"میں کون ہوں"

(Abdul Samad, Karachi)
کیسے ہم اپنی ذات میں بہتری لا سکتے؟ خود کو مناسب وقت مہیا کر کے۔۔۔

السلام عليكم
 
ایک پاکستانی ہونے کی حثیت سے ایک اہم پیغام اپنے ہم وطن نوجوانان تک پہچانا چاہتا ہوں۔. عصر حاضر میں شاگردوں اور نوجوانوں کی طرف سے کثیر تعداد میں پوچھے جانے والے سوال "ہم کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں ؟" کا جواب عرض کرنا چاہتا ہوں کے "کامیابی ایک احساس ہے جسے مختلف لوگ مختلف نقطہ نظر اور انداز سے دیکھتے ہیں۔اور میرے مطابق یہ دل کے مطمئن ہونے کا نام ہے۔جیسے کے کافی لوگ سرکاری نوکری حاصل کرنے کو کامیابی سمجھتے ہیں، کافی لوگ بہت زیادہ امیر ہونے کو کامیابی سمجھتے ہیں، کافی لوگ مرضی کی گاڑی اور بنگلہ خریدنے کو کامیابی سمجھتے ہیں اور کافی شہرت کو کامیابی سمجھتے ہیں۔ آپ اسے جو بھی سمجھیں لیکن آپ خود سے مطمئن ہوں۔ اور اس کے لئے ہم سب کو خود سے سوال کرنا چاہیے کہ " میں کون ہوں؟" "میرا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے؟"تقریباً ساڑھے سات ارب کی انسانی آبادی کا آپ بھی حصّہ ہیں اور آپ یہ جانیں گے کہ ہر ایک انسان دوسرے سے مختلف ہے، چاہے وہ خصوصیات کی بنیاد پر ہو یا احساسات کی بنیاد پر۔ اس کے بعد اپنی الگ خصوصیات کو تلاش کریں اور انھیں فروغ دیں اور خامیوں کو کم کرنے کی ترکیب تلاش کریں۔ اپنے بارے میں اپنے والدین، قریبی دوست یا ساتھی اور اساتذہ سے معلوم کریں۔ خود کو وقت دیں۔ اس سے آپ خود میں تازگی اور تسکین محسوس کریں گے اور اپنی زندگی کا مقصد آپ کو واضح طور پر دکھائی دے گا۔ اور اس کے بعد اپنے روزمرہ کے کاموں کا اپنے مقصد سے تقابلی جائزا لیں آپ کو پتا چلے گا کہ آپ صحیح راہ پر گامزن ہیں یا نہیں؟ بہرحال خود کا موازنا دوسروں کے ہمراہ نہ کریں، آپ الگ ہیں اور اپنی صلاحیتوں پر کام کریں۔ کیا خوب کہا ہے کسی نے کہ " جس نے خود کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔" آپ کی کامیابی آپ کے اندر سے وابستہ ہے، خود کو سمجھنے کے بعد آپ کو اایسی کامیابیاں اور لطف حاصل ہوگا کہ آپ تصور ہی نہیں کر سکتے۔ لوگ کہتے ہیں زندگی ایک بار ملتی ہے، میں کہتا ہوں غلط کہتے ہیں۔ کیوں کہ ہم جیتے ہزاروں مرتبہ ہیں لیکن مرتے صرف ایک بار ہیں۔ زندگی جینے کا نام ہے گزارنے کا نہیں۔ لہذا خود کو پہچانے اور معاشرے کی باہمی ترقی میں بڑہ چڑہ کر حصّہ لیں۔

معاشرے کی ترقی میں ایک اہم عنصر یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ اس معاشرے/علاقے/ ملک کے لوگ کس ذہنیت یا سوچ کے مالک ہیں، آیا وہ محنت کش ہیں یا آرام پسند، ملک کے لیے وفادار ہیں یا مفاد پرست۔ انسان جو بھی سوچتا ہے اس کا اثر اس کے کردار اور شخصیت پر بلکل اسی طرح مرتب ہوتا ہے جیسے ایک قلم سے سیاہی نکل کر کسی کے سفید کپڑوں پر لگ جائے۔ لہٰذا اپنی سوچ کو مثبت رکھیں، اپنی ذات کو وقت دیں اور خود سے سوالات کریں کہ کیا میں اس مقام پر ہوں جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا؟ کیا میں اپنے کام سے خوش ہوں؟ کیا جو میں کام کر رہا/ رہی ہوں میری طبیعت اور مزاج کے مطابق ہے؟ کیا مزید بہتری لائی جا سکتی ہے؟ کیا میری ذات سے میرے ملک و قوم کو کوئی فائدہ ہے؟ سب سے اہم سوال میں خود سے کتنا مطمئن ہوں؟ اگر تو آپ ان سوالات کے جوابات کو پانے کی کوشش کریں گے تو آپ خود میں ایک بدلاو محسوس کریں گے جو کہ شاید آپ کی زندگی بدل دے۔ خود کو اپنی خواہشات کے تابع نا کریں بلکہ اپنی خواہشات کو اپنی ذات کے تابع کریں، پھر دیکھیں تماشا۔۔
ذرا سوچئے، فکر کیجئے۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Samad

Read More Articles by Abdul Samad: 9 Articles with 5794 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2020 Views: 599

Comments

آپ کی رائے