ہندی چینی بھائی بھائی یا بائی بائی

(Dr Salim Khan, India)

انسان کے پاس علم غیب نہیں ہے اس لیے وہ نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہے؟ وقوع پذیر ہونے والے واقعات جو اندازہ لگایا جاتا ہے وہ بھی اکثر غلط ہوجاتا ہے۔ مثلاً 2014کی انتخابی مہم میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے نعرہ لگایا تھا ’اچھے دن آنے والے ہیں‘۔ عوام نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ ان کے اچھے دن آیا چاہتے ہیں ممکن ہے مودی جی بھی یہی چاہتے رہےہوں۔ انتخابی نتائج کے بعد عوام کے بجائے خود وزیر اعظم مودی کے ہی اچھے دن آئے ۔ لوگوں نے سوچا چلو ہمارا نہ سہی ہمارے رہنما کا تو بھلا ہو گیا۔ اس کی بھلائی میں اپنی بھلائی ہے۔ مودی پر امریکہ میں داخلے کی جو پابندی تھی وہ اٹھ گئی اور وہ ساری دنیا میں آزاد پنچھی کی مانند اڑنے لگے ۔ اس دوران فوجیوں کو آسمان میں اڑانے کا سودہ بھی کرلیا ۔ اس کے ذریعہ اگلی انتخابی مہم کے لیے دانہ دنکا کا بندوبست بھی کیا گیا اور اسی سودے بازی نے ان کے پر کتر دئیے ۔ رافیل بدعنوانی کے بعد مودی جی پر اقبال کا یہ شعر صادق آگیا؎
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

انتخاب کے نزدیک اپنے پرواز کی کوتاہی پر قابو پانے کے لیے مودی جی نے بالاکوٹ کی اڑان بھری اور (پاکستان کے) برے دن آنے والے ہیں‘ کا زیر لب نعرہ لگا کر مہم چلائی ۔ اس میں پہلے سے زیادہ کامیابی ملی ۔ وزیر اعظم کی سمجھ میں آگیا کہ اچھے دن سے زیادہ منافع برے دن کے دھندے میں ہے ۔ ان برے دنوں کا قہر ڈھانے کے لیےامیت شاہ کو وزیر داخلہ بنایا گیا۔ اس کے سبب راجناتھ سنگھ کو وزیر دفاع بنانا پڑا۔ سابق وزیر دفاع نرملا سیتا رامن کو ہٹائے بغیر یہ ممکن نہیں تھا اس لیے انہیں وزیر خزانہ کا قلمدان تھمادیا گیا ۔ اس طرح ایک نئی صف بندی کے ساتھ نئی بازی سجائی گئی ۔ اس میں این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر کی فصیل تھی ۔ کشمیر کی تخریب اور رام مندرکی تعمیر کا سامان موجود تھا ۔ یہ سارا کھیل بڑی خوبی سے کھیلا جارہا تھا کہ اچانک کورونا آگیا ۔ کورونا کا قہر ابھی جاری تھا کہ چین نے لداخ میں بے چینی پھیلا دی اور اس کی شئے پر نیپال نے بھی اپنا حال چال بدل دیا ۔ اس طرح پاکستان کے بجائے خود مودی جی کے برے دن آگئے ۔ فی الحال ملک کورونا اور چین کے سنگین مسائل سے نبردآزما ہے لیکن منموہن کا تمسخر ارانے والے ہمارے بڑ بولے وزیر اعظم مونی بابا بنے ہوئے ہیں۔

مودی جی کے دوبارہ منتخب ہونے سے ناراض ہونے والوں کی رائے بدل رہی ہے۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ اچھا ہی ہوا جو ان پر یہ وقت بھی آیا۔ وہ اگر پچھلا انتخاب ہار گئے ہوتے اور اس کے بعد چین اس طرح ہماری سرحد میں فوج بھیج دیتا تو لوگ کفِ افسوس ملتے ہوئے اس وزیر اعظم کو یاد کرتے جو کانگریسیوں کو چین کے ساتھ لال لال آنکھ کر کے بات کرنے کی دھمکی دیتا تھا ۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ خود وزیر اعظم مودی نے کبھی بھی چین کو آنکھ دکھانے کی جرأت نہیں کی۔ وہ اس بات کو بھول جاتے کہ اپنے اقتدار کے پہلے ہی سال میں مودی جی نے چین کے سربراہ کو سابرمتی کے کنارے جھولے پر بٹھا کر ڈھوکلا پاپڑی کھلایا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ سانپ اور چوہے کھانے والے چینیوں کو شاکاہاری بھوجن پسندنہیں آیا؟ چینی فوج نے اس دورے کے دوران ہی لداخ کی سرحد پر دراندازی کردی اور جو لوگ مودی جی کو لال پیلا ہوتے دیکھنا چاہتے انہیں شدید مایوسی کا شکار ہونا پڑا۔

اس کے ایک سال بعد شی جن پنگ سے ملنے کے لیے مودی چین گئے تو انہوں نے بھی راجدھانی بیجنگ کے بجائے اپنے آبائی شہر ژیان میں استقبال کیا ۔یہ احمد آباد کی مہمان نوازی کا جواب تھا ۔ وہاں پرغیر رسمی سیر سیاحت اور تفریحات کے بعد اگلے دن باقاعدہ مذاکرات کے لیے مودی جی کو دارالخلافہ بیجنگ میں وزیرِاعظم لی کیچوانگ کے ساتھ ملاقات کے لیے روانہ کردیا گیا۔ اس کے دوسال بعد مودی جی پھر سے چین کے دورے پر ووہان شہر پہنچ گئے ۔ اس وقت کسے خبر تھی کہ وہاں سے کورونا کا جن نکل کر ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ اس دورے سے قبل ڈوکلام میں ہندوستان اور چینی فوجی ایک دوسرے سے نبردآزما ہوچکے تھے۔ اس بار پھرمودی جی کو لال آنکھ کرکے دکھانے کا بہترین موقع ہاتھ لگ گیا تھا لیکن انہوں نے اس کو بھی گنوا دیا ۔ ویسے جب فوجیوں کو ہی واپس بلالیا تو آنکھ دکھانے سے کیا حاصل ؟ مودی اور شی کی غیر رسمی ملاقات کو ہارٹ ٹو ہارٹ یعنی’ دل سے ملے دل‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس دوران دونوں نے 6ملاقاتیں کیں لیکن نہ کوئی معاہدہ اور نہ مشترکہ بیان جاری کیا گیا کیونکہ دل کی باتوں میں اس کا کیا کام بقول شاعر؎
بات تو دل سے دل کی ہونی تھی
بیچ میں تم دماغ لے آئے

دل والوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ پروان چڑھا نے کے لیے مودی جی نے اپنی مدت کار کے اواخر میں شی جن پنگ کو دوبارہ یہ سوچ کر ہندوستان آنے کی دعوت دی کہ ’شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو‘ ۔ یہ آخری ملاقات ملک جنوبی سرے پر مہا بلی پورم میں رکھی گئی تھی۔ اس دورے کی تفصیل کو دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ مودی جی کی انتخابی مہم کا ایک حصہ تھا ۔ اس دوران سفید قمیضکے ساتھ تملی لنگی پہنے اورکندھے پر انگوچھا ڈالے وزیراعظم نریندرمودی نے صدرشی جنپنگ کا ملاپورم میں استقبال کیا۔اس کے بعد گائیڈ بنکر مہابلی پورم کےمندروں کی سیر کرائی ۔ مودی نے پھر ایک بار اپنی مہمان نوازی سےپنگ کا دل جیتنےکے لیے انہیں ناریل پانی پیش کیا اور فوٹوکھینچوائے ۔اس دوران دونوں لیڈر کافی بے تکلف نظر آئے۔ اس طرح کی ڈرامہ بازی مودی جی پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ وہ کبھی براک اوبامہ کو چائے پلاتے ہیں تو کبھی ہاوڈی موڈی میں ٹرمپ کے لیے اناونسر بن جاتے ہیں بلکہ خود اپنے شہر احمد آباد میں بلا کر فخرسے نمستے کہنے کو اپنے لیے بہت بڑی سعادت سمجھتے ہیں لیکن ان علامتی حرکتوں کا امریکہ یا چین کے ساتھ سفارتی تعلقات پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ لداخ میں چین کی موجودہ در اندازی اور ٹرمپ کے ذریعہ مصالحت کی پیشکش اس کا تازہ ثبوت ہے۔

حکومت چونکہ سرحدی کشیدگی سے متعلق چپ سادھے ہوئے ہے اس لیے قیاس آرائیوں کا آتش فشاں ابل رہا ہے۔ سابق فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین 60 کلومیٹر اندر آچکاہے اور اس نے اپنی تنصیبات بھی قائم کرلی ہیں ۔ اس کا بلاواسطہ اعتراف وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے یہ کہہ کرکیا کہ بہت سارے چینی فوجی ہمارے علاقہ میں آچکے ہیں ۔ یہ بات ہنوز صیغۂ راز میں ہے کہ وہ کتنے ہیں اور کس حد تک اندر گھس گئے ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا ہے کہ سرحد پر سب ٹھیک ہے بالکل ویسا ہی ہے جیسے وزیر اعظم نے ہیوسٹن میں اعلان کہ ’دیش میں سب چنگا سی‘ حالانکہ اس وقت کچھ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ امیت شاہ کے دو مسائل ہیں ایک تو انہیں مسائل وہاں نظر نہیں آتے جہاں ہوتے ہیں اور جو ہوتے ہیںوہ نظر نہیں آتے ۔ مثلاً فی الحال لداخ میں مسئلہ ہے ۔ اس لداخ میں جس کے اندر سیاچن کو شامل کرنے کا دعویٰ انہوں نے دفع370ختم کرتے وقت کیا تھا لیکن شاہ جی کو بہار و بنگال میںمسئلہ دکھائی دے رہا ہے ۔ بنگال کے اندر بیروزگاری کاعفریت منڈلا رہا ہے مگر ان کو نظم ونسق کا کے مسائل نظر آرہے ہیں۔ بہار میں بدعنوانی اور غیر موثر انتظامیہ کے بجائے وہ جے ڈی یو کی لالٹین بجھانے کے فراق میں پھونک پھونک کر بے حال ہورہے ۔
(۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 105 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1020 Articles with 343318 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: