بغیر امتحان طلبہ کو پروموٹ کرنا غلط فیصلہ ہے۔

(Shazia, Karachi)
تعلیم کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔۔۔اور ملک کی ترقی نوجوان طالب علموں کے بغیر ممکن نہیں ۔نوجوان مستقبل کا معمار ہیں ۔

نوجوان طالب علموں کا مستقبل کیا؟ بغیر امتحان طلبہ کوپروموٹ کرنا غلط فیصلہ ہے۔
ڈگری تو محض تعلیمی اخراجات کی رسید ہوتی ہے ۔
علم تو انسان کی گفتگو اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے ۔

اگر امتحان کے بغیر پاس کرنا ہے تو آن لائن تدریس کیوں جاری ہے ؟
سابقہ مہینوں میں امتحانات سے مطلق جو فیصلے کیے گئے اسکے نتائج اچھے نہیں ہونگے ۔کسی بھی ملک کی معیشت کا انحصار تعلیم پر ہوتا ہے ہے ملک میں جتنے زیادہ پڑھے لکھے اور باشعور افراد ہوں گے اس ملک میں امن ہو گا دوسرا اس ملک کی معیشت مضبوط ہوگی اوروه ملک ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو سکتا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم ایک کھیل بن کر رہ گیا ہے اس میں بہت سی غیر قانونی طاقتیں شامل ہیں جو اس کی راہ میں پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں بہت سے طلبہ غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں اور اور جو تعلیم حاصل کرنے کے شوقین ہیں حکومت کے فیصلے نے ان کے دل سے تعلیم کا شوق ختم کر دیا ہے حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہمارا نظام تعلیم ناکارہ ہو چکا ہے اور ہمارے تعلیمی نظام کا معیار پست ہو کر رہ گیا ہے اور ہم پستی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ہمارے ملک میں تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں اور یہی وجہ ہے ایک کی حکومت کے لیے گئے فیصلے سے پاکستان کہ 70 فیصد طالب علم خوش نظر آتے ہیں کیونکہ بہت سے طالب علم ناجائز طریقوں سے ڈ گڑی حاصل کر لیتے ہیں لیکن دوسری طرف 30 پرسنٹ ذہین اور قابل طالبعلم اس فیصلے سے ناخوش اور مایوس نظر آتے ہیں جو حکومت نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو بغیر امتحان پاس کرنا اور انہیں پانچ فیصد بڑھا کر کر اگلی جماعتوں میں پروموٹ کر دیا جائے گا تو میرا سوال یہ ہے کہ وہ طالب علم جو پڑھنے میں کمزور ہیں یا پھر کسی مجبوری کے تحت وہ پچھلے سال اچھے امتحانات نہیں دے سکے اور وہ اس سال محنت سے اچھے نمبر حاصل کرنا چاہتے تھے اور اور اپنے نتائج کو بہتر بنانا چاہتے تھے کیا یہ ان کے ساتھ انصاف ہے ۔میں یہ نہیں کہتی کہ یہ فیصلہ غلط ہے لیکن یہ فیصلہ درست بھی نہیں امتحان لے جا سکتے تھے ایک تو رمضان کی وجہ سے تعلیمی ادارے 3 ماہ تک بند رہی اور تعلیم کا حرج ہوتا رہا ۔

کیا کرونا وائرس نے کہا میں تعلیم پر اثر انداز ہوتا ہوں جی نہیں شاپنگ مال ریسٹورنٹس ٹرانسپورٹ سب کھول دیئے گئے کیوں اس طرح کرونا وائرس نہیں پھیلے گا ان سب معاملات میں نرمی برتی گئی ہے آخر کیوں کی شاپنگ مال اور ڈیزل ریسٹورنٹ علمی اداروں سے زیادہ اہم تھے بلکل نہیں کرنی چاہیے تھی اور انہیں ایس او پیز کے تحت کھولنا چاہیے تھا اور نظام تعلیم کو بحال کرنا چاہیے تھا عوام کی حفاظت ضروری ہے حکومت نے عوام کی بہتری کے لیے ہیں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا لیکن کرونا پھیلتا رہا اور سخت لاک کے باوجود بھی عوام شاپنگ مال ریسٹورنٹ اور جگہ جگہ گھومتی دکھائی دی ۔نہ ہی احتیا طی تدابیر اپنائی ۔۔
تجاویز:
ماسک اور داستانوں کو پہن کر امتحان دیا جاسکتا تھا۔
:اور سماجی فاصلہ رکھتے ہوے بھی الیے جا سکتے تھے ۔
حکومت غریب عوام کو لپ ٹاپ دے جاتے اور ون لائن امتحان لیے جاتے ۔
ایک پیپر کے بجائے 2 پیپر ساتھ لیے جاتے ۔
پیپر مختصر ہوتا تو دو پیپر ایک سات دیے جا سکتے تھے پرچہ معروضی سوالات پر مبنی ہوتا ۔تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے طالب علم کا کافی وقت برباد ہو چکا تھا۔۔پیپر ہوتے تو طالب علم کچھ تو پڑھتے اور اس طرح وه اگلی جماعت میں جانے کے قابل بھی ہوجاتے اور جو اگلی جماعت میں جانے کی اہلیت نہیں رکھتے وه محنت کرتے اور اگلے سال پروموٹ ہوسکتے تھے ۔لیکن بغیر امتحان کے وو طالب علم جو اتنی اہلیت نہیں رکھتے وه پروموٹ تو کر دیے گئے ۔۔لیکن انہیں اگے جاکر پڑھنے میں مشکل ہوگا ۔۔کیوں کہ نہم کلاس بنیاد ہے اور وہ طالب علم جنہوں نے نهم نہیں پڑھی وه دہم کی نصاب کو کیسے سمجھيں گے ۔
ماسک اور داستانوں اور احتیاطی تدا بیر کا خیال نہ رکھنے والوں کے خلاف کروائی کی جاتی ۔۔اس طرح کافی حد تک طلبہ ماسک لازمی پہنتے ۔۔اور رنجیر تعنات کر دی جاتی ۔
امتحان نہ لینے کے منفی اثرات ۔
جہالت
جہالت عام ہو جاۓ گی علم حاصل کرنا کا شوق ختم ہوجاجاۓ گا پڑھے لکھے افراد کی کمی ہوجاے گگی ۔
ناانصافی ۔
بہت سے طالب علمو ں کے ساتھ نا انصافی ہوگی ۔
ڈگری کی حثیت ۔
بغیر امتحان کے ڈگری کی کوئی حثیت نہیں ہوگی ۔
اور بھی بہت سے منفی اثرات مرتب ہونگے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 87 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shazia
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: