بادشاہ ظفر کی پستی اور ہماری مماثلت

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے،،! اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیر بازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا،

جس گھرکے دروازے رشتہ داروں کے لیے بند، جس گھر میں رات دیر جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کا رواج ہو جائے وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کو کوئی نہیں روک سکتا( )۔ اللہ رب العزت نے دن رات بنائے خاتم النبین سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دن رات کو گزارنے کا سلیقہ و طریقہ بتایا جنہوں نے ان پر عمل کیا وہ کامیاب ہوئے جنہوں نے انحراف کیا پستی ان کا مقدر بن گئی۔ تحریر کا مقصد ہے کیا ہم بحیثیت مسلم امہ کس حد تک کامیاب ہیں اور گورا کیوں ترقی یافتہ ملکوں کی میں صف کھڑا ہے۔ آئیے جانتے ہیں۔۔۔زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھتا ہے پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ جاتے ہیں دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین(شہری) بھی بیدار ہو کر ورزش کر تے ہیں، انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے دن کے ایک بجے سرمٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے ظل الٰہی محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھاجس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظلِ الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار ماہ جبینیں چہرہ، پاؤں اور شاہی ناک صاف کر رہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے،،! اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیر بازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا،اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتایعنی وہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے، ڈر کر پیچھے نہیں بھاگے، لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے۔اب 2018ء میں آتے ہیں پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اورسنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں!آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے۔۔اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن مٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا۔بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے! حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا، مان لیتے ہیں کہ کوئی نہیں کر سکتا ہے۔ لیکن اس کو مزید مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے محنت کرنا کیاضروری نہیں؟۔ اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی او کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟ کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اورکوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،، کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی.اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاھک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے.وطن عزیز کی بقاء اور ترقی کی خاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب میں ضرور شیئر کریں۔ مثال کے ساتھ تحریر کرنا مقصود تھا کہ ہمیں اتنے آرام پرست کیوں ہو گئے ہیں جس انگریز کی ہم پیروی کرنا شروع ہو گئے ہیں اس کی ترقی کا راز بھی جانو، یہ وہ راز ہے جسے مسلمانوں نے اپنانا تھا لیکن ہم۔۔۔۔ بس اللہ کریم سے دُعا ہے کہ ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔ ثم آمین۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 63 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 49307 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: