہے...نجانے کیوں ہمارے ہاں بہت سے لوگ صرف شاعروں کو جہنم کا حقدار سمجھ کر مطمئن ہیں جبکہ قرآن میں جھوٹ,فریب, بےایمانی, بدعنوانی وغیرہ کو واضح طور پر قابلِ گرفت بتایا گیا ہے_
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Yasir Farooq

Read More Articles by Yasir Farooq: 11 Articles with 3268 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2020 Views: 211

Comments

آپ کی رائے