بد نیتی کے ساتھ کیا گیا نکاح باعثِ برکت نہیں ہوتا

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

ایک بہت معزز پڑھی لکھی اور خوشحال فیملی نے اپنی بیٹی کا رشتہ طے کیا اور دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے منگنی کی بجائے نکاح کر ترجیح دی گئی اور رخصتی ایک سال بعد رکھی گئی ۔ چھ ماہ گذرے ہوں گے کہ ایک روز نوشہ میاں کا براہ راست پیغام آیا کہ لڑکی برقع پہنے اور اپنے تمام کزنز سے پردہ کرے ان سے کسی قسم کی دعا سلام بھی نہ رکھے ۔ لڑکی کے والدین نے لڑکے سے دریافت کیا کہ کیا تم اس قابل ہو کہ شادی کے بعد ہماری بیٹی کو شریعت کے مطابق علیحدہ رہائش فراہم کر سکو جہاں کسی غیر محرم کا کوئی گذر نہ ہو سسرال والوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو اور نا ہی ہماری بیٹی پر کسی بھی سسرالی عزیز کی خدمت گذاری اور تابعداری کا بوجھ ہو ۔ لڑکا اس بات کا کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکا وہ تو خود ایک مشترکہ گھر کا مکین تھا جہاں اس کے کئی اور بھائی بھی موجود تھے ۔ نا ہی وہ کوئی اعلا تعلیمیافتہ تھا نئی نئی نوکری لگی تھی جس میں وہ آئندہ کئی سال تک بھی کرائے کا گھر افورڈ نہیں کر سکتا تھا ۔ اس کے والدین نے بات کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر لڑکی کے والدین کی آنکھوں نے بہت دور تک دیکھ لیا تھا کہ آگے چل کر اس شادی کا انجام کیا ہو گا؟ وہ طلاق سے کم پر راضی نہ ہوئے اور یوں ایک گھر بسنے سے پہلے ہی اجڑ گیا ۔

یہاں یہ بحث ہے ہی نہیں کہ لڑکے کا مطالبہ اور لڑکی کے والدین کا بےلچک مؤقف درست تھا یا نہیں؟ سوال صرف اتنا ہے کہ لڑکے نے اپنی خواہش کا اظہار نکاح سے پہلے کیوں نہیں کیا؟ ایک لڑکی کو چھ ماہ تک اپنے نام پر بٹھانے کے بعد اس پر شریعت لاگو کرنے کے پیچھے کیا نیت کارفرما تھی؟ ویسے ہم آپ کو یہ بتا دیں کہ اس لڑکی کا کچھ ہی عرصے بعد خود اپنے ہی خاندان میں رشتہ طے ہو گیا تھا اور بہت دھوم دھام سے شادی بھی ہو گئی تھی ۔ لڑکے کے حالات کے بارے میں علم نا ہو سکا ورنہ ہم یہاں ضرور لکھتے ۔

ایک اور جاننے والوں میں ایک لڑکی کو اسی وجہ سے طلاق ہوئی کہ شوہر اسے برقع پہنانا چاہتا تھا ۔ لڑکی بہت خوبصورت تعلیمیافتہ اور فیشن ایبل گھرانے سے تعلق رکھتی تھی جبکہ سسرال والے بہت مذہبی اور پابند شرع لوگ تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ شادی کے بعد ہم لڑکی کو اپنے ماحول کے مطابق ڈھال لیں گے مگر ایسا نہیں ہو سکا ۔ اس لڑکی نے اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اس کا مؤقف تھا کہ مجھے اسی حال میں دیکھ کر پسند کیا گیا تھا ۔ بہرحال ان صاحب کی تو دوسری جگہ شادی ہو گئی بچے بھی ہو گئے مگر اس لڑکی کی پھر کبھی دوبارہ شادی نہیں ہو سکی کیونکہ سب اپنوں پرایوں میں وہ ایک منہ زور اور سرکش لڑکی کے طور پر بدنام ہو گئی اب ایسی لڑکی کے کون منہ لگتا؟

ایک اور قصہ کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک نوجوان بغرض ملازمت بیرون ملک مقیم تھا کمپنی کی طرف سے سالانہ چھٹی کے باوجود دو دو تین تین سال تک گھر نہیں آتا تھا اور گھر والے وقتاً فوقتاً اسے مختلف لڑکیوں کی تصویریں بھیجتے رہتے تھے ۔ کبھی وہ ٹال جاتا تھا اور کبھی جو راضی ہو جاتا تو گھر والے کوئی نا کوئی حیلہ بہانہ گھڑ کر بات ختم کر دیتے تھے ۔ کئی سالوں کی نوٹنکی کے بعد بالآخر دونوں ہی کا ایک لڑکی پر اتفاق ہو گیا ، رشتہ طے ہو گیا اور نوجوان وطن لوٹا تو جھٹ پٹ شادی بھی ہو گئی ۔ اور صرف ایک ہفتے بعد اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم آئندہ سے آئی بروز نہیں بناؤ گی مجھے پسند نہیں ۔ لڑکی سخت حیران ہوئی کیونکہ اس کے شوہر کے گھر کی بلکہ پورے خاندان کی خواتین کا دوسرا گھر بیوٹی پارلر ہوتا تھا کوئی فیشن ایسا نہیں تھا جو وہ نا کرتی ہوں ۔ ایسے میں یہ شخص جو کوئی بہت مذہبی بھی نہ تھا اور نا ہی اس کی ظاہری وضع قطع مذہب کے مطابق تھی اور جو اپنی بہنوں اور بھابھیوں کے بیوٹی پارلر یاترا کی پیمنٹ اپنی جیب سے کیا کرتا تھا تو بیوی سے ایسا مطالبہ کہ وہ خود گھر میں بھی کبھی آئی بروز نہیں بنائے گی یقیناً حیران کن تھا ۔ بجا طور پر اس لڑکی نے بھی یہی سوال کیا کہ میری جو تصویر پسند کرانے کے لیے آپ کے پاس بھیجی گئی تھی اس میں میری بنی ہوئی آئی بروز کسی اندھے کو بھی نظر آ سکتی تھیں جب آپ ان کے اتنے خلاف تھے تو جانتے بوجھتے مجھے کیسے پسند کر لیا؟

اصل میں موصوف کسی وقت دوستوں کی محفل میں جوشِ تبلیغ میں یہ شرط لگا بیٹھے تھے کہ شادی کے بعد میری بیوی آئی بروز نہیں بنائے گی اگر بناتی بھی ہو گی تو میں بند کرا دوں گا ۔ اب ان کی انا کا مسئلہ آ گیا تھا کہ اگر بیوی ان کی بات نہیں مانے گی تو دوستوں میں سبکی کا سامنا ہو گا اور ان کی عزت کی خاطر بیوی کو اپنے شوق یا ضرورت کی قربانی دینی ہو گی ۔ حیرت کی بات ہے کہ اس نوجوان نے دوستوں کے ساتھ یہ شرط نہیں لگائی کہ میں اپنے نکاح میں آئی ہوئی عورت کو ہر قیمت پر اپنے ساتھ رکھوں گا اسے نامحرم رشتوں کے ساتھ تنہا نہیں چھوڑوں گا اسے اپنے پورے خاندان کی غلامی میں نہیں دوں گا ۔ اس کا سارا دین اور شریعت صرف بیوی کی آئی بروز کے درمیان اٹکی ہوئی تھی باقی کے احکامات سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ اگر اسی طرح یہ لڑکی بھی ضد پر اتر آتی کہ مجھے اسی طرح دیکھ کر پسند کیا گیا تھا اور شادی سے پہلے ہی واضح کیوں نہیں کیا تھا کہ کیا ناپسند ہے؟ تو اس شادی کا بھی کیا انجام ہوتا؟ جو کہ اسی یقین دہانی کے ساتھ طے پائی تھی کہ لڑکی کو بہت جلد شوہر اپنے پاس بلا لے گا اور ایسا سالہا سال تک نہیں ہو سکا ۔

ایسے ہی اس سے ملتے جلتے اور بھی بہت سارے واقعات ہیں یہاں صرف تین مثالیں پیش کی گئی ہیں ۔ نکاح جیسے مقدس رشتے کی بنیاد ہی اگر جھوٹ اور کھوٹ پر رکھی جائے کہ ایکبار ہو لینے دو بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی تو اس میں برکت کیسے آئے گی؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2016 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 143 Articles with 880598 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: