کشمیر پھولوں کی وادی سے خون کی نہروں تک

(Zahida, Quetta)
ایک ایسی تحریر جس میں نہ صرف کشمیر کی خوبصورتی بیان کی گئی ہے بلکہ اس تحریر میں مسلمانوں کو ایک ہو کر کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ تمام مسلمان
آپس میں بھائی بھائی ہیں

سناہے بہت سستا ہے خون وہاں کا
اِک بستی جسے کشمیر کہتے ہیں!
اس نے جب سے ہوش سنبھالااس نے ایک ہی باتہی بات سنی تھی کہ اس سرزمین پر ایک ایسی وادی ہے جو نہایت ہی خوبصورت،زرخیز اور سرسبز ہے جسے زمین پر "جنت کا ٹکڑا" کہا جاتا ہے اور وادی کا نام ہے کشمیر اور جیسے جیسے اس کے ذہن میں پختگی آتی گئی تو جب وہ کشمیر کا نام سنتی تو اپنےذہن میں پھولوں کی خوشبوکی بجائےبارود اور خون کی ملی جلی بد بو محسوس کرتی اور وہ یہ خیال کرتی کہ اے کاش!امن کا ایک ایساجھونکا آئے جو اس بارود اور خون کی ملی جلی بدبو کو اس پھولوں کی وادی سےدور لے جائے اتنا دور کہ اس کی پھولوں کی مہک ساری فضا کو معطر کر دے کہ یہ مہک روح کو بھر پور سکون پہنچائے اور روح کواتنا پر سکون کر دے کہ وہ بارود اور خون کی ملی جلی بدبو کو بھول جائے لیکن یہ کیسے ہوگا؟کیا یہ ممکن ہے؟اگر یہ ممکن ہے تو کیسے؟یہی تو وہ تھے جو عرصہ دراز سے اس کے ذہن میں تھے اور کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو اس کو اس کے ان سوالوں کے جواب دے سکیں نہ کوئی انسان ،نہ کوئی کتاب اور نہ کوئی رسالہ اور اخبار کوئی بھی ایسی چیز نہیں تھی جو اس کو اس کے ان سوالوں کے جواب دے سکیں کیونکہ کوئی ایسا ہے ہی نہیں جواس کو مطمئن کر دے اس کی ہمیشہ سے ایک ہی خواہش تھی کہ یہ دنیا ظلم کی اندھیرون کی بجائے امن کی کرن بن جائے اور خاص طور پر کشمیر جو قدرتی طور پر خوبصورت اور پھولوں کی وادی ہے وہ ہندوستان کی ظلمت سے نکل کر ایک پُر امن وادی بن جائے کیونکہ ہر کسی کو آزاد رہنے کا حق ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کی آزادی چھن سکیں کیونکہ آزاد رہنے کا حق ہر مذہب میں موجود ہے۔

کبھی کبھی تو اس مسلمانوں پر حیرانگی ہوتی کہ تمام دنیا میں جتنے بھی مسلمان ہیں کہ وہ واقعی کشمیر کے لئے کچھ نہیں کر سکتیں؟پھر وہ اپنے آپ کویہ کہہ کر خاموش کرا دیتی کہ کہ وہ مسلمان جو اپنے لئے کچھ نہیں تو وہ دوسروں کے لئے کیا کر سکتیں ہیں؟وہ مسلمان جن کے بارے میں دنیاکے عظیم ترین ہستی حضرت
محمد ﷺ نے فرمایا:
"مومن ایک جسم کے مانند ہے جب جسم کے ایک حصے میں درد ہوتاہے تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے"(مفہوم حدیث)
تو کیا آج کے مومن بھی ایک جسم کے مانند نہیں؟ اور اگر ہے تو وہ اپنے جسم کے سب سے اہم اور خوبصورت حصے کشمیر کے درد کو کیوں محسوس نہیں کرتے
اور اگر کرتے بھی ہے تو کچھ کرتے کیوں نہین یہاں تک کہ آج کے مومن توکوشش بھی نھیں کرتے ہاں آج کے مومن تو صرف باتیں کر سکتیں ہیں اور بڑی بڑی باتوں اور دعوؤں کے علاوہ تو یہ کچھ کر ہی نہین سکتیں افسوس صد افسوس کہ آج کا مومن صرف بڑی بڑی باتیں اور دعوے ہی کر سکتیں ہیں جو اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتا وہ دوسروں کے لئے کیسے کچھ کر سکتا ہے۔
جب بھی کسی نے کشمیر کی آزادی کے لئےآواز اٹھائی تو وقت کے سفاک ظالوں نے اس کی آواز کو دبایا گیا اور نہ صرف اس کی آواز کو دبایا گیا ہے بلکہ اس کی آواز کومکمل طور پر اور ہمیشہ کے لئے خاموش کروا دیا گیا ۔کاش کہ مسلماوں میں ایک بار پھر"صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم جیسے نڈر اور ذہین افراد پیدا جو کشمیر سے خون اور بارود کی سرد بد بو کو ختم کر کے ایک نئی اور آزاد
صبح کی نوید سنائیں۔
کشمیر کا ایک حصہ خوشیوں کا مرکز ہے اور دوسرا گداز باب خاکو خون سے لتھڑی ہوئی جہاد مسلسل ایک طویل کہانی ہے اشک و آہ کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو کبھی ختم ہونے کا کا نام نہیں لیتاآزادی کے نام پر کتنی قیمتی جانیں قربان ہوئیں اور آج ت قربان ہو رہی ہیں۔کشمیرکے لئے آزادی نجانے کتنے دلوں کو گرمایا گیا اور اس پھولوں کی وادی خون کی سرد بو کو ختم کرنے کی اگردل سے کوشش کی جائے تو یہ کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کوشش نہیں کی گئی تو صرف
ایک ہی آواز ہے جو اس کے کانوں میں گونجتی ہے کہ:
کوئی آواز اب اٹھائے کہ کشمیر جل رہاہے
کوئی انصاف اب دلائے کہ کشمیر جل رہا ہے
ہر فرد ہے پریشان،بے چین و دل شکستہ
کوئی مرہم انہیں لگائیں کہ کشمیر جل رہا ہے
ماؤن کی گود سونی،ہر باپ تڑپ رہا ہے
کوئی سن لے ان کی ہائے کہ کشمیر جل رہا ہے

ظلم ہے سینہ تانے،مظلوم ہے بے سہارا
کوئی ظلم اب مٹائے کہ کشمیر جل رہا ہے
دن میں ہے اندھیرا،خورشید بھی ہے بے نور
کوئی شمع بن کے آئے کہ کشمیر جل رہا ہے۔
(فہیم اقبال وانی)
جب وہ آٹھویں جماعت میں تھی تو اس کے لبوں پر ایک ہی دعا ہوتی تھی کہ اے پاک پروردگا تو کشمیر کو ان ظالموں کے ظلم سے آزادی دے اور آج جب اس نے اپنا بی ایس مکلمل کر لیا تو بھی اس کےلبوں پر ایک ہی دعا ہے اے میرے رب اس پھولوں کی وادی کو خون اور بارود کی ملی جلی سرد بو سے آزادی دے اور اس کو پھولوں کی خوشبو سے مہکا دیں۔
(آمین)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 56 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zahida
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: