الفت ہوئی بے آبرو

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)

سنو!آج مل سکتی ہو؟
بہت دنوں سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی ہے؟
ارے تم سن رہی ہو نا۔!
میں جو کہہ رہا ہوں؟
زوہیب بڑے غصیلے انداز سے تمثیلہ سے بول رہا تھا۔
ہاں ،ہوں!میں سن رہی ہوں تمہیں، بچے تنگ کر رہے ہیں نا ، اُن کو میں روک رہی تھی۔
زوہیب میں سوچوں گی کہ اس پر کیا کر سکتی ہوں، تم کو پتا ہے کہ میں اب شادی شدہ ہو چکی ہوں،اب آسانی سے نہیں مل سکتی ہوں۔
تو کیا ہوا، شادی کے بعد کیا ہم رشتے دار ہو کر بھی نہیں مل سکتے ہیں؟
زوہیب نے ترپ کا پتا پھینکا۔

ایسی تو کوئی بات نہیں کہی ، بس تم کو پتا ہے کہ سسرال سے بلاوجہ کہیں آنا جانا بہت مشکل ہوتا ہے؟تمثیلہ نے اُکتائے ہوئے لہجے میں ایک بات کہہ دی تھی۔

اچھا سنو!ملو تو تم پتا نہیں کب ،ایسا کرو کہ تم اپنی تصویر ہی کوئی بھیج دو نا، کب سے تمہاری زیارت نہیں ہوئی ہے؟

زوہیب کب باز رہنے والا تھا، وہ بُری صحبت کا شکار ہو چکا تھا ، اُس کے دوستوں نے اُسے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا ، اسی وجہ سے وہ یونیورسٹی سے بھی باہر نکل چکا تھا مگر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا تھا۔

تمثیلہ نے حامی بھر لی تھی،وہ آخراپنے بچپن کی محبت کو انکار کیسے کر سکتی تھی۔ اُس کی مرضی سے شادی نہیں ہوئی تھی۔کتنا اُس نے والدین کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ اُسے نا سمجھ کر اُس کی پسند کے خلاف شادی کرنے کے خواہاں تھے۔

زوہیب کے ساتھ تو انہوں نے ایسا سلوک کیا تھا کہ کسی نے کیا کیا ہوگا،انہوں نے اُس کو اس کی والدہ سمیت اپنے گھر تک نہیں گھسنے دیا تھا ، پانی تک نہیں پوچھا تھااور تمثیلہ کی والدہ نے باہر سے چلتا کیا تھا۔زوہیب کے دل میں آج تک اُس دن کی بے عزتی یاد تھی۔اُس نے بس اپنی محبت کے بارے میں اگر تمثیلہ کے والد کو بتا دیا تو یہ گناہ کب تھا مگر وہ تب سے ہی اُس کے خلاف ہو گئے تھے، رہی سہی کسر بے عزتی نے پوری کر دی تھی۔

آج زوہیب بہت خوش تھا اُسے تمثیلہ کی تصویر مل چکی تھی، اُس کے دوست نے اس کو پٹی پڑھائی کہ اس کو جدید طریقے سے واہیات بنا کر اُسے اپنے ہاتھوں میں کرنے کی کوشش کرو۔

زوہیب پہلے ہی انتقام کی آگ میں جل رہا تھا، اُس نے سوچے سمجھے بنا ہی اس کی تصویر کو واہیات انداز میں بنوالیا اور پھر سوشل میڈیا پر چلائی تو وہاں سے وہ ہوتی ہوئی تمثیلہ کے رشتے داروں تک پہنچ چکی تھی۔

تمثیلہ اپنے دن بڑے خوشی سے گزار رہی تھی۔اُسے خبر نہیں تھی کہ اگلے دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔مگر ایک دن یہ بات اُس کے گھر تک آگئی تھی، شوہر اُسے طلاق دینے پر راضی نہ تھا، ساس آگ بگولہ ہو چکی تھی، وہ اُسے گھر میں رکھنے کو تیار نہ تھی۔وہ اپنے گھر جانے کو تیار نہیں تھی کہ وہاں جا کر الگ بے عزتی ہونی تھی۔

تمثیلہ کے گھر والے چار دنوں سے اُسے تلاش کر رہے تھے، اُس کے سسرال والوں نے بتا دیا تھا کہ وہ چار دن قبل شام کو میکے جانے کا بتا کر غائب ہو چکی تھی۔دوسری طرف زوہیب بھی گم تھا، اُس کے گھر والوں کو پولیس نے الگ سے پریشان کیا ہوا تھا۔ایک دن پولیس کو دریا سے لڑکی کی نعش ملی۔اُنہوں نے تمثیلہ کے والدین کو بھی شناخت کے لئے بلوا لیا تھا اوروہ شناخت ہو چکی تھی۔والدین نادم الگ تھے اور بڑی بیٹی کا دُکھ الگ تھا۔

زوہیب کی ضمانت تک تو اُس کے دوست نہیں کروانے آئے تھے، وہ اپنے دوست کے گھر سے پولیس کے ہاتھ آیا تھا، اُس سے پولیس نے پوچھ گچھ کرلی تھی، اُس کے خلاف سائبر کرائمز کے تحت مقدمہ کا اندراج ہو چکا تھا۔اُ سکے ایک دوست کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا جو کہ اس کے ساتھ تصویر کو واہیات بنانے میں شامل تھا۔اُسے خودکشی کی طرف مائل کرنے پر مجبور کرنے کی وجہ سے عدالت نے بھی رعایت برتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی تھی۔زوہیب کے والدین بھی اب اُس علاقے کو چھوڑ کر جا چکے تھے۔

محبت جیسے پاکیز ہ جذبے کی توہین تو الگ ہوئی تھی مگر اعتبار ٹوٹنے نے دو گھرانوں کو برباد کر دیا تھا، سب تمثیلہ اور زوہیب کے کردار پر بات کر رہے تھے مگرکوئی یہ سمجھنے کو تیار نہیں تھا کہ محبوب کی عزت و وقارباقی نہ رہے تو محبت محض نام کی ہی رہ جاتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 303 Articles with 263382 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
17 Jul, 2020 Views: 587

Comments

آپ کی رائے