درس قرآن 61

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)
سورۃ قمر
قرآن کریم، رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی نبوت اور رسالت پر گواہ کے طور پر، دیگر سب کلاموں پر فوقیت کا حامل ہے، یہاں تک کہ کوئی شخص اس جیسا کلام نہیں لاسکتا اور نہ ہرگز کوئی لاسکے گا۔ قرآن مجید کے معجزہ ہونے کے متعدد دلائل ہیں۔
قرآن کریم، انسانی زندگی کے تمام ضروری پہلوؤں کو شامل ہے، جیسے عقائد، سياست، اقتصاد، اخلاق، جنگی فن، علمي مطالب، غيبي خبریں اور کئی دیگر عناوین۔
اسی طرح کلام مجید اس دور میں نازل ہوا جب لوگوں میں سائنسی اور علمی بحثیں نہیں ہوا کرتی تھیں، تو قرآن نے ایسی سائنسی بحثیں بیان کیں جن میں سے بعض کا انکشاف آجکل کی سائنس کررہی ہے اور بعض بحثوں سے فی الحال سائنس عاجز ہے۔
قرآن مجید نے ایسی پشینگوئیاں کی ہیں جو بعض وقوع پذیر ہوچکی ہیں اور ان کے ذریعہ قرآن کی حقانیت اور صداقت ثابت ہوچکی ہے، بعض پشینگوئیاں مستمر اور جاری کیفیت کی حامل ہیں اور بعض ایسی پشینگوئیاں ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے کا ابھی وقت نہیں آیا اور ان کا تعلق مستقبل سے ہے، جیسے صالحین کی حکومت اور دنیابھر میں عادلانہ حکومت کا انعقاد۔
آئیے ذرا سورۃ قمر کے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سورۃ میں ہمارے لیے کیا بیان ہواہے ۔
سورۂ قمر اس آیت ’’سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ‘‘ کے علاوہ مکیہ ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ القمر، ۴/۲۰۱، جلالین، سورۃ القمر، ص۴۴۰)
اس سورت میں 3رکوع،55 آیتیں ،342کلمے اور1423حروف ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ القمر، ۴/۲۰۱)
’’قَمر ‘‘نام کی وجہ تسمیہ :
عربی میں چاند کو قمر کہتے ہیں ۔اِس سورت کی پہلی آیت میں چاند کے پھٹ جانے کا بیان کیاگیا ہے ،اس مناسبت سے اس کا نام ’’سورۂ قمر‘‘ رکھا گیا ہے ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے رات میں سورۂ سجدہ،سورۂ قمر اور سورۂ ملک کی تلاوت کی تو یہ سورتیں ،شیطان اور شرک سے اس کی حفاظت کریں گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے درجات میں بلندی عطا کرے گا۔
( کنز العمال، کتاب الاذکار، قسم الاقوال، الباب السابع، الفصل الاول، ۱/۲۶۹، الجزء الاول، الحدیث: ۲۴۱۰)
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت ،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت اور قرآنِ مجید کی صداقت وغیرہ اسلام کے بنیادی عقائد کے بارے میں بیان کیا گیا ہے ،نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں
(1)…اس سورت کی ابتداء میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایک معجزہ اور کفارِ مکہ کے طرزِ عمل کو بیان فرمایا گیا۔
(2)… حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مشرکین سے اِعراض کرنے اور انہیں قیامت قریب آنے اور اس دن انہیں پہنچنے والی سختیوں سے ڈرانے کا حکم دیاگیا۔
(3)…حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کے لئے اِختصار کے ساتھ سابقہ امتوں میں سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم،قومِ عاد،قومِ ثمود،حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور فرعون کی قوم کے حالات اور ان کا انجام بیان کیا گیا اور کفارِ قریش کو مُخاطَب کر کے ان امتوں کے انجام سے ڈرایا گیا ۔
(4)…اس سورت کے آخر میں بد بخت کفار کا حال اورسعادت مند مُتّقی لوگوں کی جزا کو بیان فرمایا گیا۔
محترم قارئین :
چودہ صدیاں قبل اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کےلیے قرآن نازل فرمایا اور حق کی تلاش کے لیے اس کتاب کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ۔ اپنے نزول کے دن سے روز قیامت تک یہی مقدس کتاب تمام انسانیت کی رہنمائی کا واحد ذریعہ ہے ۔ قرآن حکیم کا منفرد اندازِ بیان اور عظیم دانائی اس کابین ثبوت ہیں ۔ کہ یہ کلام الٰہی ہے ۔ قرآن کی ایک ایک صفت یہ ثابت کرتی ہے کہ بے شک یہ اللہ عزوجل ہی کاکلام ہے کسی انسان کا کلام نہیں ۔ قرآن عظیم کی ایک نمایاں صفت اس میں بیان کئے گئے وہ سائنسی حقائق ہیں جن کاآج سےپہلے جاننا ممکن نہ تھا ۔مگر قرآن نے چو دہ سو برس پہلے انہیں بیان کردیا۔بلاشبہ قرآن پاک سائنس کی کوئی کتاب نہیں ہے لیکن ا س میں بیان کئے گے بہت سےسائنسی حقائق جوبیسویں صدی کی ترقی اور ٹیکنالوجی ہی کی بدولت دریافت ہوئے ہیں ۔قرآن حکیم کے نزول کے وقت ان سائنسی حقائق کاجاننا اور دریافت کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ قرآن پاک خدا کاکلام ہے
رکھ تارہ گڑھ مندرہ گوجرخان


 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 353 Articles with 304620 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
22 Jul, 2020 Views: 209

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ