بیدو نیو گیشن نظام کی تشکیل مکمل

(Zubair Bashir, Beijing China)
چین کے بیدو نیو گیشن نظام کی تشکیل مکمل ہوگئی ہے۔ یہ سنگ میل 23 جون کی صبح اس نظام کے 55 ویں سیٹلائیٹ کی لانچنگ کے ساتھ عبور کیا گیا۔تئیس جون کی صبح نو بج کر تینتالیس منٹ پر چین نے شی چھانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ -تھری بی کیریئر راکٹ کے ذریعے بیدو سیٹلائٹ نظام کے آخری سیارے کو کامیابی سے روانہ کردیا۔
اس سے قبل امریکہ کا جی پی ایس، روس ،کاگلوناس سسٹم اور یورپ کا گیلیلیو نیویگیشن نظام اس شعبے میں کام کررہے ہیں۔ یوں حالیہ لانچ سے بے دو نیوی گیشن سسٹم ، جو چار عالمی نیویگیشن نیٹ ورکس میں سے ایک ہے پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔

اس کامیاب لانچ کے بعد اقوام متحدہ کے ڈویژن برائے بیرونی خلا نے خصوصی طور پر مبارکباد کی ویڈیو بھیجی جس میں انہوں نے عالمی معاشی و معاشرتی ترقی،بیرونی خلا کے پرامن استعمال اور خلا سے متعلق عالمی تعاون میں بے دو سسٹم کی بے پناہ خدمات کو سراہا۔ اس وقت دنیا کے نصف سے زائد ممالک بے دو سسٹم کا استعمال کررہے ہیں۔ یہ چین کے خلابازی اور سائنسی و تکنیکی شعبے میں حاصل کردہ تاریخی نوعیت کی کامیابی ہے ۔ بے دو نیویگیشن سسٹم عالمی معیشت کی ترقی میں نئی قوت ڈالے گا۔

چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ کا کہنا ہے کہ متعدد اہم کلیدی ٹیکنالوجیز میں ملک کو خود پر انحصار کرنا چاہیئے ۔ بے دو نیویگیشن سسٹم ایسا ہی ایک نظام ہے جو قومی سلامتی اور معاشی و سماجی ترقی کی ضروریات کے مطابق چین کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بے دو نیویگیشن سسٹم کھلے پن اور اشتراک پر مبنی تعاون کے تصور کا حامل ہے ۔

اس وقت بے دو سسٹم دنیا کے دوسرے تین بڑے نیویگیشن نیٹ ورکس کے ساتھ تعاون بھی کر رہا ہے ۔ علاوہ ازیں چین آسیان اور پاکستان سمیت " دی بیلٹ اینڈ روڈ " سے وابستہ ممالک کے ساتھ بے دو سسٹم کی ٹیکنالوجی کے ثمرات اور نتائج شیئر کررہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پوری دنیا کے لوگ بے دو سسٹم کی فراہم کردہ خدمات سے لطف اٹھا سکیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر برائے خلائی اورجدید ٹیکنالوجی کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈیوڈ اے ٹرنر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بے دوسسٹم نے دنیا کی سیٹلائٹ نیویگیشن کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور عالمی صارفین کو اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کی ہیں۔ بے دوسسٹم مختلف ممالک کی معاشرتی ترقی ، آفات اور وبا سے نمٹنے اور معاشی تبدیلی کےلیے اہم کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کے مطابق دو ہزار پینتیس تک چین بے دو کے مرکز میں وسیع ، جامع اور مزید صلاحیت کے حامل جامع پوزیشننگ اور نیویگیشن ٹائم سروس سسٹم قائم کرے گا اور عالمی معیشت کی اعلیٰ معیاری ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا ۔

چین کے بیدو نیویگیشن سسٹم کی عالمی سروس کا آغاز کے ساتھ ہی یہ سسٹم امریکہ کے جی پی ایس ، روس کے گلوناس اور یورپی یونین کے گلیلیو سسٹم کے بعد دنیا کا چوتھا بڑا نیویگیشن سسٹم بن گیا ہے اور چین کی جانب سے کی جانے والی انسانیت کی ایک اور اہم خدمت ہے ۔

یاد رہے کہ سن دو ہزار میں بیدو کےپہلے آزمائشی سیٹلائٹ کو خلا میں روانہ کیا گیا اور اس کے بعد گزشتہ بیس برسوں میں چین نے نیویگیشن سسٹم میں شامل بےدو ون ، ٹواورتھری پر مشتمل 55سیٹلائٹ بشمول چار آزمائشی سیٹلائٹ کو خلا میں چھوڑا ۔ اس وقت بیدو نیویگیشن سسٹم کو چین ، ایشیاو بحرالکاہل کے علاقے ، دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک اور پوری دنیا میں سیٹلائٹ نیویگیشن کا پوزیشننگ سگنل مل سکتا ہے ۔

بیدو سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بیدو پوزیشننگ کی درستگی ایشیائی و بحرالکاہلی علاقے میں پانچ میٹر تک جا پہنچی جبکہ دوسرے علاقے میں دس میٹر ہوتی ہے اور اس وقت دنیا کے نوے سے زائد ممالک اور علاقے بیدو نیویگیشن سسٹم کا استعمال کررہے ہیں ۔ بیدو سسٹم کو جہاز رانی ، سول ایوی ایشن اور موبائل مواصلات سمیت دیگر عالمی تنظیمیں بھی استعمال کرتی ہیں ۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو سیٹلائٹ آرگنائزیشن نے بیدو کو گلوبل سیٹلائٹ سرچ اور ریسکیو سسٹم پروگرام میں شامل کیا ہے۔نیز دو ہزار پینتیس تک بیدو کے مرکز میں ایک جامع اور مربوط ،انٹیلیجنٹ پوزیشننگ اور نیویگیشن ٹائمنگ کا نظام قائم کیا جائے گا ۔اس نیویگیشن سسٹم کا مقصد اس شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار ختم کرنا ہے۔


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 366 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zubair Bashir

Read More Articles by Zubair Bashir: 21 Articles with 4648 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: