کورونا اور تعلیمی سرگرمیاں

(Mishaal Haider, )

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

مارچ 2020 تعلیمی برادری میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔جب وبائی مرض کورونا وائرس کی وجہ سے تقریبا ـ تمام اسکولوں نے اپنے دروازے بند کردیے تھے۔کورونا وائرس سے نا صرف ترقی پزیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک پر بھی اس کے بہت سے اثرات مرتب ہوئے۔پاکستان کو ایک ترقی پزیر ملک ہونے کے ناطے بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔خوراک ، صاف پانی صحت کی دیکھ بھال کی کمی اور اس پر جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ سالوں سے اس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔’تعلیم کا حق ‘ (UDHR) The Universal Declartion of Human Rights انسانوں کی بقا کے سب سے اہم حقوق میں تعلیم کو بنیادی حق حاصل ہے۔جان ڈیونے کا کہنا ہے کہ:
’ تعلیم زندگی کی تیاری نہیں، تعلیم ہی زندگی ہے‘

حکومت نے سال 2020-21 کے تعلیم کے اموراور خدمات کے لیے وفاقی بجٹ میںRs 83.363 ملین رکھے ہیں۔ نظر ثانی شدہ 81. 25 Rsمختص کے خلاف رواں مالی سال کے لیے یہ تقریبا 2.5 فیصد کا معمولی اضافی دکھا رہا ہے۔ مالی سال میں (GDP) کے حساب سے تعلیم پر پاکستان کے عوامی اخراجات کا تخمینہ 2.3 فیصد ہے جو اس خطے میں سب سے کم ہے۔

تعلیم تک رسائی پاکستان میں پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ تھا۔22.8 ملین پاکستانیوں کے 70 ملین سے زیادہ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے تکنیکی عدم مساوات کو بے نقاب کردیا ہے۔ 50 ملین سے زیادہ اسکول اور یونیورسٹی جانے والے پاکستانیوں کو اب پیچھے گرنے کا خطرہ ہے۔ان بندوشوں کی رفتار اور فاصلاتی تعلیم کے تیز رفتا راقدام نے دونوں ممکنہ خطرات پر منصوبہ بندی یا عکاسی کرنے اور اس کے خلاف حفاظت کی قوت اور فائدہ اٹھانے کے امکانی مواقع کے لیے بہت کم وقت دیا ہے۔

ہر بحران کے ساتھ سخت چیلنجز اور تبدیلی کے مواقع آتے ہیں۔اسی طرح جب حکومت نے آن لائن کلاسز کو متعارف کروایا تو پاکستان بھر کے سینکڑوں طلباء نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا کیونکہ یہاں انٹرنیٹ کی ناقص سروسز دیکھنے کو ملی اور خاص کر دور دراز صوبوں میں جیسے بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان کے لیے بڑا مسئلہ تھا۔

پاکستان میں جہاں کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے مارچ سے اب تک 3لاکھ سے زائد اسکول بند ہیں۔لاہور کے حسین پرائیوٹ اسکول کے طلبہ خوش قسمت ہیں جو دیجیٹل پلیٹ فارم اور ایپلی کیشن کے ذریعے سیکھنے کو جاری رکھنے کے قابل ہے۔لیکن لاکھوں دوسرے پاکستانی طلباء کے لیے منسلک لائف اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی چیزیں ان کے دسترس سے باہر ہیں۔

IBA کے شعبہء اکنامکس کے طالب علم کو بھی یونیورسٹی بند ہونے کی بدولت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وہ اپنے آبائی شہر تربت واپس لوٹ گئے جہاں 3G/4G کو ریج نہیں تھی۔ اب وہ ہر صبح اپنی موٹرسائیکل پرشہر سے باہرایک گھنٹے کی مسافت طے کرکے جہاں درجہ حرارت 50 ڈگری تک چلا جاتا ہے روز دوست کے گھر جاتا ہے تا کہ لیکچر ڈاؤن لوڈ کرسکیں اور وہاں بھی کبھی کبھی بجلی نہیں ہوتی یا کبھی انٹرنیٹ کے سنگلز نیچے چلے جاتے ہیں۔

پاکستان کے ٹیلی مواصلاتی اتھارٹی کے مطابق ، واقعی ہوم براڈ بینڈ پاکستان کے بڑے شہروں سے باہر مہنگا ہے،اس سال اسمارٹ فونز کی رسائی51 فیصد ہے اور صرف دس لاکھ اسکول جانے والے بچوں کو ڈیجیٹل آلات اور بینڈ وڈتھ تک باقاعدگی سے رسائی حاصل ہے۔تاہم تقریبا 40 ملین پاکستانی بچوں کو ٹیلی وژن تک رسائی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ’ٹیلی اسکول‘ نامی سرشار ٹی وی چینل سے اپنی کورونا وائرس سے دوری سیکھنے کی حکمت عملی کو شروع کیا ۔

بعض ایسے مسائل بھی درپیش آئے جہا ں طلبہ و طالبات کے گھر میں انٹرنیٹ کے قابل آلات صرف ایک اسمارٹ فون ہے جس کو دفتر کے کاموں کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔

ابتدائی طور پر اسکولوں کو 15 جولائی کو دوبارہ کھلنا تھا ۔لیکن سرکاری عہدیداروں نے کہا ہے کہ اگر کوروناکے اعداد و شمار میں کمی آئی تو وہ 15 ستمبر کو دوبارہ کھول سکتے ہیں۔ٹی وی چینل ٹیلی اسکول میں صرف جولائی کے وسط تک نشر کرنے کے لیے کافی مواد موجود ہے اور وزیر تعلیم نے مطالبہ کیا ہے کہ سیکھنے کے لیے نئی ایپلی کیشنز اورآن لائن مشمولات کے مستحکم بہاؤ کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

بچوں کی میڈیا کمپنیوں نے حکومت کے بڑے تعاون سے تعلیم کے منظر نامے کو تبدیل کیا۔انہوں نے تعلیم آباد ایپ متعارف کی جو پرائمری اسکول کے بچوں کو قومی نصاب سیکھانے کے لیے کارٹون اور کھیل استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان میں شائد ہی کسی اچھے فنڈ سے چلنے والے بچوں کے میڈیا یا تعلیمی میڈیا کے اقدامات ہوں۔

میوز سباق(MuseSabaq)، پرائمری گریڈ کے اسباق کے ایک ایوارڈ یافتہ لرننگ ایپ کے مطابق اسمارٹ فون میں داخل ہونا مثال نہیں تھا، یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔اس سال ہر ماہ دس لاکھ نئے کنیکشن شامل کیے گئے۔ اسمارٹ فون کسی بھی دوسرے ڈیوائسز کی نسبت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ابھی وبائی مرض کی بدولت،ایڈٹیک کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اسکول بند ہونے کے بعد سے ، تعلیم آباد ایپ کی شرح میں 660% اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور میوز سباق میں200% اضافہ ہوا ہے۔

تعلیم ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اسکے حصول کے لیے ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔کورونا سے نمٹنے کے لیے ہمیں احتیاطی تدابیر اور SOP'S کا خیال رکھنا چاہیے ہم ایک دن ضرور اس کو شکست دینگے اور کورونا فری پاکستان بنانے میں کامیاب ہونگے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mishaal Haider
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2020 Views: 364

Comments

آپ کی رائے