معاشرہ اور عورت

(گل صحرائی, Karachi)

ہم نے خوشیاں دینا کب سیکھا تھا ہم نے ھمیشہ زندگیاں چھیننے کی کوشش کی چلو جان سے نہیں مارتے مگر زندہ لاش تو بنا دیتے ہیں معاف کیجیئے گا مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کچھ مرد ہے جو عورت کو اذیت نہ دے تو انہیں اپنی مردانگی ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے دیکھے ہیں ایسے بھی بہت سے لوگ جو اپنے گھر کو خوشیاں اور سکون نہیں دے سکتے مگر دوسروں کو گھر کی سکون قائم رکھنے کی ترکیب بتا رہے ہوتے ہیں

ہمارے معاشرے کا ایک اور کڑوا سچ یہ بھی ہے غلطی ایک عورت کرے سزا سب کو سنائی جاتی ہے اکثر سنا ہے کہ عورت گناہ کرے تو ساری زندگی اس کو یاد دلائی جاتی ہے اگر وہی گناہ مرد کرے تو صرف ایک غلطی ہوتی ہے اور مرد انسان ہے ظاہر سی بات ہے غلطی انسان کرتا ہے فرشتے تھوڑی گناہ کرتے ہیں جو لوگ عورت کو مجرم اور مرد کو بے گناہ سمجھتی ہے چاہے مرد اور عورت ایک جتنے قصوروار ہو میں ان سے یہ کہونگی وہ کتاب مجھے دکھاؤ جس میں عورت کو فرشتہ کہا گیا ہو جس میں عورت کی غلطی کی گنجائش ہی نہ لکھی گئی ہو نہیں ہوگی ایسی کوئی بھی آسمانی کتاب جس میں عورت کو انسان نہیں فرشتہ لکھا گیا ہو

کیا ہوا آسمانی کتاب میں نہیں لکھا ہماری معاشرتی کتاب میں تو لکھا ہے معاشرہ تو مردوں کا ہے عورت تو غلطی کر ہی نہیں کر سکتی یہ سوچ جو معاشرے نے عورت کے لیے بنائی ہے انتہائی گھٹیا ترین سوچ میں اس کو سمجھتی ہوں جب اپنی گھر کی بیٹی بھاگ جائے تو عزت کا جنازہ نکلتا ہے مگر وہ ہی کام آپ کا بیٹا کرے کسی اور کی گھر کی عزت کو بھگا کے لے آئے تو اسے مردانگی کی شاباشی دی جاتی ہے

اکثر سننے میں آتا ہے معاشرہ کیا کہہ گا ؟ماشرہ وہی کہہ گا جو آپ سننا پسند نہیں کرینگے معاشرہ ہم سے بنتا ہے اور جس معاشرے کی سوچ ہی کام کی نہ ہو اس معاشرے کو ماننے سے انکار بہتر ہے جس روز لفظ معاشرہ آپ کی ذہن سے نکلے گا سمجھ لینا وہ دن آپ کی کامیابی کے ابتدائی دن ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گل صحرائی

Read More Articles by گل صحرائی: 10 Articles with 2309 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2020 Views: 124

Comments

آپ کی رائے