جنرل ضیا الحق کا دور اور پپو کا قاتل

(Muhammad Hanif, Karachi)
 
کبھی کبھی کسی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے دل کرتا ہے کہ قاری کے سامنے ہاتھ جوڑوں، اس کے پاؤں پکڑوں اور عرض کروں کہ صرف تین منٹ کی بات ہے، سن لیں، گالی دیں، اختلاف کریں، بحث کریں لیکن ایک انٹرنیٹ یا وٹس ایپ پر پڑھا ہوا جھوٹ تاریخی سمجھ کر منہ نہ پھیر لیں۔
 
خیر پور سے ایک استاد کے ہاتھوں بچوں کے ریپ کی خبر آئی۔ غالباً کچھ تصویریں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں، ان کو دیکھنے کا حوصلہ ہوا نہ تجسس۔
 
اس کے بعد ایک تاریخی واقعے کا بیان چھیڑا گیا کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں ایک بچے پپو کا ریپ اور قتل ہوا۔ مجرم کو سر عام پھانسی دی گئی اور اس کے بعد 15 سال تک پاکستان میں کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی۔
 
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمارا ضمیر اس وقت تک نہیں جاگتا جب تک کوڑے کے ڈھیر سے بچے کی لاش نہ ملے۔ یا بہت ہی ہولناک ویڈیو یا تصویر وائرل نہ ہو جائے۔
 
 
پھر ہم سر عام پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں، مجرم کے ٹوٹے ٹوٹے کرنا چاہتے ہیں۔ بچوں کا باپ ہونے کے حوالے سے میں یہ جذبات سمجھتا ہوں۔
 
میں بھی شاید کسی مجرم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اور خود تارا مسیح بننے کی آفر کروں۔
 
جب پپو کے قاتل کو سرِ عام پھانسی ہوئی تو میں خود بچہ تھا اور یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ اس کے بعد 15 سال تک پاکستان میں کسی بچے کے ساتھ جنسی آزاری نہیں ہوئی۔
 
کچھ مہینے پہلے اسی موضوع پر ایک مضمون لکھنے کے لیے تھوڑی تحقیق کی۔ اپنے ساتھیوں دوستوں جاننے والوں اور ان کے جاننے والوں کی باتیں یاد کیں اور کچھ سے دوبارہ پوچھا۔
 
ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ بچپن میں جنسی زیادتی نہیں ہوئی تھی۔
 
 
یا اس کی کوشش نہیں ہوئی۔ گندے طریقے سے چھونے سے لے کر ریپ تک اور یہ جنسی زیادتی کرنے والے وہی تھے جن کو بچے کے والدین قابل اعتبار سمجھتے تھے۔
 
چاچا، ماما، خانساماں، ڈرائیور، ٹیچر، قاری، ٹیوٹر اور بعض دل دہلا دینے والے واقعات میں باپ اور بھائی کبھی سگے اور کبھی سوتیلے۔
 
یاد رکھیں میں اس نسل کی بات کر رہا ہوں جو اس وقت بچے تھے جب پپو کے قاتل کو سرِ عام پھانسی ہو چکی تھی۔
 
اور اب ہمارے سامنے ایک اور نسل ہے۔
 
ایک طرف لاہور کا گرامر سکول جہاں مڈل کلاس کی بھاری فیس دینے والے انگریزی میڈیم کے بچے پڑھتے اور اقوام متحدہ طرز کے مباحثوں کا حصہ بنتے ہیں۔
 
وہ بھی اپنے انگریزی میڈیم استادوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔
 
ایک طرف خیر پور کے غریبوں کے بچے ایک ٹیوٹر کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔
 
مجھے ایک نوجوان لڑکی نے بتایا کہ جب وہ ابھی کم سن تھی تو اپنے والدین کے ساتھ حج کرنے گئی تو وہاں طواف کرتے ہوئے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی گئی۔ میرے منہ میں خاک ۔
 
لیکن ہر اس منہ میں بھی خاک جو یہ کہتا ہے کہ پپو کے قاتل کی سر عام پھانسی کے بعد پاکستان میں پندرہ سال تک کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی۔
 
چوکوں پر پھانسیاں دیں، مجرموں کی بوٹیاں کر کے چیلوں کو ڈال دیں۔ جو کرنا ہے کر لیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ مسئلہ ہمارے گھروں میں، سکولوں میں، مدرسوں میں ورکشاپوں میں، ٹرک اڈوں اور بس اڈوں میں، جھونپڑیوں میں اور کوٹھیوں میں ہر جگہ موجود ہے۔
 
یہ قبیح فعل کرنے والے آپ کے پیارے ماموں بھی ہو سکتے ہیں۔ ایلیٹ سکول کے انگریزی بولنے والے استاد بھی، قاری بھی اور آپ کے ابو کے دوست بھی۔
 
ہو سکتا ہے ان میں سے کسی کو آپ جانتے بھی ہوں۔ تو اگر آپ نے اپنے بچوں کو اس زیادتی سے بچانا ہے تو پھانسیوں کے ساتھ ساتھ کچھ مسئلے کی آگاہی کا مطالبہ بھی کریں۔ جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے انھیں تماشہ نہ بنائیں۔ لیکن ان کی آواز کو دبائیں بھی نہ۔ اس وقت کا انتظار نہ کریں جب کُوڑے پر ایک اور بچے کی لاش پڑی ہوئی ملے۔
 
سفید پوش صاحب نے پہلے خود کو اور پھر پہلوان کو جانچا اور پھر متانت سے کہا ارے صاحب کچھ نہیں۔ آپ نے جو دال پھینکی وہ اتنی لذیذ ہے کہ سوچا آپ کو نیچے بلا کر اس کی ترکیب ہی پوچھ لیں۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد حنیف

Read More Articles by محمد حنیف: 5 Articles with 2264 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2020 Views: 176

Comments

آپ کی رائے