رحمت بنی زحمت

(Ayesha Afreen, karachi)
پاکستان میں بارشوں سے ہونے والی تباہی

بارش قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے ۔ کالے گہرے بادل، مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے ساتھ برستی بارش ہر انسان کا دل خوشی سے بھر دیتی ہے۔ گرمی کے ستائے ہوئے لوگ مون سون کے سیزن کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں تاکہ گرمی کا زور ٹوٹ سکے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی مون سون کے سیزن کا آغاز ہوتے ہی ملک کے مختلف شہروں میں بادل خوب جم کر برسے۔ ساون کی ایسی جھڑی لگی کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ پرندے بھی برستی بارش سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ لیکن اللٰہ کی اس رحمت کو اداروں کی ناقص کارکردگی نے زحمت میں بدل دیا۔ مختلف شہروں میں بارش کے باعث چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور دیگر واقعات میں متعدد افراد زخمی جبکہ کئ افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی حکمران اپنے عالیشان گھروں میں بیٹھے بارش کا نظارہ کرنے اور اس سے لطف اندوز ہونے میں مصروف رہے ۔ اور دوسری طرف عوام اپنے مسائل سے خود نمٹنے کی کوشش کرتے رہے ۔
مون سون کا سیزن گزرنے کے بعد ہر سال حکمرانوں کی جانب سے آئندہ اس قسم کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے عوام سے وعدے کئے جاتے ہیں لیکن کبھی کوئی ایسا سال نہیں آ تا جب عوام ان وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ سکیں ۔ ٹوٹی پھوٹی بدحال سڑکیں چند ملی میٹر بارش کے بعد حکمرانوں کے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دیتی ہیں ۔ جگہ جگہ پڑے ہوئے گڑھے جو کہ ہر بارش میں مختلف حادثات کا سبب بنتے ہیں انہیں بھرنے کی زحمت نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ہونے والے ایکسیڈینٹس میں کئی زندگیوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں ۔ اور لوگ معذور بھی ہو جاتے ہیں۔
بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی بجلی کی فراہمی کا ادارہ جو معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تیزی سے حرکت میں آتا ہے اور مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل کر دی جاتی ہے اور بارش رکنے کے بعد بھی گھنٹوں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے اور بجائے اس کے کہ لوگ بارش سے لطف اندوز ہوں وہ ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اور ہر بار عوام کو بجلی کا نظام بہتر ہونے کے جو فریب دئے جاتے ہیں وہ عوام کیلئے محض سراب کے کچھ نہیں ۔ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث نہ صرف عوام اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اس سے ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہےٍ۔ کارخانوں، فیکٹریوں اور دیگر اداروں کا نظام رک جاتا ہے اس کے علاوہ کئی علاقوں میں وولٹیج کم زیادہ ہونے کے باعث الیکٹرانک اشیاکو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔
بارش کی پیشن گوئیوں کے باوجود باقی اداروں کی طرح کے ایم سی کا ادارہ بھی خواب خرگوش کے مزے لیتا نظر آتا ہے ۔ شاہراہوں اور گلی محلوں میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں ۔ گٹروں کے ڈھکن غائب ہوتے ہیں ندی نالوں کی صفائی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی اخبارات اور ٹیلی ویژن کے ذریعے توجہ دلانے کے باوجود ذمہ داران کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ رواں سال بھی کراچی میں سندھ حکومت کی طرف سے ہر ڈپٹی کمشنر کو پانچ ، پانچ کروڑ کی رقم نالوں کی صفائی کیلئے جاری کی گئی ہے لیکن تا حال نالوں کی صفائی کا کام مکمل نہیں کیا جا سکا ۔
ماہرین صحت کے مطابق برسات کے موسم کے بعد متعدد وبائی امراض بھی جنم لیتے ہیں ۔ جس میں وبائی زکام ، ملیریا ، ٹا ئیفائڈ ، ڈینگی بخار اور ہیپا ٹا ئیٹس اے سر فہرست ہیں ۔ بارشوں کے بعد اداروں کی جانب سے نکاسی آب کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا اور بارش کا پانی جگہ جگہ کھڑا ہو جاتا ہے اس پانی اور مختلف جگہوں پہ موجود کچرے کے ڈھیر کے اوپر مچھروں اور مکھیوں کے جھنڈ کے جھنڈ دکھائی دیتے ہیں جو کہ بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں حکومت کی جانب سے جراثیم کش اسپرے بھی نہیں کرائے جاتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی لوگ ملیریا ، ٹائیفائڈ اور ڈینگی بخار کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
حکومتی اداروں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے بارشیں ہمارے لئے رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ادارے اپنا کام ذمہ داری کے ساتھ پورا کریں تاکہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بارش سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل سکے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayesha Afreen

Read More Articles by Ayesha Afreen: 4 Articles with 1097 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2020 Views: 120

Comments

آپ کی رائے