ڈاکٹر انصار شیخ :زیست کتابی

(Ghulam Ibnesultan, Jhang)

 ڈاکٹر انصار شیخ :زیست کتابی سلسلہ# 14 ،ادارہ رموز،کراچی ،جون 2020 ء
تبصرہ نگار: ڈاکٹر غلام شبیر رانا
کراچی میں مقیم عالمی شہرت کے حامل ممتا ز پاکستانی ادیب اور دانش ور ڈاکٹر انصا ر شیخ اپنی ذات سے ایک انجمن ہیں ۔ گزشتہ برسوں میں وہ کتابی سلسلہ ’’ زیست‘‘ کی افادیت سے لبریز چودہ کتابیں مرتب کر کے پیش کر چُکے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر سیّد یونس حسنی کی سر پرستی میں شائع ہونے و الا کتابی سلسلہ ’’ زیست ‘‘ قارئینِ ادب میں بہت مقبول ہے ۔ اِس وقیع علمی و ادبی کام میں ڈاکٹر انصار شیخ کو محترمہ تزئین راززیدی اورپروفیسر شبنم امان کا تعاون حاصل ہے ۔ چار سو چونسٹھ صفحات پر مشتمل ’’ زیست ‘‘ کاسلسلہ نمبر 14بابت جون 2020 ء معاصر ادب کا بیش بہامخزن ہے ۔سبدِ گل چیں میں موجود گل ہائے رنگ رنگ کی عطر بیزی نے خوب سماں باندھا ہے ۔آئیے دھنک کے اس پاردیکھیں اور ڈاکٹر انصار شیخ کی جوہر شناسی کی مسحور کن کیفیت کی ایک جھلک دیکھیں ۔ترتیب میں درج ِذیل عنوانات کے تحت افکارِ تازہ سے مزین نئی تخلیقات پیش کی گئی ہیں:
(i) ۔ مقالات = 7 ،(ii)۔سفرنامہ = 2 ،(iii)۔شعر وسخن ( اُنیس شعرا کا کلام)،(iv)۔ڈراما(1)،( v)۔ ناول = 1 ، (vi )افسانہ = 22 افسانے، (vii)تراجم= عالمی ادب و پاکستانی ادب سے 17 تخلیقات کے اردو تراجم ،(viii)۔ خاکہ = 1
اس اشاعت میں مر د اور خواتین تخلیق کاروں کی بھر پور شمولیت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مجلس ادارت نے انصاف کا ترازو سنبھال رکھا ہے ۔خواتین کی تحریریں پڑھ کر دلی مسرت ہوئی کہ عالمی ادب میں تانیثیت کے حوالے سے جو بحث چل رہی ہے پاکستانی خواتین نے اُسے پیشِ نظر رکھا ہے ۔ ۔ اسما وارثی کی نظم ’’ کرونا وائرس ‘‘ اس پُر آشوب دور کے حالات کے تناظر میں لمحۂ فکریہ ہے عالمی یوم ِحجاب کے حوالے سے تزئینؔ راز زیدی کاکلام اقتضائے وقت کے مطابق ہے ۔کورونا کی وبا کے تناظر میں سماجی فاصلوں کے موضوع پر لکھی گئی’’ کرونائی غزل ‘‘ میں تزئینؔ راز زیدی نے اِس عالمی وبا کے اثرات کو تاریخ ِادب کامعتبر حوالہ بنا دیاہے ۔
ہر طرف ایک صدا ،دُور رہو، دُور رہو
ہے یہی شرطِ بقا ،دُور رہو، دُور رہو
ہے قرنطینہ شفایابی کا واحد رستہ
ہے فقط ایک دوا ،دُور رہو، دُور رہو
یہ کرونائی غزل نذرِ کرونا کر کے
وائرس سے یہ کہا دُور رہو، دُور رہو ( تزئینؔ راز زیدی)
محترمہ فاطمہ حسن کی غزل بھی کوروناکے باعث سماجی فاصلوں کی طرف متوجہ کرتی ہے :
آرام سے اب گھر میں رہو مِلنے نہ آؤ
جو بات ہے دُوری سے کرو مِلنے نہ آؤ
مشکل ہے بہت وقت کے اِس جبر کوسہنا
تقدیر میں لکھا ہے سہو مِلنے نہ آؤ ( فاطمہ حسن)
’’مشتاق احمد یوسفی مزاح سے الم تک ‘‘ایک اہم مضمون ہے ۔اس مضمون میں شبنم امان کا جامعیت سے لبریزتجزیاتی انداز لائق صدرشک وتحسین ہے ۔مقالات کے حصے میں پروفیسر ڈاکٹرسیّدیونس حسنی ،ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی ،انتخاب حمید ،شاعر علی شاعر اور منیب الحسن رضاکی پر مغزتحریریں مجلے کے حسن کو چار چاند لگا رہی ہیں ۔ ’ اسلوب کی تفہیم ‘ کے عنوان سے راقم( ڈاکٹر غلام شبیررانا) کا مضمون بھی اس شمارے میں شامل ہے ۔محترمہ سلمیٰ اعوان نے اپنے یادگار سفرنامے ’’حال اور ماضی کا غرناطہ ‘‘ میں اِس اندازسے لفظی مرقع نگاری کے جوہر دکھائے ہیں کہ قاری چشمِ تصور سے کارلوس پنجم کے محل ، الحمرا کے محلات ،قلعہ اور باغات دیکھ لیتاہے ۔ماضی کی متعدد چشم کشا صداقتیں اس ابد آشنا سفرنامے ( ’’حال اور ماضی کا غرناطہ ‘‘ )میں سما گئی ہیں ۔ افسانہ ’ حاصلِ زیست ‘ زندگی کی حقیقی معنویت کا مظہر ہے ۔ڈاکٹر شکیل احمدخان نے افسانے کے ساتھ ساتھ سفرنامے(تطہیر ِ ذات کا سفر ) میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہامنوایاہے ۔
شعر و سخن میں رفیع الدین رازؔ،غالب عرفانؔ،فاطمہ حسن ،وضاحت نسیم ،پروفیسر ڈاکٹرسیّد رضیؔ محمد،ناہید ورک ،شائستہ مفتی ،مرزا عاصیؔ اختر،ناہیدعزمی،اسما وارثی ،عشرت معین سیما ،ڈاکٹر حبیب الرّحمان چوہان،فرزانہ فرحت ،صائمہ اسحاق،سمن شاہ ،تزئینؔ راز زیدی ،وضاحت نسیم اور رخسانہ صبا کا کلام شامل ہے۔کچھ اشعارپیش خدمت ہیں:
حُسن کو جانے بِنا حُسنِ نظر ممکن نہیں
بے ریاضت کوئی بھی کارِ ہنر ممکن نہیں ( رفیع الدین رازؔ)
مری منزل شعور ِ کائناتی
سفر میرا مگر ہے تجرباتی ( غالب عرفانؔ)
تمام خوف ہے ساری فضا میں دہشت ہے
ہزیمتوں میں گِھرے ہیں دِلوں پہ وحشت ہے ( وضاحت نسیمؔ)
اپنے ناموس کی پرواہ نہیں کر سکتا
جو بغاوت تو کُجا ،آہ نہیں کرسکتا (پروفیسر ڈاکٹرسیّد رضیؔ محمد)
پہلے ست رنگ خواب بنتا ہے
عشق پھر اضطراب بنتاہے ( ناہید وِرک )
مٹی جیسے خواب ہمارے مٹی میں مِل جائیں گے
ہستی کے سامان یہ سارے مٹی میں مِل جائیں گے (شائستہ مفتی)
مجلے میں شامل خاکہ،ڈرامہ ،ناول اور افسانے بہت عمدہ ہیں ،تراجم کا سلسلہ بھی خوب ہے ۔مجھے یقین ہے خوب سے خوب تر کی جانب ’’ زیست ‘ کا سفرجاری رہے گا۔ کمپیوٹر کمپوزنگ اور عمدہ کاغذ پر شائع ہونے والے علم وادب کے اِس مخزن کی قیمت چھے سو روپے رکھی گئی ہے جو گرانی کے موجودہ حالات میں مناسب ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 171 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Ibnesultan

Read More Articles by Ghulam Ibnesultan: 238 Articles with 215619 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
I like this book review .Writer has tried to bring positive awareness about a trend setter literary magazine.
By: Sajjad Hussain , Fateh Darya on Jun, 28 2020
Reply Reply
5 Like
Language: