وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دئیے

(Ashraf Asmi, Lahore)

تحریر ــ:حذیفہ اشرف عاصمی

ادب سورج،چاند اور ستاروں کی وجہ سے محدود نہیں ہے۔اس میں ایسے ایسے شاہکار موجود ہیں جن میں سے کچھ تو بظاہر خالقِ حقیقی سے جا ملے مگر روح ہمارے درمیان موجود ہے۔اورانکا نام صدیوں تک چلتا رہتا ہے۔ان شخصیات کا ادب میں کردارہمیشہ یا درکھا جاتا ہے بڑے بڑے ادیب اور خاص طور پر نوجوان انکے اردو ادب کے لئے جذبات اور احساسات کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ استفادہ بھی کرتے رہتے ہیں۔انکے الفاظ انکا انداز ہمارے وجود میں سرایت پا جاتا ہے۔ایک ایسا ہی سورج17 جون 2020کو غروب ہو گیا مگر اپنی کرنیں ہمارے درمیان چھوڑ گیا۔میں بات کر رہا ہوں ایک منفرد طرز کے شاعر،اداکار،پاکستان ٹیلی ویزن کے سب سے پہلے نیوز کاسٹر،سیاست دان، نیلام گھر کے میزبان اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن جناب طارق عزیز صاحب کی۔اور نہایت افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ادب کا یہ باب ختم ہو گیا۔

1964میں پاکستان ٹیلی ویژن نے سب سے پہلا چہرہ طارق عزیزکا دِکھایا تھا۔جناب اداکاری میں بھی کسی سے پیچھے نہ تھے انکی پہلی فلم کا نام ''انسانیت'' تھا جو 1967 میں آئی تھی۔اس فلم میں کی گئی اداکاری نے لوگوں کے دل میں گھر کر لیا تھا۔پھر اسکے بعد ایک اور پاکستانی فلم ''ہار گیا انسان'' میں بھی اداکاری کے فرائض سر انجام دیے۔اس کے بعد مختلف مارننگ شوز اور مقامی پروگراموں میں بھی شرکت کرتے رہے۔ خیراتی مقاصد کے لئے بھی انکا کردار مثبت رہا۔1996 میں جناب پاکستان مسلم لیگ ن کے ممبر کے طور پر لاہور سے قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔کوئز شو نیلام گھر اور طارق عزیزشو کے پلیٹ فارم کو چار چاند لگانے والے آج اس دنیا میں نہ رہے۔اس بات کا دکھ لاکھوں پاکستانیوں کو ہے۔ہر کوئی خود کویہ یقین دلانے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے کہ اس شخص کے نام کے ساتھ اب مرحوم لکھنا ہو گا۔انکو چاہنے والے رنج و غم میں مبتلا ہیں۔

فیملی شو دکھانے والے یہ پہلے انسان تھے اور یہ بات کہتے ہوئے میری زبان ذرا سی بھی نہ لڑکھڑائے گی کہ ویسا شو اب کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ادب کو ملحوظ ِ خاطر رکھنے والے طارق عزیز کی جان دار آواز انکا لہجہ انکا اخلاق،کردار انکا کام صدیوں تک بھلایا نہ جائے گا۔کاش کہ ایسا ہو جائے کہ دورِ حاضر میں چلنے والے ٹی وی پروگرامز بھی ادب کا پلو تھام لیں جو بے حیائی اب دیکھنے کو ملتی ہے وہ ختم ہو جائے،طارق عزیز صاحب جیسے شوز کوترجیح دی جائے۔مگر ایسا مشکل ہو گا کیونکہ یہ وہ دور آچکا ہے جس میں ٹی وی ٹی آر پیز صرف ناچ گانوں سے ہی آیا کرتی ہیں جو پورے رمضان دن میں نعتیں اوررات کو گانوں کے مختلف پروگرامز کیا کرتے ہیں۔یہ لوگ صرف بے حیائی کو پروموٹ کرنا جانتے ہیں اور دوسری طرف طارق عزیز صاحب کے شوز نے ملک پاکستان کو بہترین نام دیے ہیں ایسے نوجوان تیار کرکے دیے جو ملکِ پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔طارق عزیز صاحب میں اردو ادب کے تمام لوازمات موجود تھے۔مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا تو انکے شو کو دیکھا کرتا تھا جب بھی شعر پڑھتے تھے وہ منفرد انداز میرے دل پر لگتا تھا اور میں بھی ویسا بولنے کی کوشش کرتا۔میریے ساتھ ساتھ ہزاروں بچوں کی اردو ادب میں دلچسپی کی وجہ طارق عزیز صاحب ہیں۔
انکے پروگرام کا جب آغاز ہوتا تو سادہ مگر دم دار اینٹری ہوتی اور اﷲ کا نام لینے کے بعد انکا سلام کرنے کا انداز منفرد تھا آپ سب نے بھی یہ سن رکھا ہو گا کہ ’دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام‘ ان کا یہ انداز بہت مشہور ہوا تھا۔

ادبی لوگوں کا زیادہ تر وقت لکھنے پڑھنے میں صرف ہو جایا کرتا یے یہی وجہ ہے کہ طارق صاحب نے کتابیں بھی تخلیق کیں۔جن میں ان کے کالموں کے مجموعے کا نام ''داستان'' ہے جبکہ پنجابی شاعری کے مجموعے کا نام ''ہمزاد دا دکھ''ہے۔انہی کا ایک شعر آج سب کو بہت رولاتا ہے کہ
ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دکانِ کفن تو لوگ مرنا چھوڑ دیں

1997 کے الیکشن میں طارق عزیز نے پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو شکست دی تھی مسلم لیگ ن کے اس دورِ حکومت میں سپریم کورٹ کی عمارت پر چڑھائی کے واقعے میں ملوث ہونے پر انھیں عدالت عظمیٰ نے سزا بھی سنائی تھی۔
طارق عزیز لجنڈز میں شمار ہوتے ہیں افسوس آج
’ایک اور با ہمت لیجنڈ آج ہمیں چھوڑ گیا‘

طارق عزیز کی وفات کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ طارق عزیز ٹرینڈ کرنے لگا اور صارفین نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے نیلام گھر شو سے وابستہ اپنی یادوں کا تذکرہ بھی کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے طارق عزیز کی وفات پر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اپنے وقت کے آئیکون اور ٹی وی گیم شوز کی بنیاد رکھنے والے تھے۔ٹی وی میزبان اور اداکار واسع چوہدری نے طارق عزیز کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اپنے پروگرام میں اگر کبھی کسی مہمان سے پروگرام کا آغاز کرنے کی درخواست کی تو وہ صرف طارق عزیز سے ہی کی تھی۔ان کے مطابق اگرچہ ضعیف العمری کی وجہ سے مائیک تھامتے ہوئے طارق عزیز کے ہاتھ کپکپا رہے تھے لیکن جیسے ہی کیمرہ آن ہوا ان کی وہی آواز بلند ہوئی جو ان کا ٹریڈ مارک بن چکی تھی۔

ایسی بہت سی پوسٹس اور ٹویٹس سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔سب نے دکھ کا اظہار کیا۔اداکاروں اور میزبانوں نے اتنا بھی کہا کہ ہم طارق عزیز صاحب کو دیکھتے اور سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

یہاں میرا ایک سوال ہے کہ اگر ان سے بہت کچھ سیکھا ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں؟

ان کا سکھایا ہوا ایسا تو نہیں جو دکھایا جاتا ہے۔ہمیں ایسے پروگرامز کرنے چاہیے جیسے طارق عزیز صاحب کرتے رہے۔ایک عزیز از جان دوست نے بتایا کہ وہ ایک بار نیلام گھر گئے وہاں کچھ لڑکوں نے شرارت کی تو طارق صاحب نے اسی وقت ان کو باہر نکلوایا پھر پروگرام کا آغاز کیا۔اسے کہتے ہیں اصول پسند ایسا انسان جسے ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر سن بھی سکتے ہیں اور پورا پروگرام دیکھ بھی سکتے ہیں

آج کے پروگرامز میں نیلام گھر کا ٹیکسچر تو دیتے ہیں مگر آزادی کا لیبل لگا کر۔اور پہلے عجیب حرکتیں تو کبھی نہ ہوتی تھیں جو اب ہوتی ہیں۔موٹر سائکل،فریج،جنریٹر حاصل کرنے کے لیے بیٹیاں ناچا تو نہیں کرتی تھیں۔کس طرف جا رہے ہیں ہم؟خدارا اگر طارق عزیز صاحب کو اپنا آئڈیل مانتے ہیں تو ان کے جیسے کارنامے بھی کریں۔ان کا سکھایا کم ان کا دکھایا راستہ یاد کریں. تاکہ ہم ٹیلی ویژن کو لچر پن سے واپس طارق عزیز کے عہد میں لیجا سکیں.ورنہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ہماری آنے والی نسل ہم کو ادیب کی جگہ بھکاری محسوس ہوگی. نوجوان بچے بچیاں اخلاق سے گرے غیر معیاری پروگرامز دیکھ دیکھ کر سیکھنے کی جگہ تباہ ہو رہے ہیں. نئے ازہان لالچ سے بھر رہے ہیں کیونکہ ہم طارق عزیز سے کچھ سیکھ نہیں پائے۔

ہم نے ان کے آئیڈیا کو چوری کیا اس میں گند ڈال کر میڈیا مارکیٹنگ کا سہارا لے کر آزادی اظہار کے نام پر فیملی شوز کے نام پر بیہودگی کا بازار گرم کر رکھا ہے.افسوس ہمارا عہد روشن چند بھانڈ چرا کر ہماری نسلوں کو ٹھمکے لگانا سکھا رہے ہیں. اور ہر ٹھمکا لگانے پر موٹر بائیک کا انعام ملتا ہے اور تب میزبان شوہر حضرات کے سامنے ان کی بیگمات اور باپوں کے سامنے ان کی بیٹیوں کو اپنے ساتھ بائیک پر جھولے دیتا ہے اور باپ بھائی اس عمل بد پر تالیاں بجا کر چالیس ہزار کی بائیک جیت کر ہنسی خوشی واپس اپنو سیٹ پر جا بیٹھتے ہیں. اس قدر اخلاقی دیوالیہ کو اگر نا روکا گیا تو یہ ناسور سارے معاشرے میں پھیل جائے گا. جب تک یہ گند ختم نہیں ہو جاتا ہم کو طارق عزیز کے عہد تک جانے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے تاکہ ہماری نسلیں اپنی مٹی اپنی اساس سے جڑی رہیں.
اﷲ پاک اس خوبصورت شخصیت کی مغفرت فرمائے آمین۔
لوگ اچھے ہیں بہت،دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ کہ مر جاتے ہیں
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 159 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 197469 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: