ارتغل دیکھ تو لیا مگر سیکھا کیا؟

(Hafiz Muhammad Hassan, Karachi)
مشہور و معروف ترک ڈرامہ "ڈیریلش ارتغل" کو پاکستان میں قومی سطح پر دکھائے جانے کا مقصد مسلمانوں کو صرف انکی تاریخ یاد دلانا ہی نہیں بلکہ ان میں ان اوصاف کو پیدا کرنا ہے جن کی بنا پر وہ ایک بارپھر اسلام کے عظیم جھنڈے کو دنیا کے کونے کونے میں گاڑ سکیں۔ ان اوصاف میں ایمان اور اتحاد اہم ترین ہیں۔

جس دلدل میں آج ہم مسلمان دھنس چکے ہیں، یہی وہ دلدل ہے جس سے نکلنے میں ارتغل غازی اور عثمان غازی نے تیرہویں صدی کے مسلمانوں کی مدد کی تھی۔ جہاں ایک طرف ایوبی سلطنت کا خاتمہ کیا جا رہا تھا وہیں سلجوک سلطنت کی تباہی کو بھی یقینی بنایا جا رہا تھا۔ ان تمام تباہکاریوں میں سب سے بڑا ہاتھ تو خود مسلمانوں کا ہی تھا جو دین سے غافل ہو کر اللہ کی رسی کو چھوڑ چکے تھے۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منگولوں اور صلیبیوں نے اپنے عظیم مقاصد کو پورا کرنا چاہا۔ مگر شاید وہ اناتولیا میں موجود قائی قبیلے کو مکمل طور پر جان نہ پائے۔ وہ یہ دیکھ ہی نہ سکے کہ جس دلدل میں انہوں نے مسلمانوں کو ڈالا ہوا ہے اس میں موجود چند مسلمان ایسے بھی ہیں جو تعداد میں واقعی بہت کم ہیں لیکن انکا ایمان انکی طاقت ہے۔ وہ تکبیر کہہ کر جب میدان جنگ میں آتے ہیں تو مجال ہے کہ کوئی صلیبی یا منگول ان سے بچ کر فرار ہو جائے۔ اس ہی ایمان نے انہیں مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔ یہی ایمان آگے چل کر تین بر اعظموں پر 600 برس تک نہ صرف حکمرانی کرتا رہا بلکہ مسلمانوں کو ایک سائے تلے متحد کرنے میں بھی کامیاب رہا۔

آہ! افسوس صدا افسوس! یہ مسلمان کتنی آسانی سے اپنی تاریخ بھلا کر اپنے ایمان کو دشمنوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ وہ بھی صرف چند ڈالرز کے لئے؟ میں تاریخ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں، جب جب ہم اللہ سے منہ پھیرتے گئے اور اپنی صفوں کو توڑتے گئے تب تب ہم اس ہی طرح دشمنان اسلام کے غلام بنتے گئے۔
اگر یونہی ڈرامے میں گم ہو کر تم ارتغل کا انتظار کرتے رہے تو شاید آخرت میں ہی اس سے ملاقات ہو سکے۔ ہمیں خود ارتغل بننا پڑے گا۔ جی ہاں! ہم سب ارتغل ہے، تم میں اور تمام مسلمان! ہم سب ایک ہیں! اگرچہ ہمیں الگ الگ جھنڈا تھما کر زمین کا ذرا سا ٹکڑا دے کر قوموں میں بانٹ دیا گیا ہے مگر اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے،
"ہر مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے جیسے ایک جسم۔ اگر جسم کا کوئی حصہ بھی تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ سارے جسم میں تکلیفمحسوس کرے گا۔"
(فرمان حضور مقدس صلی اللہ علیہ وسلم)

ایمان اور اتحاد اگر ہماری رگوں میں ہےڈورنےلگے تو کون ہے جو ہمارے ایمان کا مقابلہ کر سکے اور ہماری صفوں میں گھس سکے؟ قومیں کامیاب پیدا نہیں ہوتیں، دلوں کا ایمان اور صفوں کا اتحاد انہیں فاتح بنا دیتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiz Muhammad Hassan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jul, 2020 Views: 181

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ