تفاخر،نمود و نمائش کی آگ

(Sami Ullah Malik, )

کیسے کیسے لوگ اس ایک خبرسے یادآگئے،کیسے کیسے چہرے آنکھوں میں گھوم گئے”ہم جس کوچاہیں فقیربنادیں اور جس کوچاہیں بادشاہ”ایوان صدر میں زمین پربیٹھے اپنے تمام مصاحبین جو سروں کو جھکائے اپنی والہانہ تابعداری کااظہار کررہے تھے،کوخطاب کرتے ہوئے متکبرانہ لہجے میں فرمایاتھا ! اسی نمک کی کان کے ایک اورمکین نےکراچی کولہولہان کرکے اسی شام اسلام آباد میں مکے لہراکراپنی طاقت کا چیلنج دیااورشیخ رشیدآج ہی کی طرح بڑی تابعداری کااظہار کررہا تھا،لیکن کیاہوا،کہاں ہیں وہ سب لوگ جوایسے دعوے کرتے تھے؟کیاان کومعلوم نہیں کہ تکبرتواللہ کی چادر ہے جو جبار بھی ہے اورقہاربھی،یہاں توکوئی انسان کسی دوسرے کی چادر کوہاتھ ڈال دے تووہ ہاتھ قلم کردیئے جاتے ہیں توکیااتنابڑا تکبر ہوا میں ایسے ہی تحلیل ہوجائے گا،خداکی قسم!ایساہرگز نہیں ہوسکتا،اب توالٹی گنتی شروع ہوگئی ہے،تباہی کی ساری علامتیں ظاہرہوگئیں ہیں،ایوانِ صدر سے ہرصبح چارکالے بکروں کاصدقہ دینے والے کادماغ سکڑناشروع ہو گیا ، کھربوں ڈالرکے مالک کی پراسراربیماری کی تشخیص لندن کے ہسپتالوں میں بھی نہیں ہورہی اورمشرف کی ہڈیاں بھی گلنا شروع ہوگئی ہیں!

ابھی کل ہی کی توبات ہے کہ کس شان اورتکبرکے ساتھ ان سڑکوں پران کی سواری گزراکرتی تھی اوراب ان سڑکوں کی دھول بھی ان پربھاری ہوگئی ہے۔کیسے کیسے چہرے آنکھوں میں گھوم گئے ہیں اورحیرانگی اس بات سے ہورہی ہے کہ تکبرکایہ سلسلہ پھرسے جاری ہوگیاہے جبکہ کوروناکی دہشت نے بڑی بڑی اکڑی تنی گردنوں کودبوچ لیاہے ۔نئی نویلی دلہن کی طرح آراستہ گاڑیاں،اپنے وجودکی انفرادیت اوراہمیت کااحساس اور غرور آنکھوں میں بسائے،کبھی اس اقتدارکا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اورکبھی دوسرے کا،سفارشیں، رشوتیں، دوستی کے واسطے،اپنی وزارت،سیاسی حیثیت اورنوکری کی عظمت کارعب جھاڑتے ہوئے،ان لوگوں میں سیاستدان بھی ہیں اوراعلیٰ بیوروکریٹ بھی،کندھوں پرچمکداربیج سجائے یونیفارم والے بھی اور خاندانی رئیس،نواب،زمیندار،وڈیرے اورجاگیرداربھی۔ان دنوں ہرکوئی ایک فرمائش کرتانظرآرہاہے کہ اگرآپ میری گاڑی کیلئے فلاں نمبردے دیں تومیری عزت رہ جائے گی،میری ٹوربن جائے گی،لوگ مڑمڑکرمیری گاڑی کو دیکھیں گے،حیرت اور حسرت سے سوال کریں گے،تمہیں یہ نمبرمل کیسے گیا؟بہت بڑی سفارش ہوگی،کتنے پیسے لگے،ہم تواتنے عرصے سے پیچھے تھے،بڑی کوشش کی لیکن تم نے میدان مارلیا!

پر کشش نمبروں کی یہ کہانی بہت پرانی ہے،یہ اس زمانے سے چلی آرہی ہے جب ضلعوں کے حاکم ڈپٹی کمشنربہادرجن کے پاس نمبرون (1) کے پلیٹ والی گاڑیاں ہواکرتی تھیں،دورسے ہی دوسرے لوگ پہچان لیاکرتے تھے کہ صاحب بہادرحاکمِ والا کی سواری آرہی ہے۔اس گاڑی میں بیٹھنے کانشہ اورتفاخرہی ایساتھاکہ کسی اورنمبرکی گاڑی میں بیٹھنااپنی توہین تصور ہوتاتھا۔جنوبی پنجاب کے ایک ضلع ملتان میں بدقسمتی سے یہ نمبرکسی ڈپٹی کمشنر نے دوستی کے ہاتھوں مجبورہوکرکسی اورکوالاٹ کردیااورپھر یہ گاڑی بکتے بکتے ایک شوقین کے ہاتھ لگ گئی،نئی گاڑی خریدی،پرانی کانمبراس پرلگایا اوربہت زیادہ ابھرے ہوئے حروف میں(1)لکھواکرگھومنے لگا۔اُدھرعلاقے کے ڈپٹی کمشنرکونئی گاڑی الاٹ ہوئی تواس نے بھی وہی نمبر اپنی گاڑی پرسجالیاکہ اس ضلع میں تویہ حق صرف مجھے حاصل ہے،کون روک سکتاتھا،شوقین جگہ جگہ محفل محفل احتجاج کرنے لگا،قصے پرقصےسناتا،ایک دفعہ یہاں تک کہہ گیاکہ میرے عزیز ترین دوست نےکہاکہ میں تم سے کچھ مانگنے آیاہوں،میں نے کہا”دوچیزوں کے سواتم سب کچھ مانگ سکتے ہو ، ایک میری بیوی اوردوسرا،ملتان ون۔”

افسروں میں اس نمبرکی جنگ خوب تھی،صوبے کے بڑے افسرسے لیکرڈویژن تک سب اسی نمودونمائش کے خوبصورت گورکھ دھندے میں الجھےہوئے تھے،ادھریونیفارم والے جب اپنی ذاتی گاڑی خریدتے توان سب کی کوشش ہوتی کہ نمبر2 سے لیکر9تک کوئی نمبران کی گاڑی کے ماتھے کاجھومرضرورہوناچاہئے،اس کیلئے ان کی بھاگ دوڑدیکھنے کے لائق ہوتی، دوستی،سفارش،دھونس اوررعب سب کچھ چلتا۔کسی بزنس مین کابیٹاضدکربیٹھتاتوایکسائزاہلکاروں کے دن پھر جاتے۔ کسی نواب سردارکودکھاوے کی رسم اچھی لگتی تواس کی گاڑی پربھی اس نمبرکوسجانے کیلئے ہر قسم کے پاپڑبیلے جاتے ۔وزراءسے لیکرممبرانِ اسمبلی تک اورناظمین سے لیکرکونسلروں تک جس کابس چلااس نے اپنی گاڑی پرایک پرکشش نمبر سجایا۔ گاڑی کی سیٹ پربیٹھامتکبرانہ مسکراہٹ سے دنیاکودیکھتے ہوئے گزرنے لگا۔آج یہ نمودونمائش برسرِعام نیلام ہے،آج یہ انفرادیت کاشوق اور کھوکھلی اہمیت کاجادوبک رہاہے۔اس وقت تمام صوبوں کے محکمہ ایکسائزہرسال پرکشش نمبروں کی پوری سیریل نیلام کرتی ہے اوراس کی ریکارڈ بولی میں لاکھوں روپے”محکمہ کوآمدنی”کی مدمیں موصول ہوتے ہیں۔

ہم کس عجیب وغریب معاشرے میں سانس لیتے ہیں اورکس کھوکھلی نمودکی بنیادوں پرزندگی استوارکرتے ہیں اورسوچ رہے ہوتے ہیں کہ ان نمبر پلیٹوں سے،ان پرکھدے مخصوص ہندسوں سے لوگوں میں ہماری عزت وتوقیرمیں اضافہ ہوگالیکن شائد انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ جب ان کی گرد اڑاتی گاڑیاں مفلوک الحال لوگوں کا تمسخر اڑاتے ہوئے گزرتی ہیں توکوئی ان سے محبت نہیں کررہاہوتا،یہ توخداکاشکرہے کہ دل اور آنکھوں کی خاموش زبان پرکوئی پابندی نہیں وگرنہ ہرروز نجانے کتنے شانے سروں سے محروم ہوجاتے۔یہ سب تواس قوم کے ساتھ ہوتاآرہاہے اوریہ برسوں سے یہ نارواسلوک سہتی بھی آ رہی ہے۔ خاموش رہنے اورظلم پرچپ رہنے پراس طرح کے عذاب مسلط ہواکرتے ہیں لیکن نمودو نمائش اور کھوکھلی عزت کی جووباءاورلوگوں میں تھی ،اب یہ وجہ نمایاں ہونے کی روش عام لوگوں میں چل پڑی ہے لیکن اب گلہ کیسا، صدیوں پہلے یہ بتادیاگیاتھا کہ جیسے عوام ہوں گے ویسے حکمران مسلط کر دیئے جائیں گے۔

کیاکبھی اس شخص نے سوچاجو پانچ سے دس لاکھ روپے کی نمبرپلیٹ خریدرہاہے،اس سے اس کاسوال نہیں کیاجائے گا؟وہ قادرِمطلق جس نے اس کو یہ سرمایہ عطاکیاہے وہ اس سے پوچھے گانہیں کہ جب تم نیلامی میں یہ بولی دے رہے تھے تو تمہارے اردگردبسنے والے کتنے لوگ ایسے تھے جن کے گھروں میں بھوک نے مہینوں سے ڈیرے ڈال رکھے تھے،کتنے تھے جوخودکشی کرکے اس زندگی کے عذاب سے چھٹکارہ پانے کی کوشش میں تھے۔ جس ملک میں 55فیصدسے زیادہ لوگ غربت وافلاس کی زندگی گزاررہے ہوں وہاں توشائدایساسوال ہرکسی سے اس دن کیاجائے گا۔

اس دن تانبے کی طرح تپتی زمین اورسوانیزے پرآئے ہوئے سورج تلے جواب دیناہوں گے۔میں تومخبرِصادق ﷺکے اس ارشادسے کانپ رہا ہوں “ابن ماجہ میں عبداللہ بن عمرنے فرمایا کہ رسول اکرمﷺنے ارشادفرمایا،جس شخص نے دنیا میں شہرت کیلئے لباس پہنا،اللہ تعالی قیامت کےدن اس کوذلت کالباس پہناکراس میں آگ بھڑکادیں گے۔”لیکن کیاکریں جن سروں میں تفاخر کی بواورذہنوں میں نمودونمائش کی آگ سلگ رہی ہے،انہیں اس کا خوف ہی نہیں۔

تکبر تو اللہ کی چادر ہے جو جبار بھی ہے اور قہار بھی ،یہاں تو کوئی انسان کسی دوسرے کی چادر کو ہاتھ ڈال دے تو وہ ہاتھ قلم کر دیئے جاتے ہیں ،اب دیکھیں میرے رب کی طرف سے فیصلہ کتنا جلد نازل ہوتا ہے” اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک میرا رب اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا!
عجب واعظ کی دیں داری ہے یا رب!
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے
کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں
کہاں جاتاہے،آ تاہے کہاں سے
وہیں سے رات کو ظلمت ملی ہے
چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 87 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 385 Articles with 100891 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: