‎پاور آف دیسی پیرنٹس

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

یہاں ایک نوجوان گرین کارڈ ہولڈر دیسی جوڑے کے ہاں شادی کے سال بعد بیٹا پیدا ہؤا ۔ بچے کا نام بھارت میں بیٹھے اس کے دادا نے تجویز کیا جو کہ کچھ پرانی وضع کا تو تھا ہی یعنی آج کل اس طرح کے ناموں کا رواج تقریباً متروک ہو چکا ہے اب تو بچوں کے نت نئے منفرد و نایاب قسم کے نام رکھے جاتے ہیں ۔ مگر اس بچے کے لیے مجوزہ نام کچھ دقیانوسی سا ہونے کے ساتھ ساتھ چار حصوں پر بھی مشتمل تھا ۔ یہاں امریکہ میں کسی بھی دفتری کارروائی میں اپنے کوائف درج کرنے کے لیے متعلقہ فارم پر نام کے لیے تین حصے ہوتے ہیں یعنی پہلا درمیانی اور آخری ۔ کسی کا نام تین کی بجائے صرف دو حصوں پر مشتمل ہو تو وہی پہلا اور آخری کہلاتا ہے ۔ اور اگر تین سے زیادہ حصے ہوں تو تھوڑی پیچیدگی کا سامنا رہتا ہے ۔ بچے کے دادا کو سمجھایا گیا کہ اس اتنے لمبے چوڑے نام کی وجہ سے دفتری کارروائی میں بہت دقت پیش آئے گی ، آپ اس میں سے کوئی ایک حصہ کم کر دیں مگر وہ نہیں مانے اور اپنی ضد پر اڑ گئے کہ جو نام میں نے جس طرح سے بتایا ہے ویسا ہی رکھنا ہو گا اس میں سے کوئی حصہ کم نہیں کیا جائے گا ۔ مجبوراً درمیان والے دو حصوں کو جوڑ کر انہیں ایک ہی شکل دی گئی اور اس میں بھی حروف کی طوالت کی وجہ سے ہجوں میں تھوڑی سی تبدیلی بھی کی گئی تاکہ فارم پر موجود گنجائش کے مطابق درج کیا جا سکے ۔ اور اس جوڑے نے اس فیصلے کو کس دل سے قبول کیا ہو گا اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بچے کو پکارنے کے لیے اپنی پسند سے کچھ اور نام رکھ لیا اور باقی سب لوگ بھی وہی نام جانتے ہیں اصل نام تو صرف کاغذات پر ہی رہ گیا ہے یا پھر دادا کے دل پر لکھا رکھا ہے ۔
بہرحال اسے کہتے ہیں دیسی پیرنٹس کی پاور ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ماں باپ کا کوئی حق نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور بیٹھ کر ہر بات میں اپنی مرضی کریں مگر کم سے کم ان معاملات میں تو ہٹ دھرمی نہیں دکھانی چاہیئے جن کا تعلق کسی دفتری کارروائی اور اس کے قانونی تقاضوں سے ہو ۔ لوگ امیگرنٹ ویزے پر آتے ہیں اکثر ہی پہلے اکیلے آتے ہیں تاکہ پہلے خود سیٹ ہو جائیں پھر فیملی کو بلائیں مگر ماں باپ واویلا مچا دیتے ہیں کہ تم ابھی سے بلا لو گے تو یہاں گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے ابھی تو فلانا قرضہ اتارنا ہے تو بھائی کو پڑھانا ہے تو بہنوں کی شادیاں کرنی ہیں تمہیں کیا جلدی ہے بیوی کو بلانے کی؟ اور ایک لیگل آدمی کئی کئی سال تک یہاں چھڑوں چھانٹوں والی زندگی گذارتا ہے ، وطن کا چکر بھی اتنی آسانی سے نہیں لگتا کہ گھر والوں کی طرف سے آئے دن کسی نا کسی مطالبے یا فرمائش کی وجہ سے اس غریب کی جیب میں اتنا بچتا ہی نہیں کہ جس سے وہ ٹکٹ کرا سکے ، طرح طرح کے حیلوں ہتھکنڈوں سے اسے یہیں رکے رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ ایسی ایسی نابغہ مخلوق پائی جاتی ہے جو گھر کے اندر نیا فرنیچر بھی والدین کی اجازت کے بغیر نہیں ڈال سکتی اور اب تو وڈیو کال کی بہتات نے ویسے بھی انہیں چکر دینا کوئی آسان نہیں رکھا ۔ جو جتنا فرمانبردار ہوتا ہے اتنا ہی پستا ہے اور بلی کا بکرا بنا رہتا ہے خواہ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا ہو یا ان کے بِنا مگر پتہ نہیں اسے کیا گھول کے پلا رکھا ہوتا ہے دیار مغرب کی سرزمینوں پر پیر رکھ لینے کے باوجود وہ اُن کے ہاتھوں سے نکلتا نہیں ہے ۔ پیرنٹس کی توپوں کا رخ ہمیشہ اپنی پردیسی مشرقی اولاد ہی کی طرف رہتا ہے ایک ذرا ان کی مرضی کے خلاف چلی کبھی زبان کھولی سو دفعہ ہاں کر کے ایک بار ناں کری ...... گولہ باری اور ایموشنلی بلیک میلنگ شروع ۔ اور ایسے میں ہر سادہ لوح غریب الوطن کو اپنے پیروں تلے سے زمین یعنی ماں کے قدموں تلے سے اپنی جنت سرکتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ (رعنا تبسم پاشا)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 168 Articles with 1020431 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jul, 2020 Views: 1553

Comments

آپ کی رائے