نانا جی

(M Munnawar Saeed, Karachi)
ہمیں دیکھر تو بالکل بچہ بن جاتے۔
یقینا ہماری صورت میں انہیں امی کا گزرا بچپن یاد آجاتا ہوگا جس سے وہ دوبارہ محظوظ اور لطف اندوز ہونا چاہتے ہوں گے۔

جون جولائی کی چھٹیوں میں جب ملک بھر میں گرمیاں اپنے جوبن پر ہوتیں ہم اپنی امی کے ساتھ نانا جی سے ملنے کیلئے پنجاب جاتے۔
امی ہماری سب بہن بھائیوں میں چھوٹی اور لاڈلی تھیں ۔نانا جی گو کہ کافی سن رسیدہ تھے مگر تھے بالکل چاق و چوبند۔
ہمیں دیکھر تو بالکل بچہ بن جاتے۔
یقینا ہماری صورت میں انہیں امی کا گزرا بچپن یاد آجاتا ہوگا جس سے وہ دوبارہ محظوظ اور لطف اندوز ہونا چاہتے ہوں گے۔
نانا جی شعبہ تدریس سے وابستہ تھے انکی علم دوستی اور علم پروری رگ و پے میں خون کی مانند گردش کرتی تھی۔
ہم جیسے پی ٹرین سے اتر کر گھر پہنچتے نانا جی خوب پیار کرتے مگر ساتھ ہی پوچھتے کہ کونسی کلاس میں ہو ؛ہم آخری بار جب نانا سے ملے تو دوسری کلاس میں تھے ،
اگلے ہی دن ناناجی بغدادی قاعدہ اور دوسری جماعت کا کورس لے آئے کہ چھٹیوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے لہذا ہم روزانہ سبق پڑھا کریں گے۔
ہم نے جان بچانے کیلئے کہا کہ نانا ہم تو کراچی میں نورانی قاعدہ پڑھتے ہیں ۔
نانا جی اگلے دن نورانی قاعدہ لیکر آرہے تھے۔

نانا جی اردو کی نظم "جاڑا آیا " ہمیں پڑھ کر سناتے !

جاڑا دھوم مچاتا آیا​
کپڑے گرم پہناتا آیا​
کیسی ہوا ہے سر سر سر سر​
کانپتے ہیں سب تھر تھر تھر تھر​

نانا جی جب سر سر اور تھر تھر تھر کہتے تو باقاعدہ تھر تھر کانپنے لگتے ۔ہم اپنی ننھی ننھی آنکھوں سے انکی سفید روئی کے گالوں جیسی سفید داڑھی کو یوا میں لہراتے اور پھندنے والی ٹوپی کو ہلتے دیکھتے تو بے اختیار ہماری ہنسی چھوٹ جاتی۔
ہماری شرارت پر نانا جی مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے اور پھر دیر تک سینے سے چمٹا لیتے ممتا کا یہ انداز شاید ہماری امی نے نانا ہی سے سیکھا تھا۔
نانا جی کو آرٹس سے بیحد لگاو تھا۔انہوں نے 1914 میں NCA سے کرافٹ اینڈ ڈیزائینگ میں ڈپلومہ کیا تھا۔
وہ زبردست پینٹنگز بناتے تھے۔ہمیں پلاسٹر آف پیرس اور آٹے سے چڑیاں طوطے اور دیگر کھلونے بنا بنا کر بھی دیتے اور سکھلاتے بھی۔
نانا آئل پینٹنگز بہت خوبصورت بناتے تھے۔انکی طبیعت میں سادگی و درویشی تھی۔اسکا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے جب لوگ اپنی بیٹیوں کو رخصت کرتے ہوئے قیمتی اشیا جہیز میں دیتے ہیں انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی دو پینٹنگز تحفے میں دی تھیں۔انہوں نے کس چاہت سے بنائی ہونگی، امی کو ان سے کتنا لگاو ہوگا اسکی قدر و منزلت سے ہم اپنے بچپن میں واقف تھے نہ ہی سمجھ سکتے تھے یہ باپ اور بیٹی کی محبت و الفت کے جذبات اسی وقت سمجھ آسکتے ہیں تاآنکہ آپ خود بھی اسی رشتہ سے وابستہ نہ ہوجائیں ۔
اب حسرت ہی ہے کہ وہ پینٹنگز مل جائیں تو انہیں خوبصورت سا فریم کرواکر اپنے گھر کی زینت بناوں۔
جب ہم چھٹیاں گزار کر واپس کراچی آرہے ہوتے تو نانا چھوتی چھوٹی کہانیوں کا بکسہ بھر کر ساتھ ضرور دیتے۔
نانا جی نے کہانیاں پڑھنے کی عادت کچھ اسطرح سے ڈالی کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود چھٹ نہ سکی بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ۔ہمیں اسٹیشن پر رخصت کرنے سب رشتہ دار آتے سوائے نانا جی کے۔لادلی بیٹی کو بار بار رخصت کرنا شاید آسان نہیں ہوتا۔ضبط آنسووں کو پلکوں کے چلمن میں روکنا، بڑے بڑے سورماوں کے بس سے بھی باہر ہوتا ہے۔نانا جی حافظ قرآن بھی تھے۔امی بتاتی ہیں کہ اپنے معمولات کی ادائیگی کیلئے گھر سے باہر نکلتے تو تلاوت قرآن شروع کردیتے اور واپسی پر گھر کی آخری دہلیز پر قدم رکھتےتو ایک منزل مکمل کر چکے ہوتے۔
نانا جی کو علم اور فروغ علم سے پیار تھا۔
انہوں نے" ایک منٹ کا مدرسہ" کے نام سے کتابچہ مرتب کیا جسمییں ایک حدیث مبارک اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آسان زبان میں بیان ہوتا۔
وہ رستے میں لوگوں کو دیتے جاتے کہ اسے زرا پڑھو میں واپسی میں لے لوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری زرا سی کاوش سے کسی کی زندگی سنور جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے۔
نانا جی نے اپنی پوری زندگی علم کے فروغ خصوصا بچیوں کی تعلیم کیلئے وقف کردی۔
اپنی پوری توانائیاں اور وسائل بروئے کار لاکر بے شمار مدارس اسکول اور کالجز کی بنیاد رکھیں ۔
دین سے محبت نانا کی رگ و پے میں بسی تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم ان دنوں چھٹیوں میں نانا ہی کے گھر مقیم تھے کہ ایک خبر آئی کہ کھدائی کے دوران محمد بن قاسم کے دور کی مسجد کے آثار دریافت ہوئے ہیں ۔
مسجد کی بحالی کا کام زور و شور سے جاری تھا ۔لوگوں کی تمنا تھی کہ جلد از جلد یہ مسجد تعمیر ہو اور سب اس تاریخی مسجد میں نماز ادا کریں مگر فنڈ کی کمی درپیش تھی۔
ایسے میں نانا جی باوجود اپنی پیرا ن سالی کے چندہ جمع کرنے کی مہم کیلئے کمر بستہ ہوئے اور خود جھولی پھیلا کر چندہ جمع کرنے نکل پڑے ۔لوگوں نے جب حافظ جی کو خود چندہ مانگتے دیکھا تو آنا فانا میں نوٹوں کے انبار لگا دیئے کیا ہی ساہوکار ، کیا مزدور ہر ایک نے اپنی بساط سے بڑھ کر اتنا دیا کہ مطلوبہ ضرورت سے زیادہ رقم جمع ہوگئی جس سے بعد ازان لڑکیوں کے اسکول کی تعمیر ممکن ہوئی۔
نانا جی نے نیکی کے کاموں میں کبھی عار یا ججھک محسوس نہیں کی جبکہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی خودادار شخص تھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد میں بھی ہمیشہ اپنا خرچ خود اٹھایا۔
مزیدار بات یہ ہے کہ آپ نے جتنی رندگی ملازمت کی اتنی ہی سرکار سے پینشن بھی وصول کی ۔اپنی وفات سے آخری دو روز قبل خود پنشن لیکر آئے ۔وہی رقم انکے سفر آخرت میں استعمال ہوئی۔
نہ کبھی زندگی میں بلکہ بعد از وفات بھی کبھی کسی سے ایک پیسہ بھی نہ لیا۔
کہتے ہیں کہ انسان جس کلمہ کے ورد کو اپنا معمول بنالے تو وہی کلمے اس دنیا سے جاتے ہوئے اسکے لبوں پر جاری ہوجاتے ہیں ۔
نانا جان ہمہ وقت تلاوت قرآن پاک میں مشغول رہتے تھے ۔وقت وصال صبح صادق خود وضو کی ،نفل ادا کیئے اور پھر چارپائی پر لیٹ کر تلاوت قرآن شروع کردی ۔اسی دوران روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔یقینا عزرائیل علیہ السلام بھی انکی تلاوت کی شیرینی سےکچھ دیر لطف اندوز ہوئے ہوں گے۔
نانا جی ایک علم دوست اور عملی انسان تھے ۔انہیں اپنے دور کا سرسید کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

سب کہاں، کچھ لالہ و گُل میں نُمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

(محمد منور سعید )


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 172 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Munnawar Saeed

Read More Articles by M Munnawar Saeed: 34 Articles with 14880 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: