خیر کے پیشہ ور

(Sheeraz Khan, Karachi)

یہ بات تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے “جس نے ایک انسان کا ناحق قتل کیا اس نے گویا تمام انسانیت کا قتل کیا اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا“ ربِ کائنات نے ایک انسان کی جان کی حرمت کعبتہ اللہ سے زیادہ بتائی ہے، پھر کیا کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانون کو ھاتھ میں لے؟ پہلے میں یہ بات بتا دوں کہ میرا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے ہے اور میں میرے ایمان کا لازم جزو ہے میرے پیارے آقا صللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں میں سورہ حجرات کا حوالہ خاص طور پہ دینا چاہوں گا کہ اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے اونچا کرنے والوں کے بھی اعمال ضائع ہو جاتے ہیں میرے آقا کی ناموس پر میری لاکھوں جانیں قربان جائیں، وجہ کیا ہے آقا سے محبت کی کیا میں اس لئے آقا سے محبت کرتا ہوں کہ میرے مذہب میں شامل ہے؟ ہر گز نہیں،میں نے ہمیشہ اپنی آراء کو پرکھا ہے اللہ تعالیٰ کہ اس فرمان کے ذریعے جو وہ ایمان والوں کی نشانیاں بتاتے ہوئے فرماتا ہے کہ“ وہ بناء تصدیق کے بات کو کبھی بھی دوسری جگہ نہیں پہنچاتے ہیں، بلکہ اگر ہم اپنی طرف سے بھی کچھ بھیجتے ہیں تو یہ بے وقوفوں کی طرح اس پر ٹوٹے نہیں پڑتے“ میں نے اپنے آقا محمد صلی اللہ و آلہ وسلم کو جانا ہے سمجھا ہے اور تب یہ میرے ایمان کا حصہ ہے، ہم غور و فکر کو اتنا مشکل کام کیوں سمجھتے ہیں، رب کا تو یہی کہنا ہے کہ میری بات پر بھی غور و فکر کر کے عمل کرو، ہم کیوں اتنی آسانی سے لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں، جو جنت کا لالچ دے کر آپ سے کچھ بھی کروا لیں، جبکہ جنت ملنا اتنا آسان ہوتا تو کیا بات تھی، ہمارا مسئلہ ہے کہ ہم شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں اور جب جنت کا شارٹ کٹ دستیاب ہے تو وارے ہی نیارے- جناب اسلام دینِ فطرت ہے اور اندھی تقلید کی فطرت اور دین دونوں مخالفت کرتے ہیں، اوپر میرے نہیں ربِ کائنات کے الفاظ ہیں اس بارے میں۔
اس سے فرق کیا پڑے گا اس طرح کے انفرادی عمل کا ہمیشہ الٹا اثر ہوتا ہے، آپ اس ملک میں تو ان کو روک لیں گے لیکن یہ عمل باقی تمام دنیا کے سامنے ان کو مظلوم بنا دے گا اور اس سے ان کو اتنے فوائد حاصل ہوں گے کہ آپ کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی-
اب کچھ بات کر لیتے ہیں اس عمل کی واہ واہ کرنے والوں کی، آپ بغور ان کی تمام زندگی کا مطالعہ کریں، غورو فکر کریں شاید آپ ان کے بارے میں جان سکیں کے یہ فقط اپنے فائدے کے غلام ہیں میرا آپ کو بتانا میرے الفاط کا ضیاں ہے۔ اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹائیں شر کی ضرورت سب سے زیادہ خیر کے پیشہ وروں کو ہوتی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheeraz Khan

Read More Articles by Sheeraz Khan: 14 Articles with 4027 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2020 Views: 196

Comments

آپ کی رائے