پدرم سلطان بود

(Iftikhar Chohdury, )

 بیٹی ربیعہ نے آن لائن تحفہ منگوا کے دیا اور ایک کارڈ لکھ کر دیا کہ آپ میرے ہیرو ہواﷲ پاک میرے بچوں جیسا سب کو کرے کالم جدہ کے عزیزیہ محلے میں مکمل کر رہا ہوں۔میرے والد صاحب موضع نلہ تحصیل خانپور ضلع ہریپور میں 1926 میں پیدا ہوئے چند سطریں ان کی نذر کرتا ہوں-

قد پانچ فٹ دس انچ جسم فربہی کی جانب مائی رنگ گندمی بائیں ہاتھ دائیں سے زیادہ استعمال کیا کرتے تھے۔نلہ میں 1926 میں پیدا ہوئے ابتادئی تعلیم گورنمنٹ اسکول برکوٹ سے حاصل کی صرف دو سال سکول گئے اور چار جماعتیں پڑھیں ان دنوں گھر کا ایک لرکا تعلیم دوسرا فوج تیسرا گھر میں ماں باپ کی خدمت کیا کرتا تھا مال ڈنگر گھاس شادی غمی گھر والے کو کرنا ہوتی تھیں باقی کوئی برما کی لڑائی میں یا جبل پور میں نوکری چھوٹے بھائی فوج میں بڑے پولیس میں تھے۔والد کا نام دادن خان اور دادا ملک علی شیر تھے جو بوکن سے ہجرت کر کے نلہ پہنچے۔کہتے ہیں نلہ جنگل کی اوپری طرف تھا بوکن جو بھبوتری کے پاس خانپور جھیل سے چند کوس اوپر ایک گاؤں ہے۔ملک اس لئے کہلواتے تھے کہ باقی لوگ مزارع تھے اور یہ ملکیت رکھتے تھے۔گجر قوم کی چوہان شاخ سے تعلق تھا۔جو اپنی دلیری بہادری کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں نلہ گاؤں میں سب سے زیادہ زمینیں چوہانوں کی ہی ہیں اور ابھی تک یہی سر تاج قوم ہیں۔قبلہ والد صاحب کی والدہ کا تعلق ایبٹ آباد یو سی لنگڑیا ل کے گاؤں لسن سے ہے جو منڈریاں مجوہاں کے ساتھ ڈبران کی بلندی پر ہے نالہ نڑاہ کے پاس سے بری کی زیارت سے اب ایک راستہ جو پکا ہو گیا ہے اوپر جاتا ہے۔دادی ماں اسی گاؤں کی تھیں۔کیا لوگ تھے کہتے ہیں دادا جی اپنے والد ملک علی شیر کے ساتھ کسی جرگے میں گئے تو جیسے چھوٹے بچوں سے پوچھا جاتا ہے شادی کہاں سے کرو گئے تو چار سالہ دادان خان نے میری دادی کے والد چودھری نادر خان کی گود میں بیٹھ کر اعلان کیا کہ ان کے گھر سے ۔میری بے جی کے دادا نے مسکرا کر کہا پترا دعا کر سوکھے بوٹے ہرے ہوں ۔اﷲ نے کرم کیا کہ دادی جان پیدا ہوئیں تو لسن کے نادر خان نے نلہ کے ملک علی شیر کو اطلاع کر دی۔دادی جان کے ہاں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں سائی پھوپھی بچپن میں فوت ہو گئیں البتہ پھوپھی مبارک کو اﷲ نے رنگ لگائے اور وہ معروف سماجی لیڈر ملک خوائداد خان گجر کی اہلیہ بنیں جن کے اکلوتے بیٹے ریاض بھائی فوجی فرٹیلائزر کے فنانس مینجر بن کر ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔والد صاحب تین بھائی تھے چودھری عبدالغفار،چودھری برخوردار،چودھری محمد شفیع۔تایا جان عبدالغفار جبری اور پھر لورہ میں پڑھے بعد میں برٹش پولیس میں بھرتی ہوئے۔دادا جان بھی برطانوی پولیس میں ملازم رہے۔دادی اماں لہور،کلا نور کی باتیں سنایا کرتی تھیں ۔بڑی خودادار با رعب اور خوش شکل تھیں۔اپنے بیٹوں کو ناز و نعم سے پالا۔کبھی کسی بچے کو اترن نہیں پہنائی کہا کرتی تھیں اس سے بچے کی شخصیت دب جاتی ہے۔کہتے ہیں دادا جان بڑے حلیم الطبع اور پانچ وقت کے نمازی تھے حلال کمائی پر زور دیا کرتے تھے ایک بار ایک قاتل کو لکھنوء سے گرفتار کرایا انگریز پولیس کے اعلی افسر نے سو روپیہ نقد انعام دیا لیکن یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ نوکری کرتا ہوں یہ کام تو میری ذمہ داری تھی۔ایک بار ایک جج صاحب کی بیگم نے ماں جی کو جو اپنے خاوند کے ساتھ لاہور میں کسی کوٹھی میں رہتی تھیں کچھے کپڑے دئے کہ یہ لے لو اپنے بیٹے کو دینا دادی اماں نے واپس کر دئے اور کہا میرا عبدالغفار ایک دن بڑا آدمی بنے گا۔میں نہیں چاہتی کے اسے زندگی کے کسی لمحے میں بھی احساس ہو کہ وہ والدین پر بوجھ تھا۔یہی عبدالغفار آگے جا کر انسپکٹر پولیس بنتے ہیں سندھ میں سینکڑوں ایکڑ زمین کے مالک دھبنگ اتنے کہ ان کے قصے کہانیاں لکھوں تو بات دوسری جانب نکل جائے گی۔پیر پگاڑا،چودھری ظہور الہی کے دوست تھے یہی کافی ہے۔والد صاحب زبردستی اسکول گئے بچپن میں بکریاں چرایا کرتے تھے کسرتی جسم تھا شادی بیاہ پر ان دنوں روٹی میں شکر اور دیسی گھی دیا کرتے تھے نوجوان شرطیں لگا کر گھی کھاتے تھے ایک شادی پر بہت سا گھی پی گئے تین دوستوں کی شرط تھی ایک نے واپس آ کر قریبی گاؤں سے ایک نوجوان گھر کا سودہ سلف لینے شہر آیا ۔میدان میں ایک جلسہ جاری تھا۔نوجوان کھنچا چلا آیا مقرر جب قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو مجمع پر سکوت طاری تھا۔ایسا لگتا تھا چرند پرند سب کلام الہی سن رہے تھے۔سٹیج پر فانوس کی لو مدھم ہونا شروع ہوئی ۔نوجوان فورا سٹیج پر پہنچا اور اس میں ہوا بھر دی اور جلسہ گاہ میں روشنی ہو گئی۔ یہ واقعہ قیام پاکستان سے پہلے کا ہے گاؤں نلہ تھا اور شہر ہریپور۔امیر شریعت نے اسے گلے سے لگایا۔اور کہا میرے ساتھ چلو گئے؟نوجوان نے سودا سلف کے پیسے اپنے ساتھی کو دیے اور وہ ان کے ساتھ ہو لیا۔علامہ عطاء اﷲ شاہ بخاری کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا۔وہ نوجوان میرے والد محترم چودھری برخودار گجر مرحوم تھے۔قبلہ والد صاحب کی ایک یاد گار تصویر گجرانوالہ سے نکلنے والے اخبار قومی دلیر میں ہر سال چھپا کرتی تھی۔والد صاحب ریل کے ڈبے کے دروازے میں علامہ صاحب کے پیچھے کھڑے نظر آتے تھے۔بشیر صحرائی کا قومی دلیر کیا بند ہوا ہمیں وہ یادگار تصویر بھی دیکھنے کو بھی دیکھنے کو نہیں ملی۔دنیا کا کوئی بدنصیب شخص ہو گا جسے اپنے باپ سے پیار نہیں ہو گا۔باپ پہلی چھتری ہوتی تھی۔میرے خواب خیال میں یہ ایک بات اب بھی آتی ہے جب میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا تو مولوی صاحب نے اﷲ تعالی کے بارے میں بتایا کہ اﷲ سب سے بڑا ہے تو مجھے اس دن پتہ چلا کہ باپ سے بڑھ کر بھی کوئی بڑا ہوتا ہے۔ماں سے پیاری کوئی چیز نہیں لیکن جب مولوی نوری صاحب مرحوم نے بتایا کہ ایک اور پیاری چیز بھی ہے جو ستر ماؤں سے بھی بڑ کر پیار کرتی ہے تو وہ اﷲ ہے۔اور مزید آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کے بارے میں اس مدرسے سے سبق ملا کہ کہ جو کوئی اپنے ماں باپ سے بڑھ کر مجھ سے پیار نہیں کرے کرتا اس کا ایمان مکمل نہیں ہوگا۔یہ وہ مدارس ہیں جنہیں ایک بد بخت نے ہمارے سامنے کہا کہ مدارس جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں۔قبلہ والد صاحب کی باتیں جب یاد آتی ہیں تو سوچتا ہوں کہ کیا گزشتہ تین دہائیوں سے باپ تو ہم بھی بنے ہیں جب اپنا مقارنہ ان سے کرتا ہوں تو سوچتا ہوں ہم تو ان کے عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔بلا کے دلیر تھے گجرانوالہ کے ایک نامی گرامی بدمعاش جس کا نام ماجھو تھا اس کے نام کی ایک پنجابی فلم بھی بنی ہے ان سے معاملے کی ایک یاد لکھے دیتا ہوں 1968میں والد صاحب نے سندھ میں زمینیں نیلام میں لیں۔1975تک ان زمینوں پر زندگی کے سات سنہری سال ضائع کیئے کلراٹھی زمینیوں نے ہماری کمر توڑ کے رکھ دی۔ہماری زندگی کے وہ سات سال سیاہ سال تھے کارخانے والی جگہ کو کرائے پر دیا گھر کا خرچ چلانے کے لئے بھینس کا دودھ حلوائی کی دکان پر بیچا۔بڑے بھائی فوج میں سپاہی بھرتی ہو گئے میں پولی ٹیکنیک میں داخلہ لے بیٹھا روزانہ اسکول گجرانوالہ سے لاہور جا کر پڑھتا با غبانپورے سے شہر میں قائم ایک ریلوے اسٹیشن جو اب ختم ہو گیا ہے وہاں تک پیدل اور اس کے بعد کبھی خیبر میل کبھی اباؤٹ ٹرین اور لالہ موسی ایکسپریس پر لاہور جایا کرتا تھا ۔والد صاحب کی محنت اپنی جگہ مگر اس زمین نے ہمیں خاک میں ملا دیا ۔کینسل ہو گئی۔قبلہ والد صاحب گجرانوالہ واپس آ گئے یہ1975کی بات ہے۔یہاں آ کر انہوں نے کارخانے والی جگہ کو خالی کرنے کو کہا بھٹو دور تھا انارکی کا زمانہ کرائے دار مزدور کسان ہاری طالب علم سب ہی منہ چڑھے تھے عبدالرحمان لوہار نے کہا کہ ابھی وقت نہیں جب جی چاہے گا خالی کر دیں گے۔سندھ جانے سے پہلے والد صاحب اس علاقے میں بڑا نام رکھتے تھے بی ڈی ممبر بھی رہے تھے۔محلے داروں کے لئے یہ ایک دلچسپی کا موضوع بن گیا۔۔ماجھو کی دہشت شہر میں کیا پنجاب بھر میں تھی۔قبلہ والد صاحب کو ڈرانے کے لئے عبدالرحمان اسے گاہے گاہے ہمارے محلے میں واقع اس کارخانے میں لاتا رہتا تھا ۔ماجھو اس قدر بدنام زمانہ تھا کہ دنیا اس کے نام سے دہشت کھاتی تھی۔چا چا جی ،ہم اپنے ابا کو چا چا کہتے تھے۔ہم چھوٹے تھے لیکن سولہ سترہ سال کے تو تھے۔ماجھو آ کر کارخانے کے دفتر میں بیٹھ جاتا۔لوگ اسے آتا دیکھ کر گھروں میں گھس جاتے تھے۔والد صاحب کی عادت تھی وہ لاچہ بنیان پہنتے تھے آدھے بازوؤں والی بنیان مربع دار لاچا اور پاؤں میں باٹا کے کورڈ سلیپر پہنتے تھے۔ایک دن ماجھو آیا تو والد صاحب نے سلوقہ پہن رکھا تھا سلوکہ بنیان ٹائپ ایک لباس ہے جس میں دو جیبیں لگی ہوتی ہیں۔ان کے پاس بلجیئم کی دو نالی بندوق تھی دو چار کارتوس لئے اور بیٹھک میں پہنچ گئے جہاں ماجھو مانے لوہار کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا یہ ماجھو جوائے دا کے نام سے مشہور معروف بستہ ب کا بد معاش تھا۔

ہر کوئی اپنے باپ کو سلطان کہتا ہے جس کا باپ ہو ہی سلطان اسے تو ضرور کہنا چاہئے۔والد صاحب کارخانے پہنچ گئے اور دروازے میں کھڑے ہو کر مانے لوہار کو کہا یار مانے دیکھو یہ بندوق ٹھیک ہے ۔اس نے چیک کی اور کہا جی بلکل چودھری صاحب ٹھیک ہے۔والد صاحب نے وہیں کھڑے کھڑے دو نالی فل کی اور سیدھی ماجھو پر تان دی۔اس کی چیخیں نکل گئیں اور کہا چودھری صاحب میرا قصورْجس پر والد
صاحب نے کہا یہ کارخانہ خالی نہیں کرتا اور تمہارا رعب ڈالتا ہے۔جس پر وہ گڑ گڑایا اور کہا خدا کی قسم مجھے علم نہیں اب یہ کارخانہ خالی کرے گا بس دس دن دیں۔والد صاحب نے بندوق نیچے کی اور کہا دس نہیں پندرہ دن اور یوں کارخانہ خالی ہوا۔

ان کی کیا کیا باتیں لکھوں ۔چوہان میٹل ورکس باغبانپورہ میں 1950میں بنایا کارخانہ کیا تھا دو چار اڈے تھے جہاں ایلمونیم کے برتن بنتے تھے۔اس کارخانے میں کوئی بیس کے قریب مزدور کام کرتے تھے مال پشاور پنڈی کلر سیداں اور قابل تک جاتا تھا۔خوشحال تھے محنت کش کی خوشحالی کیا ہوتی ہے۔ساتھ میں آدھے احاطے کے مکان میں ہم رہا کرتے تھے جس میں تین کمرے تھے۔ان بیٹھک بھی شامل تھی ایک ویہڑہ تھا جس کے کونے میں نلکا لگا ہوا تھا چھت پر چڑھنے والی سیڑھی کے نیچے چولہا ہوتا تھا یہی ڈائیننگ روم تھا جہاں سردیوں میں خالی بوری ڈال کر ہم چھ بہن بھائی بیٹھ جاتے تھے اور ماں کے ہاتھوں کے پراٹھے اور پتلی سی گڑ والی چائے سے من تازہ کیا کرتے تھے۔بہن سب سے بڑی تھیں بعد میں امتیاز صاحب میں افتخار مجھ سے چھوٹا اعجاز اس سے چھوٹا سجاد اور سب سے چھوٹا ابرار جس کا کاغذی نام سرفراز ہے۔کہتے ہیں ماں دس بچے پال سکتی ہے لیکن سب مل کر ایک ماں کو نہیں پالتے۔اﷲ
بھلا کرے بے جی نے تو اتنا موقع ہی نہیں دیا لیکن پھر بھی جملے کی صداقت موجود رہی۔وہ کیا کہتینہیں بچپن میں بچے کہتے ماں میری اور بڑے ہو کر کہا جاتا ہے ماں تیری۔قبلہ والد صاحب کے ہوتے ماں جی کی شہنشاہی قائم رہی بعد میں ان کی عاجزی انکساری کے اعلی درجے تک پہنچ گئی کوئی مطالبہ نہیں کوئی بحث مباحثہ نہیں جو مل گیا اسے قبول کیا۔جدہ آئیں تو بڑا گھمایا پھرایا اعجاز کے پاس گئیں تو خوب خاطر مدارت مگر اپنے پوتوں کو کبھی نہیں بھلایا گجرانوالہ ان کے من میں رہا۔ان پر پھر کبھی لکھوں گا۔
قبلہ والد صاحب ایک بار پاکستان کیمونسٹ پارٹی یا شائد نیسشنل عوامی پارٹی میں شامل ہو گئے ۔دعوتیں کرتے رہتے ایک بار کسی کیمونسٹ نے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کر دی اسے لمیاں پا لیا اور باٹا کے سلیپر سے مار مار کے ادھ موء اکر دیا۔جلالی طبیعت کے تھے لوگ کہتے ہیں میں ان پر گیا ہوں۔۔علاقہ پرست بھی تھے جب ساری دنیا اور خاص طور پر شہری علاقے فاطمہ جناح کا ساتھ دے رہے تھے بی ڈی ممبر کی حیثیت سے ایوب خان کے پھول نشان کو ووٹ دیا۔ہزارے وال تھے۔شائد یہی وجہ تھی جب پورا پاکستان ایب خان کے خلاف نعرے لگا رہا تھا اور بھٹو کا ساتھ دے رہا تھا تو ہم ایوبی آمریت کے ساتھی تھے۔جس دن محترمہ فاطمہ جناح کی تصویر کو کتیا کے گلے میں لٹکا کر شہر میں دوڑایا گیا اس روز کہنے
لگے یہ بہت غلط کام ہوا ہے آخر وہ قائد اعظم کی بہن تھیں۔گھر میں کہا میرا ضمیر ملامت کر رہا ہے یہ کام ٹھیک نہیں ہوا۔

وہ شہر واپس آئے اور آتے ہی چھا گئے بھائی مختار میرے بہنوئی نے ایک بڑا ٹھیکہ لیا اس میں کامیابی ملی کچے کا کام کیا اسے ہاتھ لگایا تو سونا بنا میں جدہ چلا گیا ہاتھ پاؤں مارے اﷲ نے دنوں میں کرم کر دیا ۔1979میں ہم ایک مرسیڈیز کے مالک بن چکے تھے RIF 1206نیلامی میں حاصل کی گئی گاڑی بڑی با رعب اور ان پر سجتی تھی قبلہ والد صاحب جناح کیپ پہنتے تھے تھوڑی سی ترچھی کیپ ان پر سجتی بھی بہت تھی۔اس سے پہلے ہلکے ہرے رنگ کا سفاری سوٹ پہن کر نکلتے کراس بیلٹ ریوالور لگا ہوتا اور ان کی عادت میں شامل تھا کہ وہ کین سڑک پر سائیکل چلاتے لیکن جیسے ہی گلی میں داخل ہوتے ایگل سائیکل کا ہینڈل پکڑ کے پیدل چلتے ۔محلے کی عورتیں جو عموما تھڑوں پر بیٹھ کر کراس ٹاک کیا کرتی تھیں یہ کہہ کر اندر دوڑ جاتیں کہ چودھری صاحب آ گئے ہیں یہی حال لڑکوں کا تھا چوک میں کھڑے نوجوان بھی تتر بتر ہو جاتے۔

جرگے کے بادشاہ تھے لوگ اپنے فیصلے ان سے کراتے۔کارخانے میں خود بھی کام کرتے تھے۔ایک عادت تاش کھیلنے کی بھی تھی جس میں ان کا ساتھ چا چا شیر محمد اور دیگر دو دیا کرتے تھے۔
بڑے رکھ رکھاؤ والے تھے۔رمضان میں تو ان کی شخصیت کے بہت سے رنگ سامنے آئے ۔اس وقت روزہ کھولنے کے لوازمات آج جیسے نہ تھا ۔یہ میں ساٹھ کی دہائی کی بات کر رہا ہوں۔ان کے لئے ایک الگ سے ٹیبل لگا ہوتا تھا جس میں ایک دو دانے کھجور سرخ شربت ہوتا تھا ان دنوں پکوڑوں سموسوں کا افطار کی میز پر ہونا فرض اولیں نہیں تھا اب تو کہتے ہیں روزے فرض تھے یہ پکوڑے کہاں سے آ گئے رنگ برنگی چیزوں سے سجے میز پر بیٹھ کر کہتے ہیں مہنگائی ہو گئی ہے۔نوید چھوٹا سا تھا نلہ سے بھائی ارشاد آئے اس دن ان کے لئے تکلف کیا گیا تھا گول میز کے اوپر میں بھی بیٹھا تھا کہ نوید میرے پاس آیا میں نے اسے والدہ کے پاس بھیج دیا کہنے لگے اولاد سب کو اچھی لگتی ہے افتخار کی یہ عادت مجھے پسند ہے اور واقعی ان دنوں کم لوگ ہی ہوتے تھے جو والدین کے سامنے بیوی سے مخاطب ہوتے تھے اور بچوں کو لاڈ پیار کرتے تھے۔گھروں میں اختلافات کی بڑی وجہ انڈر سٹینڈنگ پیدا کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔کوئی پچاس سال پہلے لڑکے کے والدین ہی لڑکی دیکھا کرتے تھے اور دلہا میاں کنڈ چکنے کی گھڑی ہی بیگم دیکھا کرتے تھے میری دانست میں زیادہ میل جول نفاقی کا باعث بنتا ہے میں کئی گھر برباد ہوتے دیکھے ہیں ۔ہم در اصل ایک ایسی سوسائٹی بن گئے ہیں کہ ہماری روایات جو مشرقی ہیں انہیں مغربی بنانے میں لگے رہتے ہیں اور یوں تڑاخ کر کے تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔

ابا جی کی زندگی ایک خودادار شخص کی طرح گزری۔آخر عمر میں اﷲ نے رزق میں کشادگی عطا فرمائی 1979 میں مرسیڈیز کے مالک بنے اس دوران ہم بھی جدہ چلے گئے وہ جدہ جو آج روشنیوں کا شہر ہے یہاں سے ہم نے اپنی محنت اور ظاہر ہے اﷲ کے کرم سے رزق حلال کمایا تعلقات بنائے آج عزیزیہ کے کے جس علاقے میں ایک خوبصورت فلیٹ میں کالم مکمل کر رہا ہوں یہاں کسی وقت جنگل تھا صحراء تھا اس جگہ کہیں دائیں بائیں فالن فریٹ تھی۔اس فادر ڈے کے موقع پر مجھے دنیا کے سارے والد صاحبان کو سلام پیش کرنا ہے۔میں کوئی انوکھا والد نہیں ہوں لیکن سچ پوچھیں ہر والد کی طرح میں نے بھی جوتوں کے تلووں میں سوراخ کئے ہیں۔اﷲ بچوں کو خوش رکھے جو ہمیں یہاں حرمین میں بلا رہے ہیں میں نے بھی اسی کی دہائی کے اوائل میں والدین کو بلایا تھا مجھے شرفیہ والے ایئر پورٹ پر والد صاحب کے سفید بال دیکھ کر دکھ ہوا تھا اسی لئے اولیویا کا نمبر ۲ رنگ لگا کر پرسوں پہنچا ہوں۔والد صاحب نوے میں اس دنیا سے رخصت ہوئے میاں نواز شریف شائد اس لئے اتفاق ہسپتال میں آپریشن نہیں کراتے شائد انہیں علم تھا جو میں نے انہیں بتایا بھی تھا کہ میرے ابا جی آپ کے ہسپتال کے نالائق ڈاکٹروں کے غلط آپریشن کی نذر ہو گئے اﷲ گجرانوالہ کے بڑے قبرستان میں مدفون والد صاحب کو جنت بخشے جن کے ہیں انہیں سلامت رکھے آمین
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 100 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 397 Articles with 143310 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: